ماہ نور بلوچ نے ’جھوٹے شوہر‘ سے جان کیسے چھڑائی؟

اداکارہ ماہ نور بلوچ نے انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے ایک مرد مداح سے بڑی مشکل سے جان چھڑائی کیونکہ وہ مجھ سے بار بار نکاح کا دعویٰ کر رہا تھا، اور یہاں تک کہ میرے گھر تک بھی پہنچ گیا۔

اداکارہ حال ہی میں سما ٹی وی کے پروگرام ’’حد کر دی‘‘ میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے شوبز کیریئر سمیت دیگر معاملات پر کھل کر بات کی، انہوں نے اپنی شخصیت پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں ان کی شخصیت کی وجہ سے ہمیشہ ایسے کردار دیئے گئے، جن میں ایک امیر خاتون کے طور پر دکھایا گیا۔

اداکارہ نے شکوہ کیا کہ انہیں کبھی غریب عورت کا کردار نہیں دیا گیا اور ان سے ہمیشہ یہی کہا جاتا کہ وہ چہرے سے غریب نہیں دکھتیں، اس لیے انہیں بہت زیادہ قسم کے کردار نہیں دیے گئے۔

انہوں نے اپنی شخصیت اور چہرے کی وجہ سے زیادہ ورسٹائل کردار نہ ملنے پر اظہار افسوس بھی کیا۔ساتھ ہی کہا کہ ان کی نظر میں شاہ رخ خان کی شخصیت ایسی ہے کہ وہ بہت اچھے اداکار لگتے ہیں کہ لیکن درحقیقت وہ اچھے اداکار نہیں۔

ان کے مطابق یہ ان کی ذاتی رائے ہے کہ شاہ رخ خان کو اپنی مارکیٹنگ بہتر انداز میں کرنے کا فن آتا ہے لیکن وہ اچھے اداکار نہیں، تاہم ساتھ ہی انہوں نے تسلیم کیا کہ شاہ رخ خان نے ’ڈر اور انجام‘ میں اچھی اداکاری کی اور ان کے خیال میں شاہ رخ خان کو دماغی مسائل کے شکار افراد کے کردار اچھے لگتے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ جب وہ اداکاری کی دنیا میں نئی آئی تھیں تب بھارتی اداکارہ مادھوری ڈکشٹ انہیں بہت پسند تھیں اور انہیں ایسا لگتا تھا کہ مادھوری کی روح ان میں آگئی ہے۔

ماہ نور بلوچ کے مطابق انہوں نے کیریئر کا آغاز ماڈلنگ سے کیا اور جلد ہی انہیں سلطانہ صدیقی نے اداکاری کرنے پر آمادہ کیا اور ان کی بہت مدد کی، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ سلطانہ صدیقی ان کی رشتے دار بھی ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بشریٰ انصاری کی وہ ویڈیو دیکھی ہے، جس میں وہ بتا رہی ہیں کہ ماہ نور بلوچ کو اداکاری نہیں آتی، اداکارہ کے مطابق وہ بشریٰ انصاری کے خیال سے اتفاق نہیں کرتیں لیکن وہ ان کی ذاتی رائے کا احترام کرتی ہیں اور ممکن ہے کہ بشریٰ انصاری نے یہ بات اس لیے کہی ہو کہ ان کے خیال میں اداکار کو ہر طرح کے کردار ادا کرنے چاہئیں جب کہ وہ ہر طرح کے کردار نہیں کرتیں۔

ماہ نور بلوچ نے بتایا کہ وہ ایک ہولی وڈ فلم میں بھی کام کر چکی ہیں، وہاں اور پاکستانی انڈسٹری کے کام میں بہت بڑا فرق ہے، وہاں رونے کا منظر شوٹ کروانے کے بعد اداکار کو ایک گھنٹے تک آرام کرنے دیا جاتا ہے جب کہ پاکستان میں مرنے کا منظر شوٹ کروانے کے بعد شادی کا سین ریکارڈ کروایا جاتا ہے۔

ماہ نور بلوچ کے مطابق شروع میں انہوں نے مرد مداح کے نکاح کے دعوے کو نظر انداز کیا لیکن معاملہ اس وقت بڑھ گیا جب وہ شخص ان کے گھر تک پہنچ گیا اور پھر انہیں سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) سے مدد مانگنی پڑی۔اداکارہ نے بتایا کہ سی پی ایل سی نے مذکورہ شخص کو گرفتار کیا لیکن اس کے باوجود وہ بار بار ان سے نکاح کا دعویٰ کرتا رہا۔

اداکارہ کے مطابق مداح پولیس کی کارروائی کے باوجود ان کے شوہر کے سامنے ہی ان کے ساتھ نکاح کا دعویٰ کرتا رہا اور ان کے شوہر سے متعلق کہتا رہا کہ ان جیسے بہت سارے لوگ آتے ہیں جو ایسی خواتین کے شوہر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، بعد ازاں پولیس کی تفتیش سے معلوم ہوا کہ وہ شخص ذہنی بیماری میں مبتلا تھا، جس پر انہیں اور پولیس کو بھی افسوس ہوا۔

Back to top button