19 یا 20 نومبر کے روز کیا کچھ انہونی ہونے والی ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ لگتا ہے عمران خان کی کشتی اب ڈوبنے والی ہے اور اس حوالے سے 19 اور 20 نومبر کے دن بہت اہم ہیں۔ یاد رہے کہ 19 نومبر کو ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا بطور کور کمانڈر پشاور تبادلہ ہونا ہے اور لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے ان کی جگہ اس عہدے کا چارج لینا ہے۔ نجم سیٹھی نے یہ تو نہیں بتایا کہ 19 یا 20 نومبر کو کیا ہونے والا ہے لیکن وہ مسلسل یہ چورن ضرور بیچ رہے ہیں کہ عمران خان اور جنرل باجوہ کے تعلقات میں شدید تناؤ آنے کے بعد آرمی چیف اور وزیر اعظم، دونوں ہی ایک دوسرے سے جان چھڑانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا سب سے مضبوط پلر اب فارغ ہو رہا ہے اس لئے ان کے لیے شدید تنائو کی صورتحال ہے۔ اس ٹینشن کی وجوہات ہی یہی ہیں کہ خان صاحب نے جو پنگے لئے وہ اب ان کے گلے پڑ چکے ہیں۔ دوسری جانب عمران کی جانب سے خراب ہوتی صورت حال کی ساری ذمہ داری فوجی اسٹیبلشمنٹ پر ڈالی جا رہی ہے، اس لئے یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ وزیراعظم کو فارغ کر دیا جائے، بس فارغ کرنے کے طریقے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔ نیا دور کے ٹی وی پروگرام ‘خبر سے آگے’ میں رضا رومی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ ہم پہلے ہی یہ پیشگوئیاں کر چکے تھے کہ جب کشتی ڈوبنے لگے گی تو ہھر چوہے ادھر ادھر بھاگیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ اب عمران خان کی کشتی ڈوبنے والی ہے کیونکہ اس کے ملاح اب فارغ یو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں ماہ کی 19 یا 20 تاریخ بہت ہی اہمیت کی حامل ہے۔ آئی ایس آئی کی کمانڈ جو کہ عمران کیلئے ایک مضبوط ستون بنی ہوئی تھی، اب تبدیل ہو رہی ہے، اگرچہ عمران نے بھرپور کوشش کی کہ کمانڈ تبدیل نہ ہو مگر اس کے باوجود اب ایسا ہونے جا رہا ہے۔ نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ میں آپ کو ”چڑیا” کی یہ خبر دے رہا ہوں کہ اسی کمانڈ کی تبدیلی کی وجہ سے تلخیاں پیدا ہو چکی ہیں بلکہ اس کیلئے تلخی کا لفظ بھی بہت ہلکا ہے، اس سے کوئی سخت لفظ استعمال کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بار بار اس کا تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہائیبرڈ سسٹم لانے والا یہ الائنس ہی پاکستان کیلئے ٹھیک نہیں تھا۔ ہمیں نہ تو کسی نفرت ہے اور نہ کسی سے پیار ہے، ہمیں صرف ملک سے محبت ہے۔ لیخن سچ تو یہ یے کہ اس دور میں ملکی آئین کی دھجیاں اڑائیں گئیں، پہلے ایک الیکٹیڈ وزیراعظم کی چھٹی کرائی گئی اور اس کے بعد ایک سلیکٹڈ پرائم منسٹر کو لایا گیا۔

سیٹھی نے کہا کہ نے اب کہیں نہ کہیں فیصلے کئے جا چکے ہیں کہ عمران خان کو اب گھر جانا ہے۔ تاہم ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ ان کی جگہ آنا کس کو ہے۔ اسی لیے وہ اینکرز جو ماضی میں خان صاحب کے گیت گاتے تھے، وہ سب اب ان کیخلاف ہو چکے ہیں۔ ہمیں ان کا نام لینے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ نجم سیٹھی نے کہا میری اطلاع ہے کہ عمران کی فراغت کی خبر پھیل چکی ہے اس لئے ان کے اتحادی بھی اب ان کا ساتھ چھوڑنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔

حکومت کے اتحادیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) سمیت تمام اہم اپوزیشن جماعتوں کیساتھ رابطے شروع کر دیئے ہیں کیونکہ انھیں اس بات کا بخوبی علم ہو چکا ہے کہ اب الیکشن دور نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ رابطے بحال ہو چکے ہیں۔ ابھی حال ہی میں وانا میں ہونے والے ایک جلسے میں انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی تعریفیں بھی کی ہیں۔ دوسری جانب پارلیمنٹ کے اندر سے تبدیلی لانے کے فارمولے پر کام شروع ہو چکا ہے اور جیسے ہی معاملات طے پائیں گے، کپتان گھر چلے جائیں گے۔

Back to top button