پنڈورا پیپرز کی تحقیقات شروع ہونے سے پہلے ہی ختم

وزیراعظم عمران خان نے پینڈورا پیپرز لیکس کی فوری تحقیقات کرنے اور قومی خزانہ لوٹنے والوں کو عبرتناک سزا دلوانے کا جو وعدہ کیا تھا وہ حسب توقع ہوائی نکلا کیونکہ جن پاکستانیوں کے نام بیرون ملک آف شور کمپنیاں نکلی تھیں ان میں سے زیادہ تر وزیراعظم کے اپنے حکومتی ساتھی اور اتحادی ہیں۔ لہذا پینڈورا پیپرز کی تحقیقات شروع ہونے سے پہلے ہی سرد خانے کی نذر کر دی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ پنڈورا پیپرز لیکس سامنے آنے کے بعد وزیراعظم نے بلند و بانگ دعوے کرتے ہوئے اپنی زیر نگرانی ایک تحقیقاتی سیل قائم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جس نے فوری احتساب کا آغاز کرنا تھا۔ تاہم اپوزیشن نے تب ہی اس خدشے کا اظہار کر دیا تھا کہ عمران خان ایسا نہیں کریں گے کیونکہ پینڈورا پیپرز میں ان کے کچھ قریبی ساتھیوں کے نام بھی شامل ہیں۔ اب یہ خدشات درست ثابت ہوئے ہیں کیونکہ پنڈورا کی تحقیقات کے لیے ابھی تک کوئی عملی کارروائی شروع ہی نہیں ہو سکی۔ 3 اکتوبر کو پبلک ہونے والے پینڈورا پیپرز میں پاکستان سے سات سو نمایاں افراد کے نام سامنے آئے تھے جن میں وہ فوجی جرنیل، کاروباری حضرات، سیاستدان اور میڈیا مالکان شامل تھے جنہوں نے بیرون ملک اپنی آف شور کمپنیوں میں لاکھوں ڈالرز جمع کروا رکھے ہیں۔ کپتان حکومت کے وزیر خزانہ شوکت ترین کا نام بھی پنڈورا پیپرز میں شامل ہے۔ ان کے علاوہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الہی کے بیٹے چوہدری مونس الہی کا نام بھی سامنے سامنے آیا جو کہ وفاقی وزیر آبی وسائل ہیں۔
تاہم دو ماہ گزر جانے کے باوجود پنڈورا پیپرز کے حوالے سے کوئی کاروائی نہیں ہو پائی اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے یہ معاملہ سرد خانے کی نذر کر دیا ہے تاکہ اپنے ساتھیوں اور اتحادیوں کی ناراضی سے بچا جا سکے۔ سینئر صحافی فخر درانی کا کہنا ہے کہ دو ماہ قبل بیرون ملک آف شور کمپنیاں رکھنے کے حوالے سے جو نام سامنے آئے تھے انکے خلاف ابھی تک نہ تو فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے کوئی کام شروع کیا یے اور نہ ہی کسی اور ادارے نے۔
ایف بی آر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے انکے ادارے میں کچھ خاص نہیں ہو رہا۔ تاہم پاکستان کے ٹیکس اکٹھا کرنے والے ادارے کے ترجمان نے تسلیم کیا کہ ایف بی آر اس سیٹ اپ کا حصہ ہے جو پنڈورا پیپرز لیکس کی تحقیقات کے لیے پرائم منسٹر انسپکشن کمیشن (PMIC) کے تحت کام کر رہا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستانی امرا بیرون ملک آف شور کمپنیاں اس لیے بناتے ہیں تا کہ انہیں اپنا پیسہ پاکستان میں رکھ کر اس پر ٹیکس نہ دینا پڑے۔
دوسری جانب عمران خان کی زیر نگرانی کام کرنے والی پرائم منسٹر انسپکشن ٹیم بھی اس معاملے میں الجھنے کی بجائے خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے اور اس نے بھی اب تک کوئی پیش رفت نہیں کی۔ وزیراعظم کی طرف سے پینڈورا کی تحقیقات کے اعلان کے بعد انکی انسپکشن ٹیم نے تفتیش کا طریقہ کار طے کرنے کے لیے دو اجلاس کیے اور پھر لمبی تان کر سو گئی۔ یاد رہے کہ غیر ملکی اثاثوں کے اعلان اور وطن واپسی ایکٹ 2018 کے تحت ایف بی آر کو کسی بھی پاکستانی ٹیکس ریذیڈنٹ سے آف شور کمپنیوں سمیت اثاثوں کی تفصیلات طلب کرنے کا براہ راست مینڈیٹ حاصل ہے، تاہم اسے یہ اختیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور ایف بی آر کو پی ایم انفیکشن ٹیم کا حصہ بنا دیا گیا۔
دوسری جانب سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے کچھ ایسی کمپنیوں کو سوالنامے بھیجے جن کے ڈائریکٹرز یا شیئر ہولڈرز بیرون ملک آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔ لیکن یہ شوکاز نوٹس نہیں بلکہ آف شور کمپنیوں کے بارے میں ایک دوستانہ سوالنامہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں:چٹاگانگ ٹیسٹ میں بنلگہ دیش کی بیٹنگ جاری
لہذا یوں لگتا ہے کہ پانامہ پیپرز کے برعکس، جہاں آف شور ہولڈرز کی تحقیقات کے لیے مربوط پالیسی اپنائی گئی، حکومت کے پاس پنڈورا پیپرز کی انکوائری کے لیے ایک متفقہ طریقہ کار کا فقدان ہے۔ پانامہ پیپرز میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر حکومت نے ایک پلیٹ فارم پر معاملے کی تحقیقات کے لیے مختلف سرکاری محکموں کے ماہرین پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یعنی جے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ تاہم پنڈورا پیپرز کی تحقیقات کے عمل میں اداروں میں ہم کوئی آہنگی نظر نہیں آتی۔ شاید اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ تب جی آئی ٹی اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر بنائی گئی تھی جو کہ وزیراعظم نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی۔
