مودی کے طعنے مارنے والے کپتان کا کلبھوشن کے لیے NRO


صبح وشام اپوزیشن قیادت کو این آر او نہ دینے کا راگ الاپنے والے وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کی بھر پور مخالفت کے باوجود بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سے بچانے کے لیے این آر او کی منظوری دے دی۔ یاد رہے کہ کلبھوشن کو پاکستان میں بھارت کے لیے جاسوسی کے علاوہ دہشت گرد کارروائیوں میں کئی پاکستانیوں کو مروانے کا الزام بھی تھا۔
21 اکتوبر کے روز اپنے سیاسی مخالفین کو بھارتی ایجنٹ اور نواز شریف کو مودی کا یار قرار دینے والے وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے مودی کو خوش کرنے کے لیے اپوزیشن اراکین کی سخت مزاحمت کے باوجود قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف سے کلبھوشن یادیو کی سزا پر نظر ثانی سے متعلق حکومتی بل کی منظوری دے دی۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایک فوجی عدالت سے جاسوسی اور دہشت گردی پر سزائے موت پانے والے بھارتی جاسوس کو سزائے موت سے بچانے کے لئے بل کی منظوری کو کپتان کا این آر او قرار دیا ہے۔ بل کی بھر پور مخالفت کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنماوں نے کہا کہ عمران خان نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کے دشمن اور سینکڑوں کشمیریوں کے قاتل مودی کا اصل یار کون ہے۔
خیال رہے کہ این آر او فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے جلا وطن سیاسی قیادت کو دیے گئے قومی مصالحتی آرڈیننس کا مخفف ہے جس کے تحت سیاستدانوں کے خلاف احتساب کے مقدمات ختم کردیے گئے تھے لیکن مشرف کے این آر او اور عمران کے این آر او میں فرق یہ ہے کہ فوجی جنتا نے سیاستدانوں کے خلاف انتقامی بنیاد پر قائم ہونے والے مقدمات ختم کرنے کے لیے این آر او دیا تھا جبکہ کلبھوشن یادیو کو ایک فوجی عدالت نے اس کے جرائم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تھی جس سے اسکو بچانے کے لئے این آر او دیا جا رہا ہے۔
اس معاملے میں وفاقی وزیر قانون اور انصاف فروغ نسیم نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس آرڈیننس پر اپوزیشن کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسے عالمی عدالت انصاف کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے متعارف کروایا گیا ہے اور یہ الزام غلط ہے کہ حکومت مودی کو خوش کرنا چاہتی ہے۔ فروغ نے کہا کہ اگر پارلیمان میں بل منظور نہ ہوا تو عالمی عدالت انصاف کے حکم کی تعمیل نہ کرنے پر پاکستان کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس موقع پر جے یو آئی ایف کی رکن اسمبلی عالیہ کامران نے کہا کہ ’آپ قوم کو گمراہ کر ریے ہیں، ہم یہاں بھارتی جاسوس کے لیے قانون سازی کرنے کو نہیں بیٹھے، اس بل کو عوامی بحث کے لیے عوام اور بار ایسوسی ایشنز کے سامنے پیش کیا جانا چاہیئے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ قانون سازی غیر ضروری ہے کیوں کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان ناصر الملک کہ چکے ہیں کہ آئینی عدالتیں فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر نظر ثانی کرسکتی ہیں‘۔
اس موقع پر پی پی پی رہنما سید نوید قمر نے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے حکومت فوجی عدالت کی سزا کے خلاف کلبھوشن یادیو کو اپیل کی رعایت دے رہی ہے جو کسی پاکستانی شہری کو بھی میسر نہیں، یہ بھارتی جاسوس کو این آر او دینے کے مترادف ہے اور ہم اس بل کی مخالفت کرتے ہیں۔ لیکن وزیر قانون کا کہنا تھا کہ وزارت قانون نے مذکورہ آرڈیننس نافذ کر کے بھارت کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں توہین عدالت کی ممکنہ درخواست کو پہلے ہی روکنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کہ نہ تو بھارت اور نہ ہی کلبھوشن یادیو نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے تحت ریلیف حاصل کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جسکی وجہ سے پاکستان مشکل میں آ گیا تھا اور وزارت قانون کو بھارتی جاسوس کے لیے وکیل مقرر کرنے کے لیے درخواست دائر کرنی پڑی جو زیر التوا ہے۔
وزیر قانون نے مزید کہا کہ بھارت عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا ہر بہانہ ڈھونڈ رہا ہے، اس صورتحال میں اگر معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجا گیا تو ملک کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن نواز لیگ کے بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا نے وزارت قانون پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارتی مفادات کا تحفظ کررہی ہے اور وزارت کو پاکستان پر پابندیوں کے بجائے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کا معاملہ سلامتی کونسل میں لے کر جانا چاہیئے۔ اس پر وزیر قانون نے جواب دیا کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے کورٹ مارشل کے دوران کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی نہ فراہم کر کے ایک لوپ ہول چھوڑ دیا تھا جو ہم بھگت رہے ہیں۔ اس کے جواب میں محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ یہ حکومت کا فیصلہ نہیں تھا کیوں کہ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا نقطہ نظر یہ تھا کہ کلبھوشن یادیو کو تفتیش کے دوران قونصلر رسائی نہیں ملنی چاہیے اور یہ بات آپ بھی جانتے ہیں۔
اپوزیشن اراکین نے متفقہ طور پر بل کو ’بھارتی جاسوس کے لیے این آر او‘ قرار دیا اور کمیٹی کے چیئرمین ریاض فتیانہ سے اسے مسترد کرنے کی درخواست کی۔ تاہم تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے کمیٹی چیئرمین نے معاملہ ووٹنگ کے ذریعے حل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ووٹنگ کے دوران 8 ارکاین نے بل کے حق جبکہ 5 نے مخالفت میں ووٹ دیے اور یوں بھارتی جاسوس کو این آر او دلوا دیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button