مجھ پر قاتلانہ حملے کی رپورٹ 7 برس بعد بھی نہیں آ سکی

معروف اینکر پرسن اور صحافی حامد میر نے کہا ہے 2014 میں ان پر کراچی میں ہونے والے قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے لیے حکومت نے سپریم کورٹ کا ایک تین رکنی کمیشن قائم کیا تھا لیکن سات برس گزر جانے کے باوجود اسکی رپورٹ سامنے نہیں آ سکی جس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس ملک میں خفیہ ہاتھ کتنے طاقتور ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ صحافیوں پر قاتلانہ حملے کرنے والے نامعلوم افراد کبھی بے نقاب نہیں ہو پاتے حالانکہ سب کو انکے بارے میں معلوم ہے۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے مقدمات کے بارے میں سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے حامد میر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ خانہ پوری کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ابصار عالم اور اسد طور پر ہونے والے حملوں میں ملزمان کی عدم گرفتاری کا یہ بہانہ بنایا گیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں حملہ آوروں کے چہروں کو شناخت نہیں کیا جا سکا۔ اس کے برعکس جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے گھر کے باہر جو بم دھماکہ ہوا تھا اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کی شناخت بھی نہیں ہو رہی تھی لیکن اس کے باوجود ملزمان گرفتار کر لیے گئے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ اسد طور پر ہونے والے حملے کی تحققیات کے بارے میں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے دعوی کیا تھا کہ پولیس ملزمان کے قریب پہنچ چکی ہے لیکن آج تک ملزمان گرفتار نہیں ہوئے۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ جب 2014 میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا اور انھیں گولیاں ماری گئیں تو اس واقعے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ججز کا تین رکنی کمیشن بنایا گیا لیکن اس کا رپورٹ سات برس بعد بھی سامنے نہیں آ پائی اور نہ ہی کوئی نتیجہ برآمد ہو سکا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے عدالتی کمیشن کے سامنے تب کے ڈی جی آئی ایس آئی پر اس قاتلانہ حملے کا الزام لگایا تھا لیکن وہ کبھی کمیشن کے سامنے پیش ہی نہیں ہوئے۔ لہذا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس ملک کے اصل حکمران کون کوگ ہیں۔

یاد رہے کہ 12 نومبر کو اسلام آباد پولیس کے سربراہ نے صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق اسلام آباد کے محتلف تھانوں میں درج کیے گئے مقدمات کی تفتیش میں ہونے والی پیشرفت کے بارے میں سپریم کورٹ کو رپورٹ جمع کروائی تھی۔ رپورٹ کے مطابق صحافیوں کو ہراساں کرنے اور ان پر حملہ کرنے کے الزام میں متعدد افراد کو گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا لیکن ابصار عالم اور اسد طور پر حملہ کرنے والے ملزمان کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں صحافیوں پر حملہ کرنے والوں کی ویڈیو فوٹیجز موجود ہیں جن میں ان کے چہرے بھی صاف نظر آ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں اسلام آباد پولیس کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق ابصار عالم اور اسد طور پر حملے کے ملزمان کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا جبکہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے دعویٰ کیا تھا کہ اہم انفرمیشن مل چکی ہے اور ملزمان کو چند دنوں میں گرفتار کر لیا جائے گا۔

اس معاملے پر تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا تھا کہ کسی بھی مقدمے کی تفتیش میں سی سی ٹی وی فوٹیج ایک اہم ثبوت کے طور پر تو استعمال ہو سکتی ہے لیکن ساری تفتیش اس فوٹیج کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس نے اپنی رپورٹ میں ان محرکات کا بھی ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھا جس کی وجہ سے صحافیوں کو ہراساں اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب یہ تاثر عام ہے کہ صحافیوں پر حملے کرنے والے خفیہ ہاتھ ہی دراصل پولیس پر دباؤ ڈالتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ اصل ملزمان تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتی۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں معروف اینکر پرسن مہر بخاری کے حوالے سے ایک ایسے واقعے کا بھی ذکر ہے جو پہلے میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوا۔ اینکر پرسن کاشف بخاری کی اہلیہ مہر بخاری کے حوالے سے بیان کردہ واقعے میں بتایا گیا ہے کہ وہ 2 جولائی 2021 کو اپنے اہلخانہ کے ہمراہ مری جا رہی تھیں کہ بارہ کہو کے قریب ایک گاڑی نے ان کی کار کو اورٹیک کیا اور اس کے بعد گاڑی مہر کی گاڑی کے آگے کھڑی کردی۔

اس کے بعد ڈرائیور نے باہر نکل کا اینکر پرسن کو نہ صرف گالیاں دیں بلکہ ان کو سنگین تنائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ تاہم اس واقعے میں ملوث افراد کو بھی گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ رپورٹ میں صرف ایک ایسے کیس کا ذکر ہے جس میں ملزمان کی نشاندہی ہو سکی۔ یہ واقعہ وی چینل اےآر وائی کے ایک کمیرہ مین کو ہراساں کرنے کا تھا جس میں ملوث افراد کے خلاف کیس درج ہوا تو انہوں نے ضمانت قبل از گرفتاری کروا لی لہذا بات آئی گئی ہو گئی۔

Back to top button