پاکستان میں صحافت خطرناک ترین پیشہ کیوں بن گیا؟


پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے متعارف کردہ ہائبرڈ نظام کے تحت لائی جانے والی کپتان حکومت کے دور اقتدار میں باضمیر صحافیوں کے قتل، اغوا اور تشدد کے پے درپے واقعات نے صحافت کو ملک کا خطرناک ترین پیشہ بنا دیا ہے۔ پاکستان میں آزادی صحافت کی صورتحال اب اتنی ابتر ہو چکی ہے کہ مین سٹریم میڈیا کارکنان کے بعد اب سوشل میڈیا کے ذریعے سچ بولنے والے صحافیوں، بلاگرز اور یو ٹیوبرز کو بھی ریاستی اداروں کی طرف سے نشان عبرت بنایا جا رہا ہے۔ لیکن زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ صحافیوں کے اغواء، ان پر تشدد اور قاتلانہ حملوں کے سب سے زیادہ واقعات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہورہے ہیں جسے کہ ملک کا محفوظ ترین شہر تصور کیا جاتا تھا۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ شہر اقتدار اسلام آباد میں کوئی سیاسی حکومت مسند اقتدار پر فائز نہیں بلکہ حکومت کی باگ دوڑ فوجی اور انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں ہے جو ڈنڈے کے زور پر معاملات چلانا چاہتی ہے اور میڈیا کا مکمل طور پر گلا گھونٹ دینا چاہتی ہے۔
انٹرنشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ 30 سالوں میں دنیا بھر میں جو صحافی قتل ہوئے ان میں پاکستان، عراق، میکسیکو اور فلپائن کے بعد چوتھے نمبر پر ہے جہاں اس عرصے میں 138 صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک پاکستان میں صحافیوں کو درپیش خطرات کی جانچ کرتا ہے، اس کے مطابق مئی 2020 سے اپریل 2021 کے دوران صحافیوں کو درپیش خطرات اور حملوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے اور صرف ایک سا ل کے دوران 148 ایسے واقعات ہوئے ہیں۔ اب صحافیوں کے لیے خطرناک ترین جگہ بلوچستان یا قبائلی علاقے نہیں بلکہ اسلام آباد ان کے لیے خطرناک ترین شہر بن چکاہے۔ کیونکہ صحافیوں کے خلاف 148 واقعات میں سے 51 اسلام آباد میں رپورٹ ہوئے ہیں۔اس دوران سات صحافی قتل ہوئے سات پر قاتلانہ حملے ہوئے، پانچ کو اغوا کیا گیا اور 25 گرفتار ہوئے، 15 کو زدو کوب کیا گیا جبکہ 27 پر مقدمات درج کئے گئے۔
یاد رہے کہ صحافی اسد طور کو ان کے فلیٹ میں زد وکوب کیا گیا۔ پانچ ہفتے پہلے سینیئر صحافی ابصار عالم کو اسلام آباد میں ان کے گھر کے سامنے گولی ماری گئی۔ پچھلے سال جولائی میں مطیع اللہ جان کو اغوا کیا گیا۔
یہ سارے واقعات اسلام آباد میں ہوئے۔ کیمروں میں ریکارڈنگ کے باوجود ملزمان ابھی تک قانون کی گرفت سے دور ہیں۔ ان تینوں حالیہ واقعات کے پیچھے کون ہے اس حوالے سے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ ’پاکستان میں کام کرنے والے ہر وہ صحافی جو ابھی تک بچا ہوا ہے اسے معلوم ہے کہ کون سی فالٹ لائن ہیں جو کراس نہیں کرنی، لیکن چند ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی قلم اور آواز کی حرمت پر لبیک کہتے ہیں بس ایسے صحافی ہی طاقتور اداروں اور مافیا کا نشانہ بنتے ہیں۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’صرف بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی شورش میں اب تک 40 سے زائد صحافی اپنی جانوں سے جا چکے ہیں۔ 24 کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
’خضدار پریس کلب کے سابق صدر ندیم گرگناری کے دو جواں سال بیٹوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ 12 سے 14 صحافی اور کیمرہ مین اپنے فرائض کے ادائیگی کے دوران بم دھماکوں یا کراس فائرنگ کا نشانہ بنے۔’
انکا کہنا تھا کہ حال ہی میں پی ایف یو جے کی کاوشوں سے جرنلسٹ پروٹیکشن بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے لیکن اس بل پر بھی صحافیوں کو شدید تحفظات ہیں کیونکہ جو کمیشن صحافیوں کے درپیش خطرات کے حوالے سے کام کرے گا اسے زیادہ با اختیار ہونا چاہیے، اس لیے ہم اس بل کی مشروط حمایت کر رہے ہیں۔
شہزاد ذوالفقار نے کہا کہ ’پاکستان میں پی ٹی آئی کے دور حکومت میں آزادی اظہار کی عالمی رینکنگ میں تین درجے کی تنزلی آئی ہے پہلے پاکستان 142 ویں نمبر پر تھا جبکہ اب 145 ویں نمبر پر چلا گیا ہے۔‘
