ڈپٹی سپیکر ایک بار پھر بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے

اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے حکومت کی درخواست پر ڈپٹی اسپیکر کےخلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے،اپوزیشن آج عدم اعتماد کی تحریک واپس لینے کی درخواست جمع کرائےگی۔
اپوزیشن نے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کیخلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ایجنڈا بلڈوز کرکے جو قانون سازی کی اسے واپس لے۔اپوزیشن نے سپیکر قومی اسمبلی سے کمیٹی بنانے کا بھی مطالبہ کیا، اس کے جواب میں اسد قیصر نے کہا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس قانون سازی کے حوالے کمیٹی بنائی جائیگی۔
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے زیر صدارت اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تفصیلی بات ہوئی، جس میں حکومت کی طرف سے وفاقی وزرا پرویز خٹک، اسد عمر، فواد چودھری، علی محمد خان، عامر ڈوگر جبکہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے رانا ثناء اللہ، ایاز صادق ، رانا تنویر اور پیپلز پارٹی کی طرف سے راجہ پرویز اشرف اور شازیہ مری شامل تھے۔
ملاقات کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ اپوزیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ ڈپٹی سپیکر کیخلاف عدم اعتماد کی قرارداد واپس لے، اس پر مثبت پیشرفت کا امکان ہے۔ اپوزیشن اپنی قیادت سے مشورہ کرکے اس بارے میں آگے بڑھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ 186 ارکان نے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا تھا کہ اسمبلی اجلاس میں ہنگامہ آرائی سے پارلیمان کی سبکی ہوئی، سیاستدانوں کو اس پر ندامت کا سامنا کرنا پڑا، ایسا ماحول پیدا نہیں ہونا چاہیے جس سے ادارے فنکشنل نہ ہوں۔فواد چودھری نے بتایا کہ حکومت اور اپوزیشن معاہدے پر پہنچ گئے ہیں کہ قومی اسمبلی کا اجلاس احسن انداز میں چلایا جائے گا۔ ہم جمہوریت، آئین اور پارلیمان کو مضبوط بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو پہلے بھی کہتے رہے ہیں کہ وہ الیکٹورل ریفارمز اور جوڈیشل ریفارمز پر بات کرے۔انہوں نے بتایا کہ بات چیت میں تمام معاملات پر گفتگو ہوئی اور اتفاق ہوا کہ اسمبلی کے اندر ایسا ماحول پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی گئی جس میں معاملات کو دیکھا جائے گا کہ انہیں کس طرح کنٹرول کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں سپیکر کے اختیارات کو بڑھانے پر بھی بات ہوئی، اب کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ سپیکر کے اختیارات پر کس طرح نظر ثانی کی جائے اور انہیں کس طرح بڑھایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد واپس لے، اس پر بھی مثبت پیشرفت کا امکان ہے، اپوزیشن اپنی قیادت سے مشورہ کر کے اس بارے میں آگے بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ تضحیک کسی کی نہیں ہونی چاہئے لہذا یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان کو اپنی تقاریر میں ایک دوسرے کی تضحیک نہیں کرنی چاہیے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رہنما راجا پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ ہم نے احتجاجاً ڈپٹی اسپیکر کےخلاف عدم اعتماد کی قرارداد داخل کی تھی، اُن قوانین کو ڈسکس نہیں کیا گیا،امید کرتے ہیں آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔
اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکا کہنا تھا کہ لیڈر آف ہاؤس، اپوزیشن لیڈر اور تمام اراکین کا احترام ملحوظ خاطر رکھا جائےگا، اگرغیرپارلیمانی الفاظ استعمال ہوئے تو کارروائی ہوگی۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملاقات کے بعد راجا پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ اعتراض ڈپٹی اسپیکر کی طرف سے عجلت میں کی گئی قانون سازی پر تھا،آج اسپیکر نے اُس قانون سازی پردوبارہ غور کی یقین دہانی کرادی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت قانون سازی واپس لیتی ہے توڈپٹی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد واپس لے لیں گے۔
دوسری جانب ترجمان ن لیگ مریم اورنگزیب نے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی واپسی کی بالواسطہ تصدیق کرتے ہوئےکہا ہےکہ ہدف اب بڑا ہوگیا ہے۔مریم اورنگزیب کا کہنا ہےکہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینا ہوگی۔
خیال رہےکہ 10 جون کے اجلاس میں کورم کی نشاندہی نظرانداز کرنے پر اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکرکے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی جس کی ووٹنگ کل ہونا ہے۔

Back to top button