قربانی کا واحد دنبہّ ، شہباز شریف

تحریر:نصرت جاوید، بشکریہ : روزنامہ نوائے وقت

پیر کی شام ایک بار پھر قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے الیکشن کمیشن کو 121 ارب روپے کی وہ رقم فراہم کرنے سے انکار کر دیا جس کی ادائیگی کا حکم چیف جسٹس عمر عطا بندیال صاحب نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات 14 مئی کے روز یقینی بنانے کی خاطر دیا تھا۔ مذکورہ ”انکار“ کے بعد ہمارے ”ذہن سازوں“ کی اکثریت اپنے ٹی وی پروگراموں کے ذریعے یہ طے کر چکی ہے کہ سپریم کورٹ وزیر اعظم شہباز شریف کو ”توہین عدالت“ کا مرتکب ٹھہراتے ہوئے سیاسی عمل میں حصہ لینے کے لئے ”نا اہل“ ٹھہرا دے گا۔ یہ نا اہلی اس سے قبل ان کے بڑے بھائی نواز شریف کا بھی مقدر ہوئی تھی۔ شریف برادران ”موروثی سیاست“ کی علامت تصور ہوتے ہیں۔ شہباز شریف بھی اپنے بھائی کی طرح نااہل ہو گئے تو تاثر یہ بھی ابھرے گا کہ شریف خاندان ”موروثی“ اعتبار سے نااہلی کا طلب گار رہتا ہے۔ اقتدار مل جائے تو اسے سنبھال نہیں سکتا۔

ذاتی اور ہمیشہ ”سرسری“ ملاقاتوں کے دوران شہباز شریف میرے ساتھ نہایت احترام سے ملتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود میں ان سے منسوب ”انتظامی صلاحیتوں“ کا ناقد رہا۔ میری دانست میں وہ ایسے انداز حکومت کی پیروی کرتے ہیں جسے انگریزی زبان میں ”ٹاپ ڈاؤن ماڈل“ کہا جاتا ہے۔ کئی محققین نے بے تحاشا کیس سٹڈیز کے بعد یہ دریافت کیا ہے کہ مذکورہ ماڈل دیرپا اور پائیدار ”ترقی“ کی ضمانت نہیں۔ ”حکم حاکم“ کا محتاج رہتا ہے جس کی وجہ سے ”جمہوری ثقافت“ بھی بن کھلے مرجھائی رہتی ہے۔

انتظامی صلاحیتوں پر توجہ مرکوز رکھنے کی وجہ سے شہباز صاحب کامیاب سیاستدانوں کی طرح فقط عوامی طاقت پر تکیہ کرتے نظر نہیں آتے۔ پاکستان کے تاریخی حقائق کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیشہ یاد رکھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں اختیار و اقتدار کے ”اصل مراکز“ کون ہیں۔ وہاں موجود لوگوں سے رابطے استوار کرنے کے چکر میں مصروف رہتے ہیں۔ ”نیویں نیویں“ رہتے ہوئے ریاست کے دائمی اداروں میں کلیدی عہدوں پر براجمان افراد سے ”شراکت اقتدار“ انہیں بخوشی قبول ہے۔

مذکورہ بالا رائے کے اظہار کے بعد میں یہ بھی اصرار کروں گا کہ شہباز صاحب پنجابی محاورے والے ’بھولے تو ہیں مگر اتنے بھی نہیں ”۔ گزشتہ برس کا نومبر مثال کے طور پر ان کے منصب کے لئے بہت کڑا تھا۔ اس مہینے میں ایک“ تعیناتی ”ہونا تھی۔ عمران خان صاحب کی فراغت کے بعد قمر جاوید باجوہ صاحب ابتدا اپنی میعاد ملازمت میں مزید توسیع کے خواہاں تھے۔ اپنی زیر نگرانی“ صاف ستھرے انتخابات ”یقینی بناتے ہوئے تاریخ میں یاد رکھے جانے کے خواہش مند تھے۔ اسی باعث عمران خان صاحب کی جانب سے بھرے جلسوں میں“ میر جعفر ”پکارے جانے کے باوجود ایوان صدر میں سابق وزیر اعظم کی دلجوئی کے لئے ملاقاتیں کرتے رہے۔ عمران خان صاحب بھی ان کی میعاد ملازمت میں“ تھوڑی ”توسیع کے لئے رضا مندی کا اظہار کرنا شروع ہو گئے۔ شہباز صاحب اس ضمن میں البتہ“ پکڑائی ”نہیں دیے۔

