لبیک ڈاکٹرائن اب باجوہ ڈاکٹرائن کی جگہ کیسے لے رہا ہے؟

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے کالعدم تحریک لبیک کو دوبارہ مین سٹریم سیاسی دھارے میں شامل کرنے کی خواہش کے اظہار کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وزارت داخلہ جلد اس پر عائد پابندی اٹھا لے گی۔
یاد رہے کہ 29 اپریل کو کالعدم تحریک لبیک نے خود پر پابندی لگائے جانے کے حکومتی اقدام کے خلاف نظر ثانی درخواست وزارت داخلہ میں جمع کروا دی۔ وزیر داخلہ شیخ رشید نے میڈیا کو تصدیق کی کہ تحریک لبیک کی جانب سے پابندی کیخلاف درخواست موصول ہو گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اگر کسی بھی سیاسی جماعت کو کالعدم قرار دے دیا جائے تو وہ 20 روز کے اندر اس فیصلے کے خلاف درخواست دائر کر سکتی ہے اور تحریک لبیک نے ایسا ہی کیا ہے۔
واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے پنجاب پولیس کے انسداد دہشت گردی محکمے کی رپورٹ پر تحریک لبیک کو کالعدم قرار دینے کے لیے وزارت داخلہ کو سفارش کی تھی۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے قومی ادارے یعنی نیکٹا نے تحریک لیبک کو 15 اپریل کو کالعدم جماعتوں کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔ اس سے پہلے فرانس میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف تحریک لبیک نے ملک بھر میں احتجاج کیا تھا اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرے۔ اس احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی تھیں جن میں دو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ تحریک لبیک کے کارکنوں کی ان پرتشدد کارروائیوں کے اس جماعت کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق حکومت یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر گئی۔ حکومتی جماعت کے ایک رکن نے 20 اپریل کو قومی اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی تھی جس میں فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا بھی ذکر تھا۔ تاہم اس قرارداد کا بنیادی مقصد گونگلوں سے مٹی جھاڑنے ہوئے تحریک لبیک کی قیادت کو دھرنا ختم کرنے کے لیے فیس سیونگ فراہم کرنا تھا لہذا حکومت نے ایسا کر دیا۔
تحریک لبیک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ دھرنا ختم کرنے سے پہلے ہونے والے مذاکرات میں تحریک لبیک کی قیادت نے یہ یقین دہانی حاصل کی تھی کہ ٹی ایل پی پر عائد کردہ پابندی کا خاتمہ کردیا جائے گا لہذا اب حکومتی پابندی کے فیصلے کے خلاف اس جماعت نے وزارت داخلہ میں درخواست دائر کردی ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق تحریک لبیک کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت ہے اور الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ بھی ہے اس لیے حکومت اس وقت تک اس کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی جب تک الیکشن کمیشن تحقیقات کر کے کوئی ریفرنس وفاقی حکومت کو نہ بھجوائے۔ وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اس درخواست کی سماعت کے لیے 30 اپریل کو سیکریٹری داخلہ کی سربراہی میں ایک اجلاس ہو گا جس میں وزارت قانون کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔ اہلکار کے مطابق اس اجلاس میں تحریک لبیک کی طرف سے دائر کی گئی درخواست پر غور کرنے کے علاوہ دیگر حساس اداروں کی طرف سے اس کو کالعدم قرار دینے جانے کے بعد اس سے وابستہ افراد کی قابل اعتراض سرگرمیوں سے متعلق تیار کی جانے والی رپورٹس پر بھی غور کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد نے بتایا کہ حکومت نے جب تحریک لبیک کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا تو اس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے ساتھ ساتھ الیکشن ایکٹ سنہ2017 کا بھی ذکر ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب نوٹیفکیشن میں الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 212 اور 213 کا ذکر کیا گیا ہے تو اس کے بعد وفاقی حکومت پر یہ لازم ہے کہ وہ پندرہ روز میں یہ معاملہ سپریم کورٹ کو بھجوائے لیکن اس معاملے میں ابھی تک ایسا نہیں کیا گیا۔ کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ حکومت کی طرف سے ہی تحریک لبیک کی قیادت کو کہا گیا ہو کہ وہ اس فیصلے کے خلاف درخواست دائر کریں تاکہ پابندی اٹھائی جا سکے۔ شاید اسی وجہ سے ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دیے جانے کے باوجود کراچی میں تحریک لبیک کے امیدوار کو ضمنی الیکشن میں حصہ لینے سے نہیں روکا گیا۔
