پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے لین دین کی اجازت کا امکان
عوامی حلقوں کے بڑھتے ہوئے مطالبے کے بعد اب یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ حکومت پاکستان کرپٹو کرنسی کو قانونی قرار دے کر اس کے لین دین کی اجازت دے دے کیونکہ پاکستان ان ممالک میں سر فہرست ہے، جس کے شہریوں نے کرپٹو کرنسی میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ لیکن عمومی طور پر یہی تاثر یے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی پر پابندی عائد ہے۔ تاہم اب اس معاملے پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر رضا باقر نے یہ انکشاف کیا ہے کہ حالانکہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی تجارت کی اجازت نہیں لیکن اسے غیر قانونی بھی قرار نہیں دیا گیا۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اپریل 2021 سے انکی زیر قیادت سٹیٹ بینک کرپٹو کرنسی کے لین دین کو لیگل فریم ورک میں لانے اور اسکی خرید و فروخت کی اجازت دینے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔
پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے لین دین کی اجازت کے حامی کہتے ہیں کہ کرپٹو کرنسیوں کے حوالے سے دنیا کے تمام ممالک نئے قوانین متعارف کروا رہے ہیں لیکن پاکستان ابھی تک اس کے قانونی ہونے کا فیصلہ بھی نہیں کر پایا اور اس بارے قوانین مرتب کرنے میں بھی بہت پیچھے ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ہم جیسے جیسے ٹیکنالوجی کے دنیا میں آگے بڑھتے جا رہے ہیں، ویسے ویسے نئے دور کے نئے تقاضے اپنانا بھی ہمارے لیے ضروری ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں کرپٹو کرنسی کے لین دین کی اجازت بھی دے دینی چاہیے۔
ڈیجیٹل یا کرپٹو کرنسی کی بہت سی اقسام ہیں لیکن ان میں سب سے نمایاں حیثیت بٹ کوائن کو حاصل ہے جسے 12 سال قبل متعارف کرایا گیا تھا۔ تب اس کی قدر ایک امریکی ڈالر سے بھی کم تھی۔ مگر اس کی ڈرامائی مقبولیت اور تیسری دنیا کے ممالک کے لوگوں کی دلچسپی نے اب اس کی قمیت 65 ہزار ڈالرز فی بٹ کوائن پر پہنچا دی ہے۔ اس وقت یہ کئی بڑے عالمی سرمایہ کاروں کی نظر میں سب سے پسندیدہ کرپٹو کرنسی ہے۔ لاطینی امریکی ملک ایل سیلواڈور اس کو قانونی قرار دے چکا ہے جبکہ دیگر کئی ممالک اس کے بارے میں قوانین وضع کر چکے ہیں تاکہ اس میں سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اسی وجہ سے اس کی قدر دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔
پاکستان میں بھی کرپٹو کرنسی میں لوگوں کی دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے کوئی واضع اعداد و شمار تو موجود نہیں ہیں لیکن اس کو سرمایہ کاری کے لیے بہترین کرنسی قرار دیا جا رہا ہے۔ کئی نوجوان اس میں سرمایہ کاری کر کے راتوں رات امیر بننے کا خواب دیکھتے ہیں لیکن کیوں کہ پاکستان میں اس کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے، اس لیے بہت سے لوگ آن لائن فراڈ اور دھوکا دہی کا بھی شکار ہو چکے ہیں۔ ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں کہ پاکستانی اپنی محنت سے کمائی گئی دولت اور بچت کھو چکے ہیں۔
