لیگی قیادت کا ملکر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ

پاکستان مسلم لیگ ن کے مشاورتی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ میڈیا ذرائع کے مطابق ن لیگ کے مشاورتی اجلاس میں شہباز شریف، مریم نواز، شاہد خاقان عباس، احسن اقبال، مریم اورنگزیب اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی، اجلاس میں شہباز شریف نے پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی ملاقات پر شرکاء کو اعتماد میں لیا اور ن لیگ کو پارلیمنٹ میں فعال کرنے کی ہدایات کی، جب کہ ن لیگ کے رہنماؤں نے بجٹ اجلاس میں احتجاج کے حوالے سے بھی تجاویز دیں، اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ ہمارا بیانیہ ایک ہی ہے ن لیگ میں تقیسم اور اختلافات پر توجہ نہ دیں، خود بھی بجٹ اجلاس میں موجود رہوں گا تمام اراکین شرکت یقینی بنائیں۔
بتایا گیا ہے کہ مشاورتی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ شہبازشریف پارٹی صدر ہیں سب ان کے فیصلوں کے پابند ہیں، پارٹی اور شریف خاندان میں تقسیم اور اختلافات حکومتی خواہش ہے، ہم آج بھی اپوزیشن کو متحد دیکھنا چاہتے ہیں۔ بعد ازاں مسلم لیگ ن پاکستان کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے 3 سال میں اضافی 50 لاکھ لوگوں کو بے روزگار کر دیا، جس کی وجہ سے ملک میں بے روزگاری کی شرح تاریخ کی بلند ترین سطح 15 فیصد پر ہے اور آج ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد 85 لاکھ ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا بجٹ اور اسے لانے والی حکومت دونوں کو عوام مسترد کر چکے ہیں، مسلم لیگ ن نے جب اقتدار چھوڑا تھا تو پاکستانی معیشت کا حجم 313 ارب ڈالر تھا لیکن عمران خان کی حکومت میں معیشت کا حجم 296 ارب ڈالر پر پہنچ چکا ہے، پاکستانیوں کی قوت خرید میں براہ راست 13 فیصد کمی ہوئی ہے جب کہ ن لیگی حکومت کے آخری سال 18-2017 میں فی کس آمدنی ایک ہزار 560 ڈالر تھی جب کہ پی ٹی آئی کے 3 سال میں فی کس آمدنی میں 8 فیصد سے زائد کمی دیکھنے میں آئی ہے اور تاریخ میں پہلی بار 3 سال میں ہمارا جی ڈی پی ڈالرز میں کم ہوا ہے۔

Back to top button