دوسری جانب وزیر اعظم مختلف طریقوں سے عوام کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کا طریقہ کار تحریک لبیک کے احتجاج کرنے اور دھرنے دینے کے طریقوں سے بہتر ہے۔ اسی حوالے سے انہوں نے ملتان میں جو تقریر کی وہ اس خوف کی علامت ہے کہ تحریک لبیک کو لعدم قرار دینے کے باوجود اس کے ساتھ معاہدہ کر کے اور فرانس کے سفیر کو نکالنے کے مطالبے کو ایک قرار داد کی صورت میں قومی اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ بنا کر حکومت نے تحریک لبیک کی طاقت کو تسلیم کیا ہے۔ لہازا مستقبل میں بھی تحریک لبیک مسلسل حکومت کے لئے خطرہ بنی رہے گی۔ اسی کیے عمران خان خود اسلام کے چیمپئن بن کر تحریک لبیک کی ’عوامی اپیل‘ کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اس بات کا امکان نہیں کہ وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو سکتے ہیں کیوں کہ وزیر اعظم اس اہم اور حساس سوال پر تمام سیاسی پارٹیوں کو اعتماد میں لینے اور مذہب کے نام پر احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ اور تشدد کے کلچر کو ختم کرنے کے لئے کوئی قومی حکمت عملی بنانے پر آمادہ نہیں ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ان حالات میں ملک میں اب باجوہ ڈاکٹرائن کی بجائے لبیک ڈاکٹرائن کا چرچا ہے اور لوگ سانس روکے یتیم خانہ چوک میں ٹی ایل پی کے مرکز سے سامنے آنے والی نئی ہدایات اور ملک بھر میں اٹھنے والے کسی نئے ممکنہ طوفان سے خوفزدہ ہیں۔ یادش بخیر نومبر 2017 میں تحریک لبیک کے مرحوم بانی خادم حسین رضوی کی سرکردگی میں فیض آباد چوک میں دھرنا دیا گیا تھا کیوں کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر ارکان اسمبلی کے حلف نامہ میں ختم نبوت پر ایمان کے الفاظ میں رد و بدل کا الزام تھا۔ اس احتجاج سے حکومت تو تبدیل نہیں ہوئی لیکن دھرنے میں خفیہ اداروں کی دلچسپی، میڈیا کو ملنے والی ہدایات اور اسے ختم کروانے میں فوجی افسروں کی ثالثی سے یہ ضرور طے ہوگیا کہ حکومت کن شرائط پر کام کرے گی اور مستقبل کا سیاسی منظر نامہ کیا ہو گا۔
اسی دوران پاک فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ کی ڈاکٹرائن کا چرچا بھی شروع ہوچکا تھا جس کے بارے میں کافی حد تک یہ بے یقینی رہی کہ اس کا حقیقی مقصد کیا ہے۔ جنوری 2018 اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے وضاحت کی کہ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ آرمی چیف پاکستان میں امن چاہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’باجوہ ڈاکٹرائن سے ملک میں پائیدار امن قائم ہوگا‘۔ اس کےساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستی اداروں میں تعاون دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے اہم ہے۔ باجوہ ڈاکٹرائن کے سایے میں الیکشن 2018 میں تحریک انصاف سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھار کر سامنے لائی گئی اور اگست میں قومی اسمبلی نے عمران کو وزیر اعظم چن لیا۔ یوں اپوزیشن کو نامزد وزیر اعظم کا نعرہ ملا تو اداروں میں تعاون کے ایک نئے عہد کا آغاز بھی دیکھنے میں آیا جسے اب ہائبرڈ نظام حکومت قرار دے دیا گیا۔ عمران خان اسے ایک پیج کی حکمت عملی قرار دیتے رہے ہیں یعنی ملک کی سیاسی حکومت اور عسکری قیادت میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور وہ مل جل کر تما۔ مسائل حل کرتے ہیں۔
لیکن حال ہی میں ہونے والے تحریک لبیک کے احتجاج اور حکومت کی پسپائی کے بعد اب وزیر اعظم کی طرف سے مسلسل دفاعی مؤقف اختیار کرنے سے یہ واضح نہیں ہو پا رہا کہ اداروں کے درمیان تعاون اور ایک پیج کی حکمت عملی میں دوسرا فریق کیا سوچ رہا ہے۔ وزیر اعظم کی بے چینی اور قومی اسمبلی میں آنے سے گریز سے تو یہی لگتا ہے کہ ملک پر اب باجوہ ڈاکٹرائن کی بجائے لبیک ڈاکٹرائن کی عمل داری قائم ہونے جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button