شیدے ٹلی ‘نے بھی پریس کانفرنس کی تیاری شروع کر دی؟

سینئر صحافی مزمل سہروردی نے دعویٰ کیا ہے کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا انٹرویو بھی آنے والے دنوں میں متوقع ہے۔ شیخ رشید سیاست چھوڑنے کے لیے تیار ہیں لیکن انہیں مجبوراً آئی پی پی میں شامل ہونا پڑے گا۔ شیخ رشید جلد ہتھیار ڈال دیں گے کیونکہ انہوں نے اپنے سیاسی کیرئیر میں پہلے کبھی اس طرح کے دباؤ کا سامنا نہیں کیا۔نیا دور ٹی وی پر ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے مزمل سہروردی نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی پاکستان تحریک انصاف کا ایک ‘ سیاسی کوڑے دان’ ہے اور فرخ حبیب ‘روحانی لوگوں’ کی تجویز پر اس کوڑے دان میں کود پڑے ہیں۔مزمل سہروردی نے کہا کہ فرخ حبیب نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ کچھ ‘روحانی لوگوں’ نے ان کی آئی پی پی میں شمولیت میں مدد کی۔ یہ ‘ روحانی لوگ’ وہ ہوتے ہیں جو پوشیدہ رہتے ہیں لیکن جب ظاہر ہوتے ہیں، تو کوئی کچھ نہیں دیکھ سکتا۔تجزیہ کار مزمل سہروردی نے کہا کہ چند روز قبل فرخ حبیب کی اہلیہ نے اپنے شوہر کی بازیابی کے لیے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو خط لکھا تھا تاہم پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کے سابق رہنما کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلے کرنے کے لیے روپوش ہوئے تھے.

تجزیہ کار نے کہا کہ فرخ حبیب کو آئی پی پی میں شامل ہونے میں کافی وقت لگا۔ فرخ حبیب کی پریس کانفرنس میں نہ جہانگیر ترین اور نہ ہی علیم خان موجود تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تھرڈ کلاس انٹری تھی۔ فرخ حبیب کا آئی پی پی میں کوئی مستقبل نہیں۔ سیاست میں ان کا دور ختم ہو چکا ہے۔خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات رہنے والے فرخ حبیب نے بھی پی ٹی آئی چھوڑ کر استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔پریس کانفرنس میں فرخ حبیب نے چیئرمین پی ٹی آئی پر سنگین الزامات عائد کیے ۔فرخ حبیب نے الزام عائد کیا کہ عمران خان نے لوگوں کا ذہن بنایا جس سے وہ اپنی افواج کے خلاف لڑنے کے لیے نکل آئے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پاس 2 آپشن تھے کہ آدم کے راستے پر چلوں یا شیطان کے ؟ میں نے آدم کا راستہ اختیار کیا ہے۔فرخ حبیب نے پی ٹی آئی تو چھوڑ دی تاہم انہوں نے جاتے جاتے چیئرمین پی ٹی آئی پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ فرخ حبیب کے الزامات سے پی ٹی آئی کو پہنچنے والے نقصان نقصان بارے سوال کے جواب میں سینیر تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ سابق پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب روپوش رہنے کے بعد ایک دم سامنے آئے ہیں اور ایسی باتیں کر رہے ہیں جن کی وہ خود پہلے مخالفت کر چکے ہیں۔اگر آپ ان کے پہلے کے بیانات دیکھیں اور اب کے بیانات دیکھیں تو اس میں 100 فیصد تضاد ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام باتیں ایک خاص ماحول میں ہو رہی ہیں لیکن ان باتوں کا پی ٹی ائی کارکنان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما اس وقت ڈرے ہوئے ہیں۔ پولیس ان کے تعاقب میں ہے اور کسی بھی وقت کوئی بھی مقدمہ قائم ہونے کا خدشہ ہے۔ ایسے میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی کسی بھی گفتگو کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پر الزامات کا فائدہ پی ٹی آئی مخالفین کو ہوگا کہ وہ انہیں دہرایا کریں گے کہ فرخ حبیب جیسا رہنما بھی یہ بات کہتا رہا لیکن جو پی ٹی آئی کے حامی ہیں ان پر ان الزامات کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔

سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ پی ٹی آئی چھوڑنے والے زیادہ لیڈر حلقے کی سیاست کرتے تھے تاہم فرخ حبیب ایک پولیٹیکل ورکر ہیں۔ وہ زمانہ طالب علمی ہی سے سیاست میں ہیں اور بالکل نیچے سے اوپر آئے ہیں۔’فرخ حبیب نے کل جو بھی کہا ہے پاکستان تحریک انصاف کے کارکن اس کو بالکل جھوٹ سمجھ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کارکن جوش و جنون کی آخری حد تک چلے گئے ہیں اور اس مقام پر انہیں حقیقت کی بات سنائی نہیں دے رہی۔ پی ٹی آئی کارکنان سمجھتے ہیں کہ جو بھی عمران خان کو چھوڑتا ہے وہ ان کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کارکن عمران خان کو چھوڑنے والوں کو برا بھلا کہتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں‘۔سہیل وڑائچ نے کہا کہ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں رہنے والی بیشتر مڈل کلاس فیملیز اب بھی سمجھتی ہیں کہ پی ٹی آئی اور عمران خان پاکستان کو مسائل سے نجات دلا سکتا ہیں۔ اگر عام انتخابات صاف اور شفاف ہوں تو فرخ حبیب یا ان جیسے دیگر رہنماؤں کے الزامات کا اثر پی ٹی آئی پر نہیں پڑے گا۔ پی ٹی آئی شہری علاقوں میں واضح اکثریت کے ساتھ جیت سکتی ہے۔سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ پی ٹی آئی کی بطور سیاسی جماعت ایک بہت بڑی کمزوری ہے کہ ان کی پارٹی کا کوئی سٹرکچر نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے پاس ووٹر اور امیدوار موجود ہیں لیکن یہ دیکھا جا رہا ہے کہ لیڈر اور ووٹر کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔’یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کو کسی بڑے احتجاج میں نہیں دیکھا گیا، نہ ہی کارکنان نے کوئی جلوس نکالا ہے۔ ماضی میں ہم نے دیکھا کہ مارشل لا میں بھی پیپلز پارٹی کے جیالوں نے جلوس نکالے اور احتجاج کیے جبکہ مسلم لیگ نون کے کارکنان نے بھی بھرپور احتجاج کیے۔ اس دوران سینکڑوں کارکنان اور جیالے گرفتار کوئے۔ تاہم اب ایسا نظر آرہا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنان احتجاج اور جلوس سے پیچھے ہٹ چکے ہیں۔ اگر پارٹی کو زندہ رکھنا ہے تو کارکنان کو قربانیاں دینا ہوں گی‘۔

Back to top button