وزیر اعظم کے بھانجے حسان نیازی کی ضمانت میں 6 جنوری تک توسیع

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے پی آئی سی ہنگامہ آرائی کیس میں وزیر اعظم عمران خان کے بھانجے سمیت 9 وکلا کی عبوری ضمانتیں 6 جنوری تک منظور کرلی ہیں۔
لاہور میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے پی آئی سی حملہ کیس میں وزیراعظم کے بھانجے حسان نیازی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ حسان نیازی پی آئی سی ہنگامہ ارائی کیس میں عبوی ضمانت میں توسیع کے لیے انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں پیش ہوئے تاہم تاخیر سے پہچنے پر عدالت نے حسان نیازی کی عبوری ضمانت خارج کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ وکیل ہونے کہ باوجود آپ تاخیر سے آئے، جس پر حسان نیازی نے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے عبوری ضمانت کیلئے نئی درخواست دائر کی۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں مذہبی جماعتوں کی پیشی کے باعث پہنچنے میں تاخیر ہوئی جبکہ پی آئی سی واقعے میں کسی شخص کو اشتعال دلایا اور نہ ہی حملہ کیا۔ ملزمان کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کا پی آئی سی حملہ.کیس سے کوئی تعلق نہیں ہولیس نے غیر قانونی طور ہر مقدمہ میں ملوث کیا۔ درخواست گزار نے استدعا کی عدالت عبوری ضمانت منظور کرکےگرفتاری سے روکنے کاحکم دے۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر حسان نیازی سمیت 9 وکلا کی ضمانتیں 6 جنوری تک منظور کرتے ہوئے ایک لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا۔
ضمانتیں منظور ہونے والے دیگر وکلا میں اسامہ معاذ، عبدالرحمن بٹ، رانا عدیل، عمر غوری اور چوہدری مزمل شامل ہیں۔
یاد رہے ایک ویڈیو کے تنازع پر وکلا آپےسےباہرہوگئے تھے ،وکلاء کی بڑی تعداد نے پنجاب انسی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر دھاوا بول کر شدید توڑ پھوڑ کی تھی اور اسپتال کو بے پناہ نقصان پہنچایا تھا، پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر فوٹیجز کی مدد سے حسان خان نیازی کی شناخت کی تھی۔
واضح رہے کہ پی آئی سی پر وکلاء کے حملے کے بعد کئی وکلاء پر مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے بعد حسان نیازی نے پریس کانفرنس کی تھی ، ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے بھانجے حسان نیازی نے پریس کانفریس میں کہا ہے کہ میرا قصور یہ ہے کہ میں وزیراعظم کا بھانجا ہوں۔حسان نیازی کا کہنا تھا کہ کسی کیس میں نامزد نہ ہونے کے باوجود بھی قبل از گرفتاری ضمانت کرانی پڑی۔ حسان نیازی نے موقف دیتے ہوئے مزید کہا تھا کہ پرامن احتجاج کا حصہ بننے گیا تھا، معلوم نہیں تھا کیا ہونے جا رہا ہے۔حسان نیازی کا کہنا تھا کہ پولیس نے مجھے نامزد کرنے میں دو تین دن لگائے ، تاہم اگر کوئی ثبوت ہیں تو پولیس سامنے لے کر آئے ۔حسان نیازی نے کہا کہ پی آئی سی میں موجود تھا چھپ کر نہیں گیا ۔ اگر میں نے گاڑی جلائی ہے تو مجھے بھی دکھائی جائے ۔حسان نے کہا کہ مجھے بھگوڑا کہا گیا اور میرے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔
