فیصل قریشی نے بھارتی فلم انڈسٹری کی بینڈ کیسے بجائی؟

معروف پاکستانی اداکار فیصل قریشی نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی فلم پاکستان مخالف مواد کے بغیر کبھی بھی ہٹ ثابت نہیں ہو سکتی ہے، فلم کی کامیابی کیلئے پاکستان مخالف مواد کو لازمی قرار دیا جاتا ہے۔فیصل قریشی نے حال ہی میں فریحہ الطاف کے پوڈکاسٹ میں شرکت کے دوران اپنی اداکاری سمیت بالی ووڈ اور ہالی ووڈ میں کام کے تجربے سمیت ذاتی زندگی پر کھل کر بات کی، اداکار کے مطابق وہ بچپن سے شوبز میں کام کرتے آ رہے ہیں، سکول سے کالج کے زمانے تک وہ کمرشلز اور ٹیلی وژن پر کام کرتے رہے، ان کی پیدائش لاہور میں ہوئی، ان کے والد اردو زبان بولنے والے جب کہ والدہ میمن تھیں، وہ پنجابی نسل سے تعلق نہیں رکھتے۔فیصل قریشی نے 1992 سے لے کر 1996 تک انہوں نے کم عمری میں 19 فلموں میں کام کیا، جب ان کی عمر 19 سال ہوئی تو ان کے والد برین ہیمبرج کے باعث انتقال کرگئے، جب ان کی پہلی فلم ریلیز ہوئی تو اس وقت ان کے والد بیماری کے بسترے پر تھے اور وہ کوما میں تھے، علاج کے لیے ان کی والدہ کو تمام ملکیت فروخت کرنی پڑی، اس باوجود ان کے والد کی زندگی نہ بچ سکی۔اداکار کے مطابق وہ والدین کی اکلوتی اولاد ہیں اور جب والد کا انتقال ہوا تو انہیں مکان مالک نے وقت پر کرایہ نہ ادا کرنے کے باعث گھر سے نکال دیا تھا اور ان کا سامان باہر پھینک دیا گیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ سال قبل ان کا خطرناک روڈ ایکسینڈنٹ بھی ہوا جس میں ان کا سرویکل (cervical) شدید متاثر ہوا اور وہ چار ماہ تک بسترے تک محدود رہے۔فیصل قریشی کا کہنا تھا کہ انہوں نے آج تک بھارت میں کام نہیں کیا، کیوں کہ ان کی وہاں کے فلم سازوں سے نہیں بنتی، وہ ہر بات کھلے عام کہنے کی عادی ہیں، جس وجہ سے ان کے بھارتی مداح بھی ان سے ناراض رہتے ہیں۔اداکار کا کہنا تھا کہ بھارت میں اگر کسی کو بھی اپنی فلم کو کامیاب کرانا ہوتا ہے تو وہ اس میں پاکستان مخالف مواد شامل کردیتے ہیں، وہ پاکستان کو گالی دیتے ہیں، بھارت کی نیٹ فلیکس سیریز ہوں یا فلمیں وہ اس وقت ہی کامیاب ہوتی ہیں جب ان میں پاکستان مخالف مواد شامل کیا جاتا ہے، پاکستان میں شاہ رخ خان کی فلموں کو سپورٹ کیا جاتا لیکن انہوں نے بھی بعد میں وہ کام کیا اور پاکستان مخالف مواد تیار کرنے لگے۔اداکار کا اشارہ شاہ رخ خان کی پروڈکشن کمپنی ’چلی انٹرٹینمنٹ‘ کی جانب سے ’بارڈ آف بلڈ‘ نامی ویب سیریز کی جانب تھا، جس کا موضوع پاکستان مخالف ہے، ویب سیریز کے ٹریلر ریلیز کرنے کے موقع پر 2019 میں اس وقت کے پاک فوج کے ترجمان میجر آصف غفور نے بھی شاہ رخ خان کی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے انہیں یاد دلایا تھا کہ وہ پاکستان مخالف مواد بنانے سے قبل بھارت کے گرفتار کیے گئے جاسوس کلبھوشن یادیو کو یاد کرلیں۔
