قومی اسمبلی: بداخلاقی روکنے کیلئے حکومت اور اپوزیشن متفق

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ بجٹ سیشن کے دوران ہونے والے ناخوش گوار واقعات کے بعد حکومت اور اپوزیشن نے ایوان کے اندر کارروائی روایات کے مطابق چلانے کے لیے اتفاق کیا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بجٹ پر اپنی تقریر چوتھے روز مکمل کی، جس کے بعد اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ اپوزیشن نے 10 جون کو ایوان سے منظور ہونے والے قوانین پر تحفظات کا اظہار کیا اور اس کے جائزے کے لیے 12 رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو ان اعتراضات کا جائزہ لے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے 6،6 اراکین شامل ہوں گے اور یہ کمیٹی قانونی طریقہ کار پر بھی غور کرے گی جبکہ اپوزیشن ان بلوں پر غور کے لیے کمیٹی کے قیام کے بعد عدم اعتماد کی تحریک واپس لے گی۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ یہ بھی طے ہوا ہے کہ آئندہ ایوان کی کارروائی میں غیر قانونی طریقے سے مداخلت نہیں ہوگی۔
اسد قیصر کے مطابق طے پایا ہے کہ :
لیڈر آف دی ہاﺅس، اپوزیشن لیڈر، پارلیمانی لیڈرز سمیت تمام اراکین کا ذاتی احترام ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔
حکومت اور اپوزیشن کے لیڈروں کی تمام تقاریر میں غیر قانونی مداخلت نہیں ہوگی۔
ذاتی حملے کرنے، روزل کا احترام نہ کرنے، گالم گلوچ اور ہاتھا پائی پر سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
غیرپارلیمانی طرز عمل اور الفاظ کی اجازت نہیں ہوگی اور اگر کوئی ہوئی قانون کے مطابق کاروائی ہوگی۔
اپوزیشن کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی نے اس حوالے سے اتفاق کیا اور سابق وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے کہا کہ اسپیکر نے کہا کہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو دیکھے گی کہ ہمارے خدشات اور جو قانون سازی ہوئی ہے اس کو کس طرح واپس لے سکتے ہیں یا دوبارہ باقاعدہ طریقے سے کرسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ اس طرح غیر پارلیمانی طور پر قانون سازی نہیں ہوگی اور اس کا راستہ روکا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں اور حکومت بھی اس طریقہ کار پر اتفاق کرتی ہے اور جو قوانین بنے ہیں وہ ہماری نظر میں آئینی اور قانونی تقاضہ بھی پوری کرتے ہیں اور اس پارلیمان کی روایات کے مطابق ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک قدم آگے جانے کو تیار ہیں اورکھلے دل کے ساتھ اس کمیٹی میں بیٹھیں گے اور دیکھیں گے ایسی کیا غیر قانونی چیز تھی وہ ہمیں نظر نہیں آئی۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی تقریر کے بعد جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی تقریر طویل تھی جس کا جواب دینے کے لیے طویل وقت درکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کی یہ بات دل کو لگی اور مجھے پسند آئی کہ یتیموں، بیواؤں اور جو کمزور طبقے ہیں ان کا خیال کرنا حکمرانوں کا کام ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بات میں مکمل تائید کرتا ہوں اورمجھے فخر ہے کہ ایک ایسی جماعت کا رکن ہوں جس کے قائد نے حکومت میں آنے سے پہلے بیواؤں اور یتیموں کی خدمت کی ہے شاید ہی کسی اور پاکستانی نے کی ہو۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ ملک میں مخیر حضرات فلاحی کام کرتے ہیں لیکن اولین ذمہ داری حکومت کی ہے، یہ سبق ہمیں مدینہ کی ریاست نے دیا۔انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف ان لوگوں کے ساتھ جا کر بیٹھیں جو لنگر خانے کے اندر آتے ہیں اور ان کو جس عزت اور احترام سے کھانے کو ملتا ہے تو شاید وہ مختلف بات کریں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سیکریٹریٹ اور وزیراعظم ہاؤس سے 108 کروڑ روپے سالانہ کمی کرکے یہ کام کیے جارہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ قائد حزب اختلاف نے ڈینگی پر قابو پانے اور کورونا کے حوالے سے ہماری حکومت کے اقدامات کا موازنہ کیا لیکن بصد احترام کہ فرق اسی سے ظاہر ہے کہ انہیں اپنے ایوان کے اندر کھڑے ہو کر بتانا پڑا کہ ڈینگی کے وقت انہوں نے کیا کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا نے حکومت نے پاکستان نے جو کام دیا اس کی گواہی کون دیتا ہے، لیری سومرز جو امریکا سابق وزیر خزانہ اور باراک اوباما کا چیف معیشت دان کہتا ہے کہ امریکا کورونا کے خلاف پاکستان کی طرح اقدامات کرتا تو کھربوں ڈالر بچاتا۔انہوں نے کہا کہ دنیا کا کامیاب ترین بزنس مین بل گیٹس کہتا ہے کہ پاکستان سے سیکھنا چاہیے، بھارت ناکام ہوگیا اور پاکستان کامیاب ہوا، عالمی صحت کا ادارہ کہتا ہے کہ دنیا کے 5 ممالک سے سیکھا جاسکتا ہے جن سے کورونا اقدامات کرنے کے لیے سیکھنا چاہیے، پاکستان ان میں سے ایک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ اکنامک فورم کہتا ہے کہ 7 ممالک ایسے ہیں جنہوں نے کورونا آنے کے بعد اپنی معیشت میں ایسے اقدامات کیے جو دنیا کے لیے مثال ہیں اور دنیا ان سے سیکھ سکتی ہے اور پاکستان ان میں سے ایک ہے۔
