مریم کی آڈیو پر تحقیقات لیکن ثاقب نثار پر خاموشی کیوں؟


سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ایک ہوشربا آڈیو ٹیپ منظر عام پر آنے کے بعد ہر جانب سے اسکی تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ تاہم مریم نواز کی جانب سے ٹی وی چینلز کو اشتہارات کی تقسیم بارے لیک ہونے والی اپنی ایک آڈیو ٹیپ کو جینوئن تسلیم کیے جانے کے بعد فوری طور پر ایک تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی ہے جس سے تحریک انصاف حکومت کے انصاف کس دوہرا معیار کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ دوسری جانب حکومت کے علاوہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد بھی عدلیہ کی آزادی کے بلند و بانگ دعوے کرنے کے باوجود ابھی تک اس معاملے پر چپ سادھے ہوئے ہیں جس سے عدلیہ کی غیر جانبداری بارے شکوک و شبہات میں اور بھی اضافہ ہو گیا یے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل سوشل میڈیا پر مریم نواز کی ایک آڈیو ریکارڈنگ لیک ہوئی تھی جس میں انھیں چند پاکستانی ٹی وی چینلز کا نام لیتے ہوئے یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ اب انکو کوئی اشتہارات نہیں دئیے جائیں گے۔ بعد ازاں ثاقب نثار کی آڈیو ٹیپ بارے ایک پریس کانفرنس کے دوران مریم نواز سے سوال ہوا کہ کیا جس آڈیو کو ان سے منسوب کیا جا رہا ہے وہ درست ہے؟ تو انہوں نے اس کی تصدیق کر دی۔ اس اعتراف کے بعد وفاقی فواد چوہدری نے جوابی پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ مریم نے ن لیگ کے دور حکومت میں سرکاری اشتہارات من پسند چینلز اور صحافیوں میں بانٹے جو غیر قانونی ہے اور اعلان کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات شروع کی جا رہی ہیں۔ تاہم جب ان سے ثاقب نثار کی آڈیو ٹیپ کی تحقیقات کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت سے متعلقہ ہے، حکومت سے نہیں، اور ویسے بھی ایک جعلی ٹیپ کی انکوائری کروانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق مریم کے انکشافات پر تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی ‘ن لیگ کے دور حکومت میں میڈیا کو جاری کیے جانے والے اشتہارات میں بےضابطگیوں اور میڈیا سیل کے ذریعے من پسند صحافیوں اور مختلف میڈیا گروپس کو نوازنے سے متعلق اپنی رپورٹ مرتب کرے گی۔
بعد ازاں فواد نے الزام عائد کیا کہ مریم کی سرپرستی میں قائم میڈیا سیل کے ذریعے قومی خزانے سے وفاقی حکومت کے 9 ارب 62 کروڑ 54 لاکھ 3 ہزار 902 روپے خرچ کیے گئے اور اس میڈیا سیل سے پنجاب کی ایڈورٹزمنٹ کو کنٹرول کرنے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ لہذا تحقیقاتی کمیٹی میڈیا سیل کے ذریعے سرکاری رقوم کے غیر قانونی استعمال کے معاملات کی تحقیقات کر کے اپنی رپورٹ مرتب کرے گی۔‘ مریم نواز کی آڈیو میں ُسنا جا سکتا ہے کہ وہ کہہ رہی ہیں ‘آج سے سما کے اشتہار بلکل بند ہیں۔ ٹھیک ہے؟ ٹوئنٹی فور چینل کو، سما کو، نائنٹی ٹو کو اور کیا نام ہے اس کا۔۔ اے آر وائی کو۔۔ کوئی ایڈ نہیں جائے گا، بالکل۔’
اپنی پریس کانفرنس میں اس آڈیو کی تصدیق مریم نواز نے کچھ ان الفاظ میں کی؛ ‘میں یہ نہیں کہہ رہی کہ وہ جوڑ جوڑ کر بنائی گئی ہے یا وہ میری آواز نہیں ہے، وہ میری ہی آواز ہے۔’ ایک اور سوال کے جواب میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’میری پارٹی کا میڈیا سیل میں تب چلا رہی تھی۔ وہ بہت پرانی ہے لیکن میں نے جب کہہ دیا کہ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ وہ میری فلاں تقریر سے توڑ جوڑ کر بنائی گئی ۔ تو یہ کافی ہے اس پر میں لمبی چوڑی بات کر سکتی ہوں لیکن پھر کسی وقت۔‘
اس پریس کانفرنس کے دوران سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ ن کے رہنما پرویز رشید، جو مریم نواز کے ساتھ بیٹھے دیکھے جا سکتے ہیں، مریم نواز کو یہ کہتے سنائی دیے کہ ’یہ آج کی بات نہیں ہے، اس پر نہ کرنا بات۔‘ مریم نواز کے اس اعتراف کے بعد پرویز رشید نے کہا ہے کہ ’کیا کسی کو کم اشتہار ملنا بڑا جرم ہے یا کسی صحافی کو اغوا کر لینا؟ لوگوں کو فیصلہ کرنے دیا جائے کہ کون چھوٹی غلطیوں کا مرتکب ہو رہا ہے اور کون بڑی غلطیاں کر رہا ہے۔‘
تاہم اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا مریم نواز نے جن اشتہارات کا تذکرہ کیا وہ سرکاری اشتہارات تھے؟ فواد چوہدری کے دعوے کے بعد ن لیگ کی جانب سے تردید کی گئی ہے کہ مریم نواز نے جس آڈیو کی تصدیق کی اس میں سرکاری اشتہارات کا تذکرہ ہو رہا تھا۔ نون لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ‘یہ پبلک منی نہیں تھی، بلکہ پارٹی فنڈز تھے جن کی بات ہو رہی ہے اور اس میں کوئی غیر قانونی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات 2015 کی نہیں ہے، بلکہ 2010 کی ہو سکتی ہے۔ جب یہی سوال سابق وزیر اطلاعات اور ن لیگ کے سنیٹر پرویز رشید سے کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مریم کے مطابق انھیں یہ نہیں یاد کہ یہ ٹیپ کس وقت کی ہے۔ پرویز کا کہنا تھا کہ ان کو مریم نے یہی کہا ہے کہ وہ پارٹی کے لوگوں سے بات کر رہی تھیں اور پارٹی کے اشتہارات کی بات ہو رہی تھی۔ پرویز کے مطابق مریم کی آڈیو میں کوئی سرکاری اہلکار نہیں، بلکہ ایک سیاسی جماعت کا ورکر الیکشن مہم کے دوران بات کر رہا ہے، جس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ یہ دیکھتے ہوئے کہ اس کا ووٹ بینک کون سا چینل دیکھتا یا کون سا اخبار پڑھتا ہے، یہ فیصلہ کرے کہ اس نے کس چینل کو اشتہار دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آج لال لال لہرائے گا!