شہباز صاحب نے ”تعیناتی“ کے ضمن میں جو مبہم رویہ اپنائے رکھا اس نے باجوہ صاحب کو ایک اور گیم لگانے کو مجبور کر دیا۔ میں اس گیم کی تفصیلات سے بے خبر نہیں۔ اخباری کالم میں انہیں بیان کرنے کی ہمت سے لیکن محروم ہوں۔ مکدی گل ویسے بھی یہ ہے کہ بالآخر شہباز صاحب نے باجوہ صاحب کو کسی بھی نوعیت کی ”توسیع“ نہ دی۔ اپنی ترجیح کے مطابق ہی نئی تعیناتی کی۔

مجھے شبہ ہے کہ ”نیویں نیویں دکھتی“ چالاکی ”سے شہباز صاحب نے نظر بظاہر خود کو“ توہین عدالت ”کے الزام سے بھی بچا لیا ہے۔ “ بطور وزیر اعظم ”انہوں نے الیکشن کمیشن کو مطلوبہ رقم فراہم کرنے سے انکار نہیں کیا ہے۔ ان کی کابینہ میں شامل وزرا نے بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا۔ الیکشن کمیشن کو رقم فراہم کرنے کا فیصلہ قومی اسمبلی کے سپرد کر دیا۔ نصابی اعتبار سے عوام کے براہ راست ووٹوں سے منتخب ہوئی قومی اسمبلی ہی قومی خزانے میں جمع ہوئی رقوم کے استعمال کی بابت حتمی فیصلہ سازی کی مجاز ہے۔ اسی باعث کسی بھی مالیاتی سال کا بل وہ منظور کرتی ہے۔ منظور شدہ بجٹ سے ہٹ کر جو ریاستی اخراجات ہوتے ہیں ان کی منظوری بھی قومی اسمبلی ہی سے“ سپلیمنٹری بجٹ ”کے ذریعے لی جاتی ہے۔ ریاست کا کوئی ادارہ ریاستی اخراجات کے تناظر میں اس اختیار کا“ سانجھے دار ”بننے کی کوشش کرے تو“ آئینی حدود ”سے“ تجاوز ”کرتا نظر آئے گا۔

الیکشن کمیشن کو مطلوبہ رقم فراہم نہ کرنے کی وجہ سے اگر واقعتاً توہین عدالت ”کا ارتکاب ہوا ہے تو وزیر اعظم شہباز شریف کی ذات اس کی واحد ذمہ دار نہیں۔ کثرت رائے سے“ انکار ”کرنے والی قومی اسمبلی اس کی“ اجتماعی ”ذمہ دار ہے۔ سپریم کورٹ اس کی وجہ سے“ توہین عدالت ”کا الزام لگا کر متحرک ہو جائے تو بے تحاشا اراکین اسمبلی کو“ نا اہل ”کرنا پڑے گا۔“ نا اہلی ”کے صحرا میں شہباز شریف لہٰذا خود کو“ تنہا ”محصور ہوا محسوس نہیں کریں گے۔

کسی بھی اسمبلی کی تحلیل کے بعد ”نوے روز کے اندر“ نئے انتخابات کا انعقاد یقیناً آئینی تقاضا ہے۔ صوبائی اسمبلی مگر پنجاب ہی کی تحلیل نہیں ہوئی۔ خیبرپختونخوا بھی صوبائی اسمبلی سے محروم ہو چکا ہے۔ ”نوے روز کے اندر“ خیبر پختونخوا کے ووٹروں کو نئے انتخاب کا حق دلوانے کے لئے چیف جسٹس اور ان کے عزت مآب ہم خیال البتہ اس بے تاب لگن کا اظہار نہیں کر پائے جو آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے کے حوالے سے منظر عام پر آیا ہے۔ ”آئین کا تحفظ“ یقینی بنانے کے لئے جو بنچ تشکیل ہوئے ان میں بھی خیبرپختون خواہ سے سپریم کورٹ تک پہنچے کوئی عزت مآب جج بیٹھے نظر نہیں آئے۔

قصہ مختصر میری دانست میں شہباز شریف نے خود کو قربانی کا واحد دنبہ ہونے سے بچا لیا ہے۔ یہ لکھنے کے باوجود میں بے چینی سے منتظر رہوں گا کہ ”وہ“ کیا کریں گے جواب میں۔

Back to top button