مریم نواز نے نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے گارنٹی مانگ لی

پی ڈی ایم کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز نے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر آصف زرداری سے سوال کیا کہ ‘میرے والد صاحب کی جان کو خطرہ ہے، وہ وطن واپس کیسے آئیں، آصف زرداری گارنٹی دیں کہ میرے والد کی جان کو پاکستان میں خطرہ نہیں ہوگا تو ان کی وطن واپسی بارے سوچا جا سکتا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘میں اپنی مرضی سے یہاں ہوں، جیسے آپ ویڈیو لنک پر ہیں ویسے ہی میاں صاحب بھی ویڈیو لنک پر ہیں، نیب کی تحویل میں میاں صاحب کی زندگی کو خطرہ ہے، میرے والد کو جیل میں دو ہارٹ اٹیک ہوئے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘مسلم لیگ (ن) نے سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود پی ڈی ایم کا ساتھ دیا، پی ڈی ایم کے فیصلوں پر عمل کیا اور کرایا، پوری مسلم لیگ (ن) نے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیئے’۔مریم نواز نے کہا کہ ‘پیپلز پارٹی استعفوں کے خلاف تھی، مسلم لیگ (ن) نے اتفاق رائے کے لیے آپ کی حمایت کی’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘میرے والد نے میرے ساتھ نیب کی 150 پیشیاں پاکستان میں بھگتی ہیں، مجھے والد کے سامنے گرفتار کیا گیا، میاں صاحب میری والدہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر پاکستان آئے، جو کیسز کی حقیقت ہے وہ سب کے سامنے ہے’۔انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کو مخاطب کرکے کہا کہ ‘آپ نے جو باتیں کیں مجھے دکھ ہوا ہے، جبکہ میں نے آپ کی بیٹی سمجھ کر آپ سے گلہ کرنا اپنا حق سمجھا’۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، صرف رہنما ہی نہیں پارٹی کارکنان بھی قائد نوازشریف کی حفاظت کے خواہش مند ہیں ،انھوں نے مزید کہا کہ جس طرح بلاول بھٹو زرداری کو صرف آپ کے بیٹے کے طورپر نہیں دیکھا جاتا، اسی طرح مجھے بھی صرف بیٹی کے طورپر نہیں دیکھنا چاہئے. مریم نواز نے کہا کہ میں مسلم لیگ (ن) کی کارکن ہوں، میرا فیصلہ ہے کہ میں یہیں رہوں گی اور لڑوں گی ، یہ پارٹی اور میرا فیصلہ ہے کہ محمد نوازشریف کو صحت مند ہونےتک واپس نہیں آنا چاہئے.
مریم نواز نے کہا کہ آصف زرداری صاحب آپ یہاں پاکستان میں موجود ہیں لیکن پھر بھی وڈیو لنک سے پی ڈی ایم اجلاس میں شریک ہوتے ہیں،آپ کی طرح قائد محمد نوازشریف بھی وڈیو لنک سے اجلاس میں شریک ہوتے ہیں،؟ لیگی رہنما کا کہنا تھا آپ نے یہ بھی کہا کہ اسحاق ڈار صاحب کے نہ آنے سے ایک ووٹ ضائع ہوگیا، قومی اسمبلی میں 83 اور سینٹ میں 17 ووٹ دیئے. شکریہ ادا کرنے کے بجائے آپ ایک ووٹ کا ذکر کررہے ہیں. مریم نواز نے کہا کہ میں یہ بات نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ یہ چھوٹی بات ہے.مریم نواز نے کہا کہ محمد نوازشریف بستر مرگ پر دم توڑتی اپنی اہلیہ کو چھوڑ کر وطن واپس آئے تھے ،جھوٹے فیصلوں، غیرقانونی کھیل اور سیاسی انتقام کے باوجود وہ پیش ہوئے اور جیل گئے ،ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی جیل کا سامنا نہ کرنے کا الزام محمد نوازشریف پر نہیں لگاسکتا ،مریم نواز نے کہا کہ محمد نوازشریف نے جرات، بہادری اور ثابت قدمی سے بدترین حالات کا مقابلہ کیا ،
مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) بڑی جماعت ہونے کی حیثیت سے سب جماعتوں کو ساتھ لے کر چلتی ہے، ان کی بات سنتی ہے ،پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اس جذبے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اُس کا کوئی مؤقف نہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button