ملک گیر کریک ڈاؤن حکومتی معیاد پوری کرنے کا اعلان

شہباز شریف حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ تب کیا گیا جب اتحادی جماعتوں نے حکومت کی آئینی معیاد پوری کرنے کا حتمی ذہن بنایا اور عمران خان کا فوری الیکشن کا مطالبہ مسترد کر دیا۔ باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کے اتحادی جماعتوں کی قیادت خصوصاً آصف علی زرداری اور شہباز شریف نے فوجی اسٹیبلشمنٹ پر بھی واضح کر دیا ہے کہ موجودہ ملکی صورتحال میں فوری الیکشن کروانا ممکن نہیں اور حکومت کی پہلی ترجیح معیشت کی بحالی ہے۔ اتحادیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ چونکہ حکومت کی آئینی معیاد اگست 2023 میں ختم ہونا ہے لہٰذا عبوری حکومت بھی اگلے برس اپریل یا مئی میں بنائی جائے گی جیسا کہ آئین میں لکھا گیا ہے۔ چنانچہ عمران خان کی جانب سے 25 مئی سے حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کے اعلان کے بعد حکومت نے ریاستی رٹ قائم کرنے کے لیے تحریک انصاف کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتوں نے موجودہ صورتحال میں مشکل فیصلے کرنے اور اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا فیصلہ کم از کم دو ہفتے طویل مشاورت کے بعد کیا ہے۔ لہٰذا اب نہ تو اسمبلیاں تحلیل ہوں گی اور نہ ہی قبل ازوقت انتخابات بلکہ اتحادی حکومت آنے والی معاشی اور سیاسی صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی اور ہر صورت میں اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔ اس فیصلے کے مرکزی کرداروں میں آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف کے علاوہ لندن سے نواز شریف شامل تھے۔
اس سے پہلے متضاد خبریں سامنے آرہی تھیں کہ مسلم لیگ (ن) کے بعض مرکزی رہنما اور قائدین موجودہ حکومت کی جانب سے ملک کی معاشی صورتحال کے پیش نظر بعض سخت اور مشکل فیصلے کرنے سے گریزاں اس لئے ہیں کہ ان فیصلوں سے اگلے انتخابات میں انہیں عوامی حمایت سے محروم ہونے کے خدشہ لاحق تھے اور اس بات کا یقینی امکان بھی کہ انہیں الیکشن لڑنے میں بہت زیادہ مشکلات پیش آئیں گی۔ دوسری طرف اتحادی حکومت کے دو اہم فریق آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان اس کے برعکس اس حوالے سے ایک پیج پر تھے کہ ’’حکومت ہر صورت میں اپنی آئینی مدت پورے کرے‘‘ اور یہ بھی کہ الیکشن آنے تک حکومت اپنی کارکردگی کے حوالے سے آنے والے حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے تیاری کرے، تاہم مسلم لیگ (ن) کے بعض قائدین کی جانب سے آراء میں اختلاف کے باعث صورتحال ایک تنازعے کی شکل اختیار کرتی جارہی تھی اور یہ تاثر زور پکڑتا جارہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت، جس میں وزیراعظم شہباز شریف شامل نہیں، اسمبلیوں کی تحلیل اور ملک میں فوری الیکشن کے حامی ہیں اور انہوں نے اس حوالے سے فیصلہ بھی کر لیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری کی جانب سے نواز شریف کو اس بات پر قائل کیا گیا کہ عمران کو نکالنے کے بعد اتحادی جماعتوں کا اگلا اہم ترین ٹاسک نئے آرمی چیف کی تقرری ہے کیونکہ عمران کے دست راست فیض حمید کے فوجی سربراہ بننے کا رسک نہیں لیا جا سکتا۔ نواز شریف کو یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ اگلے الیکشن سے پہلے ابھی آئینی اصلاحات سمیت بہت سارے ایسے اقدامات کرنا ہیں جن سے حالات کو اپنے لیے سازگار بنایا جا سکتا ہے، لہذا مشکل معاشی فیصلے کرنے کا ذہن بنایا جائے اور الیکشن اگلے برس ہی کروائے جائیں۔ آصف زرداری کا موقف تھا کہ عمران کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد اگر حکومت جلدی انتخابات پر آمادہ ہو جاتی ہے تو یہ اتحادیوں کی شکست اور عمران کی جیت تصور کی جائے گی جس کا اثر اگلے الیکشن کے نتائج پر بھی پڑ سکتا ہے۔ چنانچہ حکومتی اتحادیوں نے پی ٹی آئی کا جلد انتخابات کا مطالبہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعد تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو ناکام بنانے کے لیے سخت کریک ڈاؤن شروع ہو چکا ہے۔
