’’لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ کی بھارت میں ریلیز منسوخ کیوں ہوئی؟

بھارت میں 10 سال کے بعد پہلی پاکستانی فلم کی نمائش کا خواب ادھورا رہ گیا کیونکہ دی لیجنڈ آف مولا جٹ کی ریلیز منسوخ کردی گئی ہے۔ پاکستان سمیت عالمی سطح پر 200 کروڑ کا بزنس کرنیوالی پاکستانی فلم ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ ‘کی بھارت میں نئے سال پر ریلیز اچانک منسوخ کر دی گئی ہے۔
فواد خان اور ماہرہ خان کی فلم ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ کو 30 دسمبر کو بھارت کے سنیما گھروں کی زینت بننا تھا، لیکن سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن نے ایک ہفتہ قبل فلم کی ریلیز کی منظور دی تھی، ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی اور ریاست پنجاب کے سینما گھروں میں ریلیز کی جا رہی تھی۔ لیکن اب اس کی ریلیز اچانک منسوخ کردی گئی ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ کو دیا گیا، سنسر سرٹیفکیٹ منسوخ کیا گیا یا نہیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھارتی فلم سنسر بورڈ نے شاہ رخ خان کی متنازع فلم پٹھان کی ریلیز بھی روکتے ہوئے فلم میں بڑی تبدیلیاں کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔پاکستانی فلم ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ کی بھارت میں ریلیز پر بحث جاری تھی، انتہا پسند سیاسی جماعت مہاراشٹرا نونرمن سینا کے رہنما امے کھوپکر نے کہا تھا کہ وہ بھارت میں پاکستانی فلم کو ریلیز نہیں ہونے دیں گے۔ یاد رہے کہ 2019 میں آل انڈین سینی ورکرز ایسوسی ایشن نے پلوامہ حملے کے بعد بھارت میں پاکستانی اداکاروں اور فنکاروں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا، لیکن بھارت میں پاکستانی فلم کی ریلیز کو سیاست کی نظر کرنے پر فلمی حلقوں میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔
پاکستانی ہمیشہ بھارتی فلموں کو کھلے دل کے ساتھ قبول کرتے ہیں اور ان کے فنکاروں کو عزت بخشتے ہیں جبکہ بھارت میں پاکستانی فلموں کے ساتھ ہمیشہ ایک جیسا ہی سلوک کیا گیا ہے کہ ان کو ریلیز نہیں ہونے دیا گیا، حالانکہ ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ کو پورے بھارت کی پنجاب کے مخصوص سینمائوں تک ہی محدود رکھا گیا تھا لیکن مخالفین کو یہ بات بھی راس نہیں آئی۔
