موجودہ حکومت ہماری حکومت کے ملبے تلے دب کر مر جائے گی

سابق وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہاہے کہ ہمارا سارا ملبہ حکومت پر پڑ گیا ہے اور یہ اس ملبے تلے دب کر مر جائیں گے۔
شیخ رشید نے فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرتےہوئے کہا کہ حالات ابتر و خراب، تشویشناک اور گھمبیر ہوتے جارہے ہیں، ان سے حکومت سنبھل نہیں رہی، آصف زرداری نے ان کو گھیر کے گھنٹہ گھر چوک میں مارا ہے، ہمارا سارا ملبہ ان پر پڑ گیا ہے اور یہ اس ملبے تلے دب کر مر جائیں گے، عمران خان ہیرو اور یہ سارے زیرو ہو گئے ہیں، 16 سیاسی پارٹیوں کے سیاسی جنازے باہر آگئے ہیں، جب سے یہ حکومت آئی ہے 30 فیصد مہنگائی بڑھی ہے، یو اے ای، چین اورسعودیہ سے یہ لوگ خالی ہاتھ لوٹے ہیں، موجودہ صورتحال میں ڈالر اسی ماہ کے آخر تک 200 تک پہنچ جائےگا، ہر چیز ڈبل ہے مگر کارکردگی صفر ہے، یہ فیل ہوگئے ہیں، اگر ملک دیوالیہ ہوگیا تو کیا کریں گے، ان کے پاس کوئی حکمت نہیں، جو تھی وہ کرچکے۔
انہوں نے کہا میں دو سال سے کہتا تھا ن سے شین نکلے گی سب نے دیکھ لیا، میں کہتا تھا یہ لوگ فضل الرحمان سے ہاتھ کریں گے، مولانا کے بیٹے نے کبھی باتھ روم نہیں بنایا وہ موٹر وے بنائیں گے، اس حکومت نے سیکیورٹی پر جس بندے کو لگایا وہ بقول شیرعلی خود 22 بندوں کا اجرتی قاتل ہے، رانا ثنااللہ کو حکومت نے غنڈہ گردی کے لئے رکھا ہے، وہ مجھے دھمکا رہا ہے اور کہتا ہے مجھے گھر سے نہیں نکلنے دے گا، اسے پتہ ہی نہیں حالات اس سے آگے نکل چکے ہیں، مجھ پر خود کش حملے ہو چکے ہیں میں ان سے نہیں ڈرا تو اس شیطان سے کیا ڈروں گا، میں رانا ثناء اللہ کو طلب کئے جانے کے قابل بھی نہیں سمجھتا۔
شیخ رشید کا کہنا تھا عمران خان کی قیادت میں ملک انقلاب کی جانب جارہا ہے، نواز شریف کو بلائیں اس جہاز سے بھی سواریاں اتر جائیں گی کہ چوروں کے ساتھ سفر نہیں کرنا، ہم گھروں میں بھی رہیں تو یہ حکومت جارہی ہے، اگر عمران خان کو گرفتار کیا گیا تو ملک سری لنکا بن جائے گا، ہم نے عمران خان کی سیکیورٹی کے حوالے سے خط لکھ دیا ہے، پی ٹی آئی نے اپنی حکمت عملی مکمل کر رکھی ہے، موجودہ حکومت نے نگران حکومت کیلئے نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس بلایا ہے، اجلاس میں نگران وزیراعظم کا اعلان اور 31 مئی سے پہلے کیئر ٹیکر گورنمنٹ بنالی جائے اور انتخابات کی تاریخ دی جائے۔
دریں اثنا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹوئٹ میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ مختصر ترین وقت میں متبادل جگہ پر عمران خان کا کامیاب ترین جلسہ سیاست کی تاریخ ہے، حکومت کے ہاتھ میں فیصلہ ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے، الیکشن کرانا ہیں یابرے حادثے کا شکا ر ہونا ہے۔
