قانون پاس ہونے کے باوجود الیکشن کمیشن کے تحفظات برقرار

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے اگلے الیکشن کروانے کا بل پاس کروائے جانے کے باوجود الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تحفظات برقرار ہیں اور اس نے واضح کیا ہےکہ اس حوالے سے ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ 2023 کے الیکشن آئندہ انتخابات مشین سے ہو پائیں گے یا نہیں؟
یاد رہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا بل پاس کروائے جانے سے پہلے ہی الیکشن کمیشن نے وفاقی حکومت کو تحریری طور پر آگاہ کردیا تھا کہ اس سسٹم کے تحت اگلے الیکشن کا انعقاد کروانا ممکن نہیں ہے چونکہ ایک تو اس سسٹم کے کمپرومائز ہونے کا قوی امکان موجود ہے اور دوسرا وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔ پاکستان کی تمام بڑی اپوزیشن جماعتوں نے بھی نئے سسٹم کے تحت الیکشن کروانے کی حکومت خواہش کو دھاندلی کا منصوبہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ تاہم الیکشن 2018 میں آر ٹی ایس سسٹم کے بیٹھ جانے سے اقتدار میں آنے والے وزیراعظم عمران خان کی ضد تھی کہ اگلے الیکشن الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے تحت ہی کروائی جائیں لہذا اب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے تمام تر قواعد و ضوابط کو بلڈوز کرتے ہوئے اس قانون کو پاس کروا لیا گیا ہے۔
لیکن دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تمام تحفظات برقرار ہیں اور اسکا اصرار ہے کہ بطور ایک آزاد اور خود مختار آئینی ادارے کے یہ فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے حکومت نے نہیں کہ الیکشن کس سسٹم کے تحت ہوں گے۔ اس معاملے پر سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال آئندہ عام انتخابات میں ہوگا یا نہیں، ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اسکے استعمال میں سنجیدہ ترین چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قانون سازی کے باوجود آئندہ انتخابات میں ای وی ایم کے استعمال سے پہلے 14 مراحل سے گزرنا ہوگا۔ جن میں خاص طور پر ای وی ایم کے استعمال سے متعلق مزید تین سے چار پائلٹ پراجیکٹ کرنا پڑیں گے۔‘ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ایک پولنگ سٹیشن پر کتنی الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں ہوں گی، اس کا اندازہ لگانا اور پتہ چلانا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی صورت میں ای وی ایم کے ممکنہ استعمال، کسی بھی تکنیکی خرابی کی صورت میں ووٹنگ کے متبادل نظام اور ووٹنگ کے بعد اتنی بڑی تعداد میں مشینوں کو سنبھال کر رکھنے سے متعلق الیکشن کمیشن کے تحفظات برقرار ہیں اور الیکشن کمیشن ان تمام معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ لہذا ابھی یہ کہنا ممکن نہیں کے قانون سازی کے بعد اگلے الیکشن الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے تحت ہی ہوں گے۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان نے کہا کہ قانون سازی کے تحت نئی مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں کرنا ہوں گی۔ ای وی ایم کا بل تو پاس ہوگیا لیکن ہم اس کے مطابق انتخابات کرانے کے پابند نہیں ہیں، ان مشینوں کے استعمال میں ہمیں کافی وقت لگے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ’انڈیا کو اس سسٹ کو اپنانے میں 20 سال اور برازیل کو 22 سال کا عرصہ لگا تھا۔ لیکن ابھی تک ان ممالک میں مکمل طور پر یہ سسٹم نافذ نہیں ہو سکا لہذا ضروری نہیں کہ بل پاس ہونے کے بعد ہم مشینوں کو فوری استعمال کرنے کا پابند بھی یو جائیں۔ اگر نیا سسٹم لانے کا مقصد الیکشن کی شفافیت کو یقینی بنانا ہے تو فوری طور پر ایسا ہوتا ممکن نہیں آرہا کیونکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سسٹم کی ساکھ پر ابھی سے سوالات اٹھنے شروع ہو چکے ہیں۔
