فیصلہ کسی کی ہار جیت نہیں، آئینی ترمیم کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے

ترجمان پاکستان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ فیصلہ کسی کی ہار جیت نہیں، آئین کے مطابق ہے، انتخابات کو شفاف بنانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے، الیکشن آرٹیکل 226 کے تحت کرانے ہی ہمارا موقف تھا، آئینی ترمیم کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ حکومتی ترجمان سپریم کورٹ فیصلے کو ٹوئسٹ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، درخواست یہی تھی کہ سینیٹ انتخابات قانون کے مطابق ہونی چاہیے، چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کا یہی مؤقف تھا کہ اوپن بیلٹ ہونا چاہیے، چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں انہوں نے الیکشن چوری کیا، جس کے ہم متاثرین ہیں، چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں عمران صاحب گلے مل رہے تھے، خوشیاں منا رہے تھے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے ابھی تک الیکشن کمیشن کو کوئی ڈائریکشن نہیں دی، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنا باقی ہے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ صدارتی ریفرنس پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ انتخابات خفیہ ہی ہوں گے۔ عدالت نے سینیٹ انتخابات سے متعلق رائے کا فیصلہ چار ایک کی اکثریت سے دیا۔ جسٹس یحیٰ آفریدی نے فیصلے سے اختلاف کیا۔ سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت سینیٹ الیکشن خفیہ ہوں گے، الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کو یقینی بنائے، انتخابی عمل سے کرپشن ختم کرنا اور شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، کرپٹ پریکٹسز روکنے کےلیے الیکشن کمیشن جدید ٹیکنالوجی کی مدد لے، تمام ادارے الیکشن کمیشن کی معاونت کریں، ووٹ ہمیشہ خفیہ نہیں رہ سکتا، تفصلی وجوہات بعد میں دی جائیں گی۔
