منہ پر ہاتھ پھیرنے والے کا کراچی منصوبہ کیسے بیک فائر ہوا؟


کراچی میں کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی گرفتاری کے ذریعے نواز شریف کو مزید دباؤ میں لانے اور اپوزیشن میں دراڑیں ڈالنے کا حکومتی منصوبہ نہ صرف بیک فائر ہوا ہے بلکہ اس کا الٹا اپوزیشن اور نوازشریف کو فائدہ ہو گیا ہے اور حکومت صرف شرمندگی کا شکار ہوئی ہے بلکہ بیک فٹ پر آگئی ہے۔
سینیئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے اپنے تازہ سیاسی تجزیہ میں کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کی جانب سے اپنے منہ پر ہاتھ پھیر کر اپوزیشن کو دی جانے والی دھمکی کے ہولناک نتائج سامنے آرہے ہیں۔ اب کسی کو شک نہیں رہنا چاہئے کہ 19 اکتوبر کی صبح کیپٹن صفدر کو کراچی میں گرفتار کرنے کا حکم کس نے دیا تھا اور اِس حکم پر عملدرآمد کے بھونڈے انداز کا سب سے زیادہ فائدہ لندن میں بیٹھے ایک شخص نواز شریف کو ہوا جس کی تقریروں پر پابندی لگا کر حکمران اپنے آپ کو بڑا طاقتور سمجھنے لگے تھے۔
حامد میر کے مطابق کیپٹن صفدر کی گرفتاری کی کہانی کے پیچھے کئی کہانیاں ہیں۔ کچھ منظر عام پر آ چکی ہیں، کچھ ابھی نہیں آئیں لیکن سب کہانیوں کے پیچھے کوئی نہ کوئی اپنے منہ پر ہاتھ پھیر کر دھمکیاں دیتا نظر آ رہا ہے۔ اِنہی دھمکیوں کے باعث 20؍اکتوبر کی شام کراچی میں ایک بھونچال آیا جب آئی جی سندھ سمیت پولیس کے درجنوں بڑے چھوٹے افسران نے چھٹی کی درخواستیں دے ڈالیں اور سندھ میں پولیس کی غیراعلانیہ ہڑتال کی صورتحال پیدا ہو گئی۔  حامد میر خے مطابق اِس صورتحال کو سنبھالنے کے لئے پہلے پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس کی جس میں اُنہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید سے مطالبہ کیا کہ وہ اِس واقعہ کی تحقیقات کریں کہ رات کے دو بجے کس نے آئی جی سندھ کے گھر کا گھیراؤ کیا اور صبح چار بجے اُنہیں کہاں لے جایا گیا؟
آرمی چیف نے اِس پریس کانفرنس کے فوراً بعد بلاول سے ٹیلی فون پر بات کی اور معاملے کی تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔ پھر اُنہوں نے آئی جی سندھ سے بھی بات کی اور آئی جی نے چھٹی پر جانے کا فیصلہ دس دن کے لئے ملتوی کر دیا۔ یوں سندھ میں ایک بہت بڑا انتظامی بحران ٹل گیا۔ رات خیر خیریت سے گزر گئی لیکن صبح کچھ وفاقی وزراء نے یہ الزامات لگانے شروع کردیے کہ سندھ پولیس نے بلاول ہاؤس کے اشارے پر چھٹی کی درخواستیں دیں۔ آئی جی سندھ کے کردار پر بھی سوالات اُٹھائے جانے لگے اور واضح ہو گیا کہ وفاقی حکومت سندھ میں پیدا ہونے والے بحران کو حل کرنے کے بجائے اُسے اپنی سیاست کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔
حامد میر کا کہنا ہے کہ آرمی چیف نے ایک بحران کو وقتی طور پر ٹال دیا، وفاقی حکومت اِس بحران کو واپس لانا چاہتی ہے۔ کپتان کی جانب سے منہ پر ہاتھ پھیر کر دی جانے والی دھمکیوں پر عملدرآمد کا ایک راؤنڈ پنجاب میں بھی شروع ہو چکا ہے۔ سب سے پہلے تو گوجرانوالہ کے جلسے کے منتظمین کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، اُس کے علاوہ مریم نواز، رانا ثناء اللہ اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں پر بھی مقدمے درج کر دیے گئے۔ شہباز شریف صاحب کو قید میں گھر کے کھانے کی سہولت سے محروم کر دیا گیا اور اُن کے قید خانے کو گوانتا ناموبے بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حامد میر کے مطابق خواجہ آصف کو بھی ایک ایسی مبینہ گفتگو کا پتا چل گیا ہے جس میں اُن کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ اُس گفتگو کے حوالے سے خواجہ آصف نے جو دعوے کئے ہیں، وہ پریشان کن ہیں۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے جلسوں کے بعد حکمران غصے اور جوش میں ہوش کا دامن چھوڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔اپوزیشن کی قیادت کے خلاف تھانہ شاہدرہ لاہور میں بغاوت کا مقدمہ حکومت نہیں بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بنا کیونکہ مقدمے کا مدعی ایک اشتہاری ملزم تھا۔ کراچی میں کیپٹن صفدر کے خلاف مقدمے کا مدعی بھی پولیس کو مطلوب شخص نکلا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ افسوس یہ ہے کہ موجودہ حکومت میں تاریخ سے سبق سیکھنے کی صلاحیت نظر نہیں آتی۔  آج کے حکمرانوں کو ماضی سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ 1972 میں پولیس کی ہڑتال کے بعد پنجاب میں بیورو کریسی نے ایک سرکاری افسر کی گرفتاری پر اور بعد ازاں مزدوروں نے کراچی میں بہت بڑی ہڑتال کی تھی۔  بہتر ہو گا کہ 2020 میں سندھ پولیس کے ردِعمل کے پیچھے سازش تلاش نہ کی جائے بلکہ اپنی غلطیوں کو تلاش کر کے اُنہیں سدھارا جائے۔ منہ پر ہاتھ پھیر کر دھمکیوں سے پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ مزید بگڑیں گے، اِس لئے ہوش کے ناخن لئے جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button