لاہور فضائی آلودگی میں ایک مرتبہ پھر سرفہرست

صوبائی دارالحکومت فضائی آلودگی کے میں ایک بار پھر سر فہرست آ گیا ہے ، لاہور ان دنوں سموگ کی زد میں ہے جس کے باعث ائیر کوالٹی انڈیکس میں آلودگی 343 پوائنٹس کی خطرناک حد تک جا پہنچی۔

لاہور میں سب سے زیادہ فضائی آلودگی گلبرگ کے علاقہ میں 446 پوائنٹس بتائی جا رہی ہے ، 430 اے کیو آئی کے ساتھ ٹاون شپ دوسرے اور 413 پوائنٹس کے ساتھ بحریہ تیسرے نمبر پر شمار ہو رہا ہے جبکہ جامعہ پنجاب میں آلودگی 409 اور انارکلی بازار میں 404 کی سطح پر ہے ۔

محکمہ ماحولیات اور ضلعی انتظامیہ نے سموگ میں کمی کے لیے کارروائیاں تیز کر دیں ، 30 دنوں میں 48 صنعتی یونٹ اور 13 بھٹے سیل کر دیئے گئے ہیں ، محکمہ ماحولیات کی جانب سے محکمہ ٹرانسپورٹ کے ساتھ مل کر آلودگی کا باعث بننے والی 3 ہزار سے زائد گاڑیوں کے چالان بھی ہوئے ۔

سموگ کا باعث بننے والوں کے خلاف پنجاب حکومت نے 2 کروڑ کے جرمانے کیے ہیں ، 800 سے زائد مقدمات کا اندراج کیا گیا اور 100 زائد افراد کو جیل میں بند کیا گیا ہے ، 7 اکتوبر سے 2 نومبر تک بھٹوں کو 1 کروڑ 68 لاکھ کے جرمانے ہوئے ، 3 ہزار 165 بھٹوں کی چیکنگ کے دوران 615 ایف آئی آر درج کی گئیں ۔

محکمہ موسمیات کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسموگ کا باعث بننے والی 4 ہزار 864 وہیکلز کو 26 لاکھ 74 ہزار سے زائد کے جرمانے کیے گئے ، پنجاب بھر میں کمیشن نے 100 انڈسٹریل یونٹس کو سیل ، 177 کیخلاف ایف آئی آر اور 50 افراد کو گرفتار کیا گیا ، اس دوران صرف لاہور میں 27 انڈسٹریل یونٹس کو سیل کیا۔

Back to top button