الیکشن کمیشن کن اعتراضات کی بنا پر عدالت جا سکتا ہے؟

وزیراعظم عمران خان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے اگلے الیکشن کروانے کی ضد پوری کرنے کے لیے قانون سازی تو کر لی ہے لیکن زور زبردستی سے کیے جانے والے اس عمل سے اپوزیشن کے ان الزامات کو تقویت ملی ہے کہ حکومت دراصل اس سسٹم کے ذریعے اگلے الیکشن کو بھی آر ٹی ایس سسٹم کی طرح اوپر نیچے کر کے جیتنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس امکان کا اظہار بھی کیا جارہا ہے کہ الیکشن کمیشن حالیہ قانون سازی کو سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کر سکتا ہے کیونکہ الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے اور وہ اس حوالے سے مکمل طور پر آزاد اور خود مختار ہے کہ الیکشن کس طریقہ کار کے تحت کروایا جائے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس حکومتی منصوبے پر 37 بڑے اعتراضات اٹھاتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اگلا الیکشن الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے ذریعے کروانا ممکن نہیں ہوگا، تاہم وزیراعظم عمران خان نے زور زبردستی کرتے ہوئے آئی وی ایم کا قانون پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروا لیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس ادارے نے الیکشن کروانا ہیں کیا وہ اس پوزیشن میں ہے کہ اس قانون پر عمل کرتے ہوئے اگلے الیکشن کروا سکے اور انکی ساکھ بھی بچا سکے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے تجویز کردہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سسٹم پر کئے جانے والے اعتراضات کو اپوزیشن جماعتوں نے ای وی ایم سسٹم کے خلاف ایک ایف آئی آر قرار دیا تھا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کو پیش کی گئی ایک دستاویز میں خبردار کیا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے آسانی سے چھیڑ چھاڑ کی جا سکتی ہے اور اس کا سافٹ وئیر آسانی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ کمیشن نے بتایا تھا کہ یہ یقینی بنانا تقریباً ناممکن ہے کہ ہر مشین ایمانداری سے کام کر سکے۔ اسکے علاوہ ای وی ایم کی بڑے پیمانے پر خریداری اور انسٹالیشن اور اسے چلانے والے آپریٹرز کی بڑی تعداد کو ٹریننگ دینے کے لیے وقت بہت کم ہے۔ کمیشن کا موقف تھا کہ ویسے بھی ایک ہی وقت میں ملک بھر میں ای وی ایم سسٹم لانا ممکن نہیں کیونکہ ایسا تو ان ممالک میں بھی نہیں ہو سکا جہاں 20 برس پہلے یہ سسٹم متعارف کروایا گیا تھا، ویسے بھی اس مشین سے قانونی ضرورت کے مطابق ایک ہی دن پولنگ کرانا ناممکن ہوگا۔ ای سی پی نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو دی گئی اپنی دستاویز میں میں ای وی ایم کے استعمال بارے دیگر کئی مسائل کا بھی بتایا تھا جن میں بیلٹ پیپر کی رازداری، مشینوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا اور انہیں بریک اور ٹرانسپورٹیشن کے دوران سنبھالنے کا مسئلہ بھی شامل تھا۔ اس بات کی بھی نشان دہی کی گئی تھی کہ انتخابی تنازع کی صورت میں کوئی ثبوت دستیاب نہیں ہوگا، اس کے علاوہ بیلٹ پیپر میں تبدیلی کے حوالے سے آخری لمحات میں عدالتی احکامات کی وجہ سے ڈیٹا انٹیگریشن اور کنفیگریشن کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ مشین رکھنے کے لیے دھول اور نمی سے پاک مناسب درجہ حرارت والے گوداموں کا نہ ہونا بھی ایک مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ سب سے بڑا مسئلہ ہے یہ ہو گا کہ ملک کی 60 فیصد سے زائد آبادی دیہاتوں میں مقیم ہے جہاں پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو چلانے کے لیے انٹرنیٹ سسٹم اور بجلی کی بلاتعطل فراہمی ممکن نہیں ہو گی۔ اسی طرح اس سسٹم کو چلانے کے لیے تکنیکی آپریٹرز کے سیکھنے کے لیے بہت سی چیزیں ہیں، ویسے بھی ای وی ایم پر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان کوئی اتفاق رائے نہیں تھا جوکہ مالی طور پر بھی درست ثابت نہیں ہوگی۔
الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ای وی ایم ووٹرز کی کم تعداد، خواتین کا کم ٹرن آؤٹ، ریاستی اختیارات کا غلط استعمال، انتخابی دھوکا دہی، الیکٹرانک بیلٹنگ، ووٹ خریدنا، امن و امان کی صورتحال، پولنگ کا عملہ، بڑے پیمانے پر سیاسی ، انتخابی تشدد اور ریاست کے ساتھ زیادتی کو نہیں روک سکتا۔ لہٰذا جلد بازی میں یہ ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی صورت میں آئین کے مطابق آزاد، منصفانہ، قابل اعتماد اور شفاف انتخابات کا انعقاد بھی ممکن نہیں رہے گا۔ اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی تھی کہ جرمنی، ہالینڈ، آئرلینڈ، اٹلی اور فن لینڈ نے سیکورٹی کی کمی کی وجہ سے ای وی ایم کا استعمال ترک کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اپنے یہ اعتراضات سینیٹر تاج حیدر کی سربراہی میں قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کو جمع کروائے تھے۔ تاہم کپتان حکومت نے ان اعتراضات پر کان دھرنے کی بجائے اگلے الیکشن الیکٹرانک ووٹنگ مشین سسٹم کے ذریعے کروانے کی منظوری حاصل کر لی ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آخری فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے اور اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اس حکومتی قانون سازی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردے۔