پاکستان میں گذشتہ 30 سالوں میں جو صحافی ہلاک ہوئے ان کی وجوہات میں طالبانائزیشن، فرقہ واریت، بلوچستان میں جاری عسکریت پسندی، جبکہ سندھ میں جاگیردارانہ سماج، ہزارہ کے پی میں ڈرگ مافیا کا کردار بھی شامل ہے۔
لیکن عموماً دیکھا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی صحافیوں کے قتل کے حوالے سے تفتیش کو آگے نہیں بڑھا پاتے کیونکہ ان کے پیچھے جو طاقتور خفیہ ہاتھ ہوتے ہیں وہ اتنے واضح ہوتے ہیں کہ قانون کو اپنی گرفت کمزور ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
صحافیوں کے تحفظ کے ادارے فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے بتایا کہ ’جو طاقتور خفیہ لوگ خود کو قانون سے ماورا سمجھتے ہیں وہ اس کی وجہ ہیں۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ صحافیوں کے قتل، اغوا یا تشدد کے حوالے سے نہ کوئی پکڑ اجاتا ہے اور نہ ہی کسی کو سزا ملتی ہے اس لیے ایک تاثر بن گیا ہے کہ جو نہیں مانتا اسے سبق سکھا دیا جائے۔’انہوں نے کہا کہ معاشرہ اور پارلیمنٹ دونوں ہی یہ نہیں سمجھ پائے کہ یہ جو لوگ مارے جا رہے ہیں یہ ان تک سچ پہچانے کی راہ میں مارے گئے ہیں اس لیے ان کے حق کے لیے آواز اٹھانا ان کا فریضہ ہے۔’انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آزادی اظہار رائے کو جس طرح رگڑا لگایا گیا ہے اس کی وجہ سے جمہوری اقدار پامال ہو رہی ہیں۔‘ پاکستان میں خطرہ اب صرف کارکن صحافیوں کو نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے انقلاب کے بعد بلاگرز اور یو ٹیوبرز کو بھی ہے۔
بلکہ اب تو بعض ایسے لوگوں کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے جو ٹوئٹر پر متحرک نظر آتے ہیں اور ریاستی بیانیے کو چیلنج کرتے ہیں۔ بہت سے ایسے لوگوں کے خلاف غداری اور توہین مذہب کے قانون کے تحت بھی مقدمات درج ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں آزادی اظہار رائے ہر آنے والے دن کے ساتھ پابند ہوتی جا رہی ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے یہ لطیفہ سنایا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے حکومت میں آنے کے بعد سے صحافیوں پر حملوں میں کمی آئی ہے۔ انکا مذید کہنا تھا کہ اور مغربی میڈیا کی جانب سے ایک طرح کا فیشن بن گیا ہے کہ جب بھی صحافیوں پر تشدد کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر اس کا الزام عائد کر دیا جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ماضی میں لوگوں کی جانب سے ریاستی اداروں پر اس طرح کے الزامات لگا کر ’بیرون ملک امیگریشن لینے کی ایک تاریخ موجود ہے۔‘ بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں میزبان سٹیفن سیکر کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آزادی اظہار رائے اور آزاد صحافت کا تحفظ پاکستان کے آئین کے تحت بنیادی انسانی حقوق ہیں اور پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 19 میں اس کی ضمانت دی گئی ہے۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کے آئین میں دی گئی آزادی بھی عمران خان اور انکی سرپرست فوجی اور انٹیلی جنس اسٹیبلشمنٹ نے سلب کرلی ہے۔
ملک میں نئے سوشل میڈیا قوانین اور ان کے ذریعے انٹرنیٹ پر آزادی اظہار رائے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر قدغن لگانے اور ریاستی کنٹرول کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’نفرت آمیز مواد کی تو دنیا بھر میں نفی کی جا رہی ہے، اس کی روک تھام کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ دنیا میں تمام کمپنیاں اور اداروں پر لازمی ہے کہ وہ نفرت آمیز مواد کی روک تھام کریں۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ’نئے قانون کا نفاذ ابھی تک نہیں کیا گیا اور ملک میں نئے سوشل میڈیا قوانین ابھی تک زیر بحث ہیں، ابھی تک ایسے کوئی قوانین موجود نہیں ہیں۔‘ تاہم عمومی تاثر یہی ہے کہ عمران کی حکومت فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایماء پر یہ ڈریکونین قوانین لا رہی ہے تاکہ پاکستانی میڈیا کی رہی سہی آزادی بھی سلب کر لی جائے۔

Back to top button