لیاقت باغ جلسہ: پنجاب حکومت نے پیپلز پارٹی سے 4 لاکھ جرمانہ لے لیا

پنجاب حکومت نے 27 دسمبر کو محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر لیاقت باغ میں عوامی جلسے میں ہونیوالے نقصانات کے نام پر پیپلز پارٹی سے 4 لاکھ 51 ہزار 135 روپے کا جرمانہ وصول کر لیا۔
اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی سیاسی جماعت پر راولپنڈی کے محکمہ باغات کو نقصان کی ادائیگی کرنی پڑی ہو۔ماضی میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف اور اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور مذہبی جماعت جماعت اسلامی سمیت تحریک لبیک پاکستان نے بھی عوامی اجتماعات کیے ہیں تاہم محکمہ باغات کی جانب سے کسی قسم کے نقصانات کے ازالے کا دعویٰ نہیں کیا گیا تھا۔
پیپلز پارٹی راولپنڈی کے صدر بابر جدون کا کہنا ہے کہ یہ عجیب بات ہے کہ محکمہ باغات نے پیپلز پارٹی سے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا جبکہ ماضی میں مذہبی جماعتوں اور مسلم لیگ (ن) سمیت حکمراں جماعت تحریک انصاف سے عوامی اجتماع کرنے پر کوئی رقم وصول نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل محکمہ باغات نے نقصانات کا تخمینہ 10 لاکھ روپے لگایا تھا تاہم یہ معاملہ 4 لاکھ 51 ہزار 135 روپے پر طے ہوا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوامی اجتماع کے درمیان ایک بھی درخت یا پودے کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔بابر جدون کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے پنجاب میں پیپلز پارٹی کے کامیاب جلسے کو دیکھتے ہوئے یہ اقدام اٹھایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو فنڈز نہ دے پانے کے بعد پنجاب حکومت ریوینیو اکٹھا کرنے کے لیے مزید مواقع تلاش کر رہی ہے جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی سے نقصانات کے ازالے کی بات کی گئی۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے رقم جمع کرادی ہے اور پارک سے اپنا سامان واپس لے لیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے بھی پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اس طرح کا اجلاس اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر حصوں میں منعقد کیا تھا تاہم انہیں کسی قسم کے نقصانات کا جرمانہ عائد نہیں کیا گیا تھا۔بابر جدون کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ سے نہ صرف جلسہ کرنے کی اجازت ملی بلکہ حکومت کو جلسے کے دوران سکیورٹی فراہم کرنے کے بھی کہا گیا تھا۔
دوسری جانب نقصانات کی تفصیلات بتاتے ہوئے محکمہ باغات کا کہنا تھا کہ باغ کے پودے اور پھول سمیت برقی نظام کو عوامی اجتماع کے شرکا نے نقصان پہنچایا ۔ محکمہ باغات کی جانب سے بتیوں اور ٹائلز کے نقصان کے بدلے میں 24 ہزار 22 روپے، پودے اور پانی کی فراہمی کے لیے لگائے گئے پائپس کے لیے بالترتیب 3 لاکھ 66 ہزار 700 اور 60 ہزار 414 روپے کا دعویٰ کیا گیا ۔محکمہ باغات نے عوامی اجتماع کے بعد کرسیاں، ٹینٹ اور اسٹیج کو قبضے میں لے لیا تھا، بعد ازاں پیپلز پارٹی کی جانب سے رقم محکمہ باغات راولپنڈی کے نجی بینک اکاؤنٹس میں جمع کرانے کے بعد واپس کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے باغات اور محکمہ باغات کے چیئرمین آصف محمود کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ پہلی مرتبہ کسی سیاسی جماعت سے نقصانات کے ازالے کا کہا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عوامی جلسے کے شررکا نے مہنگے ترین سرختوں، پودوں، اور پانی کی فراہمی کی لائنز، بجلی کے پینلز اور دیگر کو نقصان پہنچایا ہے۔