یاد رہے کہ بدھ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ملک میں اتنخابات کے مروجہ طریقہ کار تبدیل کرتے ہوئے ووٹنگ الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے کرانے کے قانون کی منطوری دی گئی تھی۔ اس قانون کے تحت الیکشن کمیشن آئندہ عام انتخابات سے قبل الیکٹرونک ووٹنگ مشینیں خریدے گا اور ان کے ذریعے ہی انتخابات کروائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ اس مشین کے چار حصے ہیں۔ پہلا حصہ ایک بڑے ٹیلی فون سیٹ کی طرح ہے جس پر کِی پیڈ، چھوٹی سکرین، شناختی کارڈ ڈالنے کی جگہ اور انگوٹھا سکین کرنے کا سینسر لگا ہوا ہے۔ اس حصے میں چپ کے ذریعے کسی بھی حلقے کے 50 ہزار ووٹرز کا ڈیٹا چند سیکنڈز میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ پولنگ سے پہلے متعلقہ پریزائیڈنگ آفیسر ٹیکنیکل ٹیم کی طرف سے فراہم کیے گئے خفیہ کوڈ اور پاسورڈ کے ذریعے مشین کو آپریشنل کرے گا۔ ووٹ ڈالنے کے لیے آنے والا ووٹر شناختی کارڈ پولنگ عملے کو دے گا جو کارڈ کو مشین میں ڈالے گا۔ شناختی کارڈ کی تصدیق ہونے کی صورت میں سکرین پر ٹک کا نشان سامنے آ جائے گا جس کے بعد سینسر کے ذریعے بائیو میٹرک ویری فیکیشن ہوگی۔ اس حصے کو ووٹر’شناختی یونٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔
دوسرے مرحلے میں ووٹر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے تیسرے حصے پر چلا جائے گا جبکہ دوسرا حصہ پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس ہو گا جس پر سرخ اور سبز رنگ کی بتیاں لگی ہوں گی۔ جونہی پریزائیڈنگ آفیسر بٹن دبا کر ووٹ ڈالنے کی اجازت دے گا تو سبز رنگ کی لائٹ جل جائے گی جس سے پولنگ ایجنٹس کو پتہ چل سکے گا کہ اب ووٹ ڈالا جا رہا ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے اس حصے کو ’کنٹرول یونٹ ‘ کہا جاتا ہے۔ تیسرا حصہ ’بیلٹ یونٹ‘ کہلاتا ہے جس میں متعلقہ حلقے کے امیدواروں کے انتخابی نشان حروف تہجی کی ترتیب سے درج ہوں گے۔ پریزائیڈنگ آفیسر کی جانب سے کنٹرول یونٹ سے ووٹ ڈالنے کی اجازت ملنے کے بعد ووٹر خفیہ جگہ پر رکھے بیلٹ یونٹ پر اپنی پسند کے انتخابی نشان کو دبائے گا جس کے بعد اس کے ساتھ رکھے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے چوتھے اور آخری حصے یعنی ’بیلٹ باکس‘ میں ووٹر کی پسند کے امیدوار کی پرچی پرنٹ ہوکر گِر جائے گی۔ پرنٹ ووٹر کے سامنے نکلے گا اور وہ خود اسے بیلٹ باکس میں ڈالے گا یہ دونوں آپشن زیر غور ہیں۔
جونہی پولنگ کا وقت ختم ہوگا پریزائیڈنگ آفیسر ایک کمانڈ کے ذریعے چند منٹوں میں متعلقہ پولنگ بوتھ کا فارم 45 کا پرنٹ نکال سکے گا۔ لیکن تصدیقی عمل میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے کیونکہ بعض اوقات نشان انگوٹھے کی تصدیق میں مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔تصدیقی عمل کے بعد 10 سے 15 سیکنڈز کا کام ہے تاہم الیکشن کمیشن نے عالمی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین بنانے والوں کو ہدایت کی تھی کہ ایک منٹ میں دو ووٹ اور زیادہ سے زیادہ تین ووٹ ہی کاسٹ کیے جانے چاہیں۔ تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے تحفظات کا اظہار کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس قانون سازی کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ہے لہذا اگلے الیکشن نئے سسٹم کے تحت کروانے کے امکانات ابھی معدوم نظر آتے ہیں۔
