بھارتی میڈیا کا کراچی میں سول وار چھڑ جانے کا بھونڈا پروپیگنڈہ

پچھلے کچھ دنوں سے بھارتی نیوز چینلز پر کراچی میں آئی جی سندھ کو یرغمال بنانے کے واقعے کے تناظر میں پاکستان میں فوج اور پولیس کے مابین تصادم اور ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹی اور بے بنیاد خبریں چلانے کا ایک سلسلہ جاری ہے جس نے بھارتی میڈیا کی ساکھ کو مزید خراب کیا ہے۔
ان جھوٹی خبروں کے ذریعے بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کے اپنے سارے پرانے ریکارڈز توڑتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ کراچی کو فوج نے ٹیک اوور کر لیا ہے اور سڑکوں پر فوج کے ٹینک پھر رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا اپنی اِس احمقانہ خواہش کو خبر بنا کر چلاتا رہا کہ کراچی میں فوج اور پولیس کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں اور کئی لوگ مارے جا چکے ہیں۔ بھارتی میڈیا کی اس جھوٹ پر مبنی شرم ناک مہم میں بعض بڑے بھارتی ٹی وی چینلز بھی شامل تھے۔ بھارتی چینلز نے اپنی جھوٹی کی دکان سے یہ پروپیگنڈا بھی کیا گیا کہ کراچی کے علاقے ’گلشن باغ‘ میں دوطرفہ جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں، حالانکہ جھڑپیں تو ایک طرف کراچی میں تو ’گلشن باغ‘ نام کا کوئی علاقہ تک نہیں۔ اس شرم ناک جھوٹ کو پھیلانے میں بھارتی چینل سی این این نیوز 18 اور ٹائمز ناؤ پیش پش تھے۔ ان خبروں پر پاکستانی صحافی طلعت اسلم نے بھارتی میڈیا کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ کراچی میں سول وار کے قریب ترین چیز سول لائنز تھانہ ہے اور آرٹلری کے نام سے آرٹلری میدان تھانہ ہے جو میری کھڑکی سے نظر آتا ہے۔
صحافی مبشر زیدی نے کراچی میں دو بھارتی شہروں کے نام سے معروف دکانوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’بومبے بیکری‘ اور ’دہلی سوئیٹ ہاؤس‘ پر صورتحال سنجیدہ ہے اور کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ معروف وکیل ریما عمر نے کہا کہ بھارتی میڈیا فکشن کو خبر بنا کر پیش کر رہا ہے۔ مصنفہ بینا شاہ نے لکھا کہ وہ ابھی ابھی شہر سے سودا سلف خرید کر لائی ہیں اور شہر میں کوئی خانہ جنگی نہیں ہو رہی۔
اس کے علاوہ بھی سوشل میڈیا صارفین نے بھارتی میڈیا کی خوب کلاس لی اور اسکی جھوٹی خبروں کا مذاق اڑاتے رہے۔تاہم اس سب کے باوجود بھارتی میڈیا نے پاکستان کے حوالے سے بونگی خبریں چلانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ٹوئٹر پر ایک اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی گئی کہ ’پاکستان کے چار فوجی اور سندھ پولیس کا ایک سب انسپکٹر کراچی میں ہونے والی ایک جھڑپ میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ کراچی میں سڑکوں پر ٹینک نظر آئے ہیں۔ ایک گھنٹے بعد اسی اکاؤنٹ سے ایک اور ٹویٹ کی گئی جس میں لکھا تھا: ’کراچی کے گلشن باغ علاقے سے بھاری فائرنگ کی آوازیں، پاکستان فوج نے سندھ پولیس کے سپرنٹینڈنٹ محمد آفتاب کو حراست میں لینے کی کوشش کی۔‘
پاکستان میں صارفین کے لیے یہ ٹویٹس کافی حیرانی کا باعث تھیں کیونکہ ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسی حوالے سے متعدد صارفین نے یہ شکایت سوشل میڈیا پلیٹ فارم تک بھی پہنچائی کہ یہ ’فیک نیوز‘ یعنی غلط خبر ہے۔ لیکن یہ سلسلہ تھم نہ سکا اور رات بھر انڈیا سے تعلق رکھنے والے مختلف اکاؤنٹس سے اسی نوعیت کی ٹویٹس کی جاتی رہیں۔ ایک انڈین ٹوئٹر صارف پرشانت پٹیل امراؤ نے، جن کا ٹوئٹر اکاؤنٹ نہ صرف ’تصدیق شدہ‘ ہے اور ٹوئٹر پر وہ خود کو بطور وکیل انڈین سپریم کورٹ پیش کرتے ہیں، متعدد ٹویٹس میں لکھا کہ ’پاکستان میں خانہ جنگی کے حالات بن گئے ہیں، پولیس اور فوج کے درمیان تصادم میں کئی اہلکاروں کی ہلاکت ہو گئی ہے، وزیر اعظم عمران خان نے ریڈیو پر قومی نغمے چلانے کا حکم دیا ہے اور ممکنہ طور پر امریکی بحریہ کراچی کی بندر گاہ پر پہنچنے والی ہے‘۔
پرشانت پٹیل کی ٹویٹس پر کئی لوگوں نے ان کا ازراہ مذاق مزید مبالغہ آرائی کرتے ہوئے ٹویٹس میں جواب دیا۔ایک صارف مہوش نے لکھا کہ ‘میں یہاں کراچی میں ہوں اور ہم نے ساری رات بیٹ مین کو سگنل بھیجے لیکن وہ نہیں آیا۔ ہم سب اس سے اتنے خفا تھے کہ اچانک سے کیپٹن امریکا ہمیں بچانے آ گئے۔ تب ہم نے دیکھا کہ بیٹ مین تو مخالفین کی جانب سے لڑ رہا تھا۔’ یہ معاملہ تاحال جاری ہے جبکہ متعدد انڈین نیوز چینلز اور نیوز ویب سائٹس نے اسی نوعیت کی خبریں چلائیں اور شہ سرخیوں میں ’پاکستان میں خانہ جنگی کے امکانات’ کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ‘پاکستان آرمی نے کراچی کے تمام پولیس سٹیشنز پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ بھونڈی خبر دینے والے چینلز میں زی نیوز، انڈیا ٹو ڈے، سی این این 18 شامل تھے۔
یاد رہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ‘فیک نیوز’ اور ‘ڈس انفارمیشن’ کے حوالے سے تنازعات نئے نہیں ہیں اور بالخصوص پاکستان اور انڈیا میں اس نوعیت کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں ان پلیٹ فارمز پر منظم طریقے سے ‘فیک نیوز’ کا پرچار کیا جاتا رہا ہے۔ اس حوالے سے موقر انڈین جریدے ‘دا کاراