قاتلانہ حملہ، ٹرمپ کا موازنہ عمران خان سے کیوں ہونے لگا؟

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ ہونے کے بعد پاکستان میں پی ٹی آئی کے حامیوں سمیت کئی سیاسی تجزیہ کار امریکا کی صورتحال کا موازنہ پاکستان کی سیاسی صورتحال سے کررہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کی طرح امریکا میں بھی سیاسی انتہاپسندی اور تقسیم انتہا پر ہے، ایک جیسے رویے، حالات اور بیانات پر ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے۔ جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان حکومت جانے کے بعد مختلف کیسوں کا سامنا کررہے ہیں، الیکشن مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو نومبر 2022ء میں آزادی مارچ کے دوران عمران خان بھی قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے تھے۔
جہاں ایک طرف پاکستان سمیت دنیابھر سے عالمی رہنماؤں کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کی مذمت کی جا رہی ہے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ڈونلڈ ٹرمپ پر حملہ اس وقت موضوع بحث بنا ہواہے وہیں پاکستانی صارفین کی جانب سے اس حملے کو عمران خان پر ہونے والے حملے سے تشبیہ دی جارہی ہے۔
ایک ایکس صارف طلعت بن زمان نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی حملے کے بعد کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ پر حملہ ایک جیسا ہے، دونوں رہنما اپنے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔
عمران خان نامی ایک اور ایکس صارف نے اپنی پوسٹ میں ٹرمپ پر ہونے والے حملے کو عمران خان پر ہونے والے حملے سے تشبیہ دے دی۔
لوسی مورگن نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ناقابل یقین، دو ملک لیکن ایک جیسی کہانی
ایک اور ایکس صارف نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ گولی لگنے کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ میں یہیں ہوں جو کرنا ہے کر لو ڈرنے والا نہیں ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ بھی مزاحمت میں عمران خان کے راستے پر چل پڑے ہیں۔
جہاں ایک طرف ایکس صارفین اس حملے کو عمران خان پر ہونے والے حملے سے تشبیہ دے رہے ہیں وہیں کئی صارفین اس پر تنقید بھی کررہے ہیں۔
ایک ایکس صارف نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ عمران خان اور ٹرمپ میں فرق یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر پلستر نہیں چڑھائے گا اور نہ ویل چیئر پر بیٹھ جائے گا۔
دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد ٹرمپ کو ’ہمدردی کا ووٹ‘ ملنے میں اضافے کا امکان ہے۔ ٹرمپ پر حملے سحر جوبائیڈن کی سیاسی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ نہ صرف جوبائیڈن کی ٹرمپ مخالف تنقیدی مہم ختم کر دی گئی ہے بلکہ جوبائیڈن حکومت کی جانب سے حملے کے حوالے سے وضاحتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ واقعے نے ڈیموکریٹک پارٹی کو دفاعی پوزیشن میں ڈال دیا ہے جبکہ ریپبلکن کے ٹرمپ مخالف حلقے بھی خاموش ہوگئے ہیں، قاتلانہ حملے کے بعد ٹرمپ پر الزامات کے منفی اثرات فی الوقت پس پردہ چلے گئے جس سے امریکی انتخابات پر گہرا اثر پڑے گا۔
مبصرین کے مطابق قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد اپنے زخمی کان اور خون آلود چہرہ کے ساتھ سیکرٹ سروس کے حصار میں اسپتال جانے سے قبل ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنا ہاتھ اٹھا کر ’’فائٹ، فائٹ‘‘ کا نعرہ بلند کرک اپنے حامیوں، امریکی عوام اور دنیا کے سامنے جس جرات اور عزم کا اظہار کیا ہے اس کے سیاسی اور عوامی اثرات امریکا کے صدارتی انتخابات اور انتخابی مہم پر بھی پڑیں گے۔ اس واقعہ نے نہ صرف ری پبلکن پارٹی کے بعض ٹرمپ مخالف حلقوں کو خاموش کرکے پارٹی کو متحد کرکے ٹرمپ کی نامزدگی اور پارٹی کی متفقہ سپورٹ کی راہ کو ہموار کردی ہے بلکہ صدارتی انتخابات میں بھی ڈونالڈ ٹرمپ کی کامیابی کے امکانات کو مزید روشن کردیا ہے جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کو دفاعی پوزیشن میں ڈال دیا ہے۔ ٹرمپ نے نہ صرف اپنے حامیوں اور پارٹی کے حوصلے بلند کردیئے ہیں بلکہ اپنے مخالف امیدوار ڈیموکریٹ صدر بائیڈن کی نیٹو ممالک کی کانفرنس میں پرفارمنس اور ضعیف العمری کی حالت کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ اس قاتلانہ حملہ کے واقعہ کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف نیویارک کی عدالت کے فیصلے اور دیگر الزامات کے منفی اثرات فی الوقت پس پردہ چلے گئے اور ٹرمپ کو ’’ہمدردی کے ووٹ‘‘ کا اضافہ بھی ہونے کا امکان ہے۔ مختصر یہ کہ قاتلانہ حملہ کا واقعہ امریکا کے صدارتی انتخابات پر گہرا اثر پڑے گا۔