پاکستان کے مرکزی بینک نے 2018ء میں ڈیجیٹل کرنسی میں لین دین کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔ اسکے لیے باقاعدہ جاری کردہ سرکلر میں یہ واضح طور پر یہ لکھا گیا تھا کہ ڈیجیٹل کرنسی میں تجارت اور سرمایہ کاری ممنوع ہے اور ایسی کسی سرگرمی کی اطلاع ہونے پر فوری طور پر مرکزی بینک کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو مطلع کیا جائے۔ لیکن اس پابندی کے نتیجے میں اس ڈیجیٹل کرنسی کے بارے جعل سازی اور فراڈ کی سر گرمیاں بڑھ گئیں۔ سکیورٹیز اینڈ کمیشن آف پاکستان اور مرکزی بینک کے مطابق پابندیوں اور کرپٹو کرنسی کی تجارت کے غیرقانونی ہونے کے باوجود پاکستان ان ممالک میں سر فہرست ہے، جہاں کے لوگوں نے کرپٹو کرنسی میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ لیکن چونکہ اس پر پابندی عائد ہے، اس لیے اس کے بارے میں عام لوگوں کو ذیادہ معلومات نہیں ہیں۔ اس وجہ سے اس کی خریدو فروخت کا طریقہ کار ابھی تک ایک عام شخص کے لیے معمہ ہے، چنانچہ اسی کیے اس میں دھوکا دہی کے امکانات زیادہ ہیں۔
دنیا کے کئی ممالک میں کرپٹو کرنسیوں کو مرکزی بینک کے تحت ریگولیٹ کیا جا رہا ہے اور اس کی ادائیگیوں اور وصولیوں کے لیے ایک مربوط طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ حال ہی میں چین نے ویسے تو بٹ کوائن جیسی روایتی کرنسیوں اور ان کی مائننگ پر پابندی عائد کی ہے لیکن چین اپنی کرپٹو کرنسی بھی لانچ کرنے والا ہے۔ چین کی کرپٹو کرنسی آزمائشی مرحلے میں ہے۔ پاکستان چونکہ چین کا اقتصادی شراکت دار ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ جلد از جلد کرپٹو کرنسی کو لے کر قوانین وضع کر لیے جائیں تاکہ سرمایہ کاری، سیاحت، جدت اور اقتصادی ترقی کے خاطر خواہ فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں دائر کرپٹو کرنسی بارے ایک درخواست کے جواب میں حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ جن افراد کے خلاف کرپٹو کرنسی کے حوالے سے شکایات درج ہیں، انکے خلاف کارروائی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کرتی ہے اور پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت مقدمات دائر کیے جاتے ہیں۔ جبکہ ایس ای سی پی کے قوانین میں ڈیجیٹل کرنسی کی رجسٹریشن کی اجازت نہیں ہے اور اس سے متعلق قانون خاموش ہے۔
مرکزی بنک کے موجودہ دائرہ اختیار میں صرف کمرشل بینک آتے ہیں، اس لیے کرپٹو کرنسی کی ریگولیشن میں کافی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ کیونکہ اس سلسلے میں مرکزی بینک کو کمرشل بینکوں کے علاوہ کاروباری حضرات کا تعاون بھی درکار ہے۔ معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ اس معاملے کو پارلیمان میں اٹھایا کر ایک قومی بحث کا آغاز کیا جانا چاہئیے تاکہ اس حوالے سے قانون سازی کی طرف قدم اٹھانا آسان ہو سکے۔
اسی طرح سندھ ہائی کورٹ نے بھی کرپٹو کرنسی کے بارے میں دائر ایک کیس کی سماعت کے بعد وفاقی حکومت کو تین ماہ کے اندر اس کو ریگولیٹ کر کے قانونی حیثیت کا تعین کرنے کا حکم دیا ہے لیکن یہ معاملہ تب دلچسپی اختیار کر گیا، جب ریگولیشن کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ، جو وفاقی سکریٹری خزانہ ہیں، نے کہا کہ انہیں کرپٹو کرنسی کے بارے معلوم ہی نہیں کہ یہ کوئی سافٹ ویئر ہے یا کوئی اثاثہ؟
تاہم معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کے سخت ریگولیشنز کے بعد یہ وقت کی اشد ضرورت ہےکہ کرپٹو کرنسی کے بارے میں عدالتی احکامات کی روشنی میں قابل عمل قوانین بنائے جائیں۔ یوں دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے خلاف جنگ میں بھی واضح مدد ملے گی۔
