مسلم لیگ ن میں اختلافات مفروضہ ہیں

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے پارٹی میں اختلافات کو مفروضہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔
گفتگو کے دوران ایک صحافی نے شہباز شریف سے سوال پوچھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی سمجھتی ہے پنجاب میں تبدیلی کے لیے آپ اور حمزہ راضی ہیں، مریم نواز نہیں؟ اس پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پنجاب میں تبدیلی کے معاملے پر شریف خاندان میں اختلافات کی بات مفروضہ ہے، پی ڈی ایم کا کارواں آگے بڑھتا رہے گا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ شہباز شریف جلسے کرنے سے پہلے ن لیگ میں لیڈر شپ کا فیصلہ کریں، لیگ میں آدھے لوگ مریم نواز اور آدھے شہبازشریف کے پیچھے چل رہے ہیں۔فواد چوہدری کا نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نواز شریف کو سمجھ نہیں آ رہا کہ شادیاں اٹینڈ کریں یا سیاست کریں، لندن میں شادی کی تقریب میں ملین ڈالر سے زیادہ کا خرچہ ہوا، شادیاں کریں لیکن عوام کے پیسوں سے نہیں۔
وفاقی وزیر نے سندھ حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ میں گورننس کی صورتحال تشویشناک ہے، سارے اسی مشن پر لگے ہوئے ہیں کہ وفاق سے آنے والے پیسے کو کیسے دبئی منتقل کریں۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نہ خود کام کرتی ہے اور نہ کرنے دے رہی ہے، سندھ حکومت نام بدل کر ہی سہی عوام کو صحت کارڈ تو دے۔
