ممکن ہے ہم بھی ناکام ہو جائیں

عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ تمام مسائل کی جڑ 30 ہزار ارب کا قرض ہے، حکومت آئی تو جاری کھاتوں کا خسارہ ریکارڈ سطح پر تھا، ملک میں ڈالر کا نہ ہونا بحران کی بڑی وجہ ہے، روپے تو چھاپ سکتے ہیں ڈالر نہیں، گزشتہ 7 ماہ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا۔انہوں نے کہا ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ اگر ہم نے صحیح اقدامات نہیں اٹھائے تو ہم بھی ناکام ہوجائیں گے یہ اس ملک کے لیے بڑا چیلنج ہے۔
ڈاکٹر حفیظ شیخ نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ 72 سال میں اس ملک کا ایک بھی وزیراعظم اپنی مدت مکمل نہیں کرسکا اور پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان سب سے زیادہ عرصے تک اس عہدے پر رہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم استحکام کی بات کرتےہیں توکچھ چیزوں کو نظر میں بھی رکھنا چاہیے، میری کوشش ہوگی کہ ہم ایک دوسرے کی بات سنیں کیونکہ جو بھی ہماری معیشت میں ہورہا ہے اس کے اثرات براہ راست لوگوں پر پڑ رہے ہیں۔
حفیظ شیخ نے کہا کہ ایسے کوئی ملک نہیں ہوسکتے کہ لوگ ترقی پذیر ہوں اور ممالک ترقی یافتہ ہوں، ایسا کوئی ملک نہیں کہ لوگ پڑھےلکھے نہ ہو، ان کے پاس ہنر نہ ہو، انہیں نظرانداز کیا جائے اور ملک ترقی کرہائے اگر ہم نے آگے جانا ہے اور ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ کھڑے ہونا ہے تو ہم اپنے لوگوں پر دھیان دیں۔ انہوں نے کہا کہ حقائق میں تیسری بات یہ ہے کہ پاکستان 72 برس میں کامیاب نہیں ہوسکا، اپنی چیزیں دوسرے ممالک کو بیچنے میں یا دوسرے ممالک کو سرمایہ کاری کے لیے قائل کرنے کی کوششیں کرتا رہا تو جن ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں جنہوں نے ہمارے سامنے ترقی کی چاہے وہ چین ہو، تھائی لینڈ، ملائیشیا یا کوریا ان سب نے پوری دنیا کے ساتھ مل کر ایسا طریقہ ڈھونڈا کہ وہ اپنی چیزیں وہاں بیچ سکیں اور ایسا ماحول پیدا کیا کہ دوسرے ممالک وہاں سرمایہ کرسکیں۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ 72 سال میں پاکستان ٹیکس وصولی میں اچھے سے کامیاب نہیں ہوسکا اور ہم ہمیشہ خوددار ملک ہوتے ہوئے دوسرے ممالک پر انحصار کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں ایسے دور آئے کہ ترقی کی رفتار میں تیزی آئی لیکن یہ رفتار 3 سے 4 برس تک مسلسل نہیں چل سکی، 60 کی دہائی، 80 کی دہائی اور 2000 کے عشرے میں آئی تو وہ پائیدار ثابت نہیں ہوسکی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سوچنا ہے کہ گروتھ ریٹ حاصل تو کرسکتی ہے لیکن یہ مسلسل جاری کیوں نہیں رہ سکتی اگر ہم ان سوالوں کے جواب نہیں دے پائیں گے تو معیشت میں وہ پائیدار ترقی نہیں ہوگی جس سے ہم اپنے لوگوں کی زندگی بدل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل چیز یہ نہیں ہے کہ کون زیادہ اچھی تقریر کرتا ہے اور اپنے ہی لوگوں سے تالیاں بجواتا ہے اصل چیز یہ ہے کہ ہم ان چیزوں پر ایک ساتھ ہوکر چلیں جو اس ملک کے فائدے کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جو بحران ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ڈالرز نہیں ہیں اور ہم نے قرضے بھی ڈالرز ہی میں لیے ہیں اور ہم ڈالرز ختم کرتے چلے جارہے ہیں۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ 5 برس میں برآمدات صفر فیصد رہیں اور ڈالر کو سستا رکھا گیا ہمارے معیشت کی صنعتکاری پر اثر پڑا یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر ہمیں سوچنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ چیلنج اس حکومت کے لیے بھی ہے، یہ عین ممکن ہے کہ اگر ہم نے صحیح اقدامات نہیں لیے تو ہم بھی ناکام ہوجائیں گے یہ اس ملک کے لیے بڑا چیلنج ہے۔
ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ اگر ہم نے مستقل اور پائیدار انداز میں اپنے ملک کو بہتری کی جانب لے جانا ہے تو یہ ایک بنیادی چیلنج ہے جس سے ہمیں نمٹنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کی زراعت نے اس انداز میں ترقی نہیں ہوئی، کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا جبکہ اس پر کتنے لوگ انحصار کرتے ہیں اور جو گروتھ ریٹ تھا وہ بھی صفر کے برابر رہا۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ میرے خیال میں اس ملک کا الیکٹرک سٹی سیکٹر پاکستان کے لیے تباہی کا باعث بن سکتا ہے اور ہم بطور ملک اس مسئلے کو حل کرنے میں مسلسل کرنے میں ناکام ہے اور یہ مسئلہ گردشی قرضوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختصراً یہ کہ ہمیں دیوالیہ نظر آرہا تھا، ہم بحران میں داخل ہوچکے تھے، کوئی قرض دینے کے لیے تیار نہیں تھا توجب لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ آپ نے یہ نہیں کیا، وہ نہیں کیا تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ڈالرز ختم ہوچکے تھے اور کوئی قرض دینے کو بھی تیار نہیں تھا۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ اس صورتحال میں ہمیں ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا کیونکہ وہ عوام کے لیے بہت خطرناک ہوتا، انہوں نے کہا کہ یہ نمبروں کا کھیل نہیں اس کا انسانوں کی زندگی سے واسطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ دوست ممالک نے مدد کی اور ہم نے 8 ارب ڈالر کی دو طرفہ معاونت حاصل کی اور سو ڈالر میں تیل خریدنے کے لیے موخر ادائیگی کی سہولت حاصل کی۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ یہ چیز اہم تھی کہ آئی ایم ایف کے پاس جائیں، آئی ایم ایف کے بارے میں بہت تقریریں ہوئی جذبات کا اظہار بھی ہوا میں فقط یہی کہوں گا کہ 2008 میں جو حکومت وہ بھی آئی ایم ایف کے پاس گئی اور 2013 میں جو حکومت آئی وہ بھی آئی ایم ایف کے پاس گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ لوگ جو خود جاچکے ہوں وہ دوسرے کو اسی چیز پر تنقید کریں۔
ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ یہ ہمارا قومی مسئلہ ہے کہ ترقی کی رفتار ایسی نہیں ہوتی کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس نہ جائیں، آئی ایم ایف کوئی بھی خوشی سے نہیں جاتا چاہے وہ پچھلی حکومتیں ہوں یا موجودہ حکومت، حالات مجبور کرتے ہیں۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے فائدہ ہوا کہ ہم نے جو 6 ارب ڈالر کی فنانسنگ کی وہ آسان شرائط پر تھی یہی پیسے ہم کمرشل بنیادوں پر لیتے تو بہت مہنگے پڑتے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ ساری دنیا کو اعتماد ہوا کہ پاکستان ’ڈسپلن‘ اور اپنی حیثیت کے مطابق چلنے کو تیار ہے اور دنیا اور اس کے اداروں سے شراکت داری، اپنے اخراجات کو محدود کرنے اور پاکستان کے صاحبِ حیثیت لوگوں سے ٹیکس لینے کے لیے تیار ہے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ اس کا براہ راست فائدہ ہوا کہ دوسرے ممالک اور بین الاقوامی اداروں جیسا کہ عالمی بینک اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے تعاون میں اضافہ کیا اور اس سے پاکستان کی پالیسیوں پر اعتماد بڑھا۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کرنے کے لیے دوسری طرف سے بھی آئی ایم ایف کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے، یہ زیادتی کی بات ہے کیونکہ ان میں سے ایک شخص اسٹیٹ بینک کے موجودہ گورنر ڈاکٹر رضا باقر تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو رضا باقر پر فخر ہونا چاہیے، وہ لاہور سے پڑھے اور اپنی قابلیت کی وجہ سے امریکا کی بہترین یونیورسٹیز میں پڑھنے گئے، اپنی قابلیت کی وجہ سے آئی ایم ایف میں تعینات ہوئے وہاں ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی ایم این اے کا بندہ ہے تو نوکری مل جائے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ جو لوگ آئی ایم ایف کے کاریڈورز میں نہیں جاسکتے وہ آئی ایم ایف کے بڑے بڑے لوگوں پر تنقید کررہے ہیں تو یہ بھی سن لیں کہ رضا باقر نے آئی ایم ایف سے استعفیٰ دے دیا ہے انہوں نے اپنی نوکری کو ٹھکرایا کیونکہ وہ پاکستان کے لیے کام کرنا چاہتے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button