پٹرول کی قیمت میں 40 روپے کا حکومتی ریلیف عارضی کیوں؟

حکومت پاکستان کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں قابل ذکر کمی کے اعلان پر مسلسل مہنگائی کے بوجھ تلے دبے پاکستانی عوام نے کسی حد تک سکھ کا سانس لیا ہے۔ وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے اتوار کی شام جاری کیے گئے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں فی لٹر 40 روپے کمی گئی ہے، جس کے بعد اب ایک لٹر پٹرول کی نئی قیمت 283 روپے 83 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 15 روپے فی لٹر کی کمی کے ساتھ اب 303 روپے 18 پیسے ہو گئی ہے۔
وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق نگراں حکومت نے عوام کو ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 40 روپے فی لیٹر کی ریکارڈ کمی کی ہے، پیٹرول کی قیمت میں کمی روپے کی قدر میں اضافے اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث ممکن ہو سکی ہے تاہم گزشتہ چند دنوں سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے، ماہرین کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں کمی ڈالر کی قدر میں کمی کے باعث ہوئی ہے، اگر ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری رہا تو یکم نومبر کو پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان جاری ہے۔ خام تیل کی قیمت 27 ستمبر کو 95 ڈالر فی بیرل تھی جو کہ 6 اکتوبر کو 82 ڈالر فی بیرل تک گر گئی تھی تاہم اب خام تیل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل ہے۔
ماہر معیشت عابد سلہری کے مطابق تیل کی قیمتوں میں ہر 15 روز بعد ردوبدل اسی لیے کیا جاتا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی یا اضافے کے مطابق ہی قیمت کا تعین کیا جا سکے، پیٹرول کی قیمت میں حالیہ کمی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے باعث نہیں ہوئی، یہ کمی روپے کی قدر میں اضافے کے باعث کی گئی ہے۔
عابد سلہری نے کہا کہ فلسطین اور اسرائیل کی جنگ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہے گا تاہم پاکستان میں روپیہ جس قدر مستحکم ہو رہا ہے، وہ اس اضافے کے اثرات کو کنٹرول کر لے گا، اگر آئندہ چند روز روپے کی قدر میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جائے گا، تاہم اگر ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا تو پھر یکم نومبر سے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ یقینی ہو گا۔
دوسری جانب ماہر معیشت ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں گزشتہ 15 دنوں میں 48 روپے کی کمی ہوئی ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ڈالر ذخیرہ کرنے والوں اور حوالہ ہنڈی کا کاروبار کرنے والے والوں کے خلاف آپریشن سے روپے کی قدر میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 95 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 84 ڈالر فی بیرل ہوئی اور اب دوبارہ 90 ڈالر ہو گئی ہے۔ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا کہ یہ بتانے کے لیے کہ یکم نومبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا یا نہیں، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ پاکستان نے خام تیل کی خریداری کس وقت اور کس ریٹ پر کی ہے، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یکم نومبر کو قیمتوں میں معمولی کمی ہو گی یا پھر قیمتیں برقرار رہیں گی۔
تاہم ماہر معیشت ڈاکٹر سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کے ساتھ اوپر نیچے ہوتی ہے، اس وقت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے، اگر مزید بڑھے گی تو پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمتوں کو بڑھانا ہو گا، اسرائیل اور فلسطین کی جنگ کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، اگر تیل کی سپلائی میں کوئی خلل پڑتا ہے تو پھر پاکستان میں پیٹرول کی قیمت بالکل اوپر جا سکتی ہے۔ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہاکہ ڈالر کی قدر میں کمی کی وجہ سے بھی پیٹرول کی قیمت میں کمی آ رہی ہے، لیکن ڈالر کی جو کمی ہے وہ ذخیرہ اندوزوں اور اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کا نتیجہ ہے، اگر اسمگلرز نے کوئی اور راستہ نکال لیا تو پھر تو جو ڈالر کا ریٹ وقتی طور پر نیچے آیا ہے وہ اوپر چلا جائے گا۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بھی بالکل بند ہے وہ بھی کھولنی پڑے گی۔انہوں نے کہاکہ یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ بہت سے جو ٹیکسز اور ڈیوٹیز عائد ہیں تو اس سے لوگ اسمگلنگ کا رخ کرتے ہیں، ان تمام چیزوں میں ابھی تک غیر یقینی کی کیفیت ہے، دیکھنا ہو گا کہ اسمگلنگ بالکل ختم ہو سکتی ہے کہ نہیں۔
اقتصادی امور کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی شعیب نظامی کے مطابق ”پاکستانی معیشت براہ راست ڈالر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید کم ہو گئیں تو پاکستان کے پاس موقع ہو گا کہ وہ اپنے ہاں مہنگائی پر قابو پا سکے۔ لیکن اس کے لیے حکومت کو ڈالر کی شرح تبادلہ کو قابو میں رکھنا ہو گا۔‘‘
واضح رہے کہ نگراں حکومت نے گزشتہ 2 ماہ میں پیٹرول کی قیمت میں 58 روپے 43 پیسے کا اضافہ کیا تھا جس کے بعد یکم اکتوبر کو پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے اور اب 15 اکتوبر کو پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 40 روپے کی ریکارڈ
مریم نواز GCیونیورسٹی میں نوجوانوں سے خطاب سے انکاری کیوں؟
کمی کر دی گئی ہے۔