اس سوال پر کہ کیا مریم کا چند مخصوص ٹی وی چینلز کو اشتہارات نہ دینے کا فیصلہ ن لیگ کے میڈیا کی آزادی کے موقف کی تردید نہیں، پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ’جب ملک میں دھرنے کرائے گئے، ایک منتخب حکومت کو تنگ کیا گیا، تو اس وقت میڈیا کا ایک بڑا حصہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں عوام کی ذہن سازی کے لیے استعمال کیا گیا اور یہ بیانیہ بنایا گیا کہ سیاست دان کرپٹ ہوتے ہیں، اس کشمکش میں پھر دوسری طرف کے لوگ بھی وہ کرتے ہیں جو ان کے اختیار میں ہوتا ہے۔ جن پر حملہ ہوتا ہے وہ اپنے دفاع کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ پرویز کا کہنا تھا کہ نہتی جمہوریت کا مقابلہ ایک ایسی طاقت کے ساتھ ہوتا ہے جس کے پاس وسائل بھی ہیں، جو مذہبی جذبات اور صحافت کا بھی استعمال کرتی ہے لہذا ایسے میں جب ایک فریق کو نشانہ بنایا جاے گا تو دوسرے فریق نے بھی اپنا دفاع کرنا ہوتا ہے لیکن لوگوں کو فیصلہ کرنے دیں کہ کون چھوٹی غلطیوں کا مرتکب ہو رہا ہے اور کون بڑی غلطیاں کر رہا ہے۔ کیا کسی کو کم اشتہار ملنا بڑا جرم ہے یا کسی صحافی کو اغوا کر لینا؟’

Back to top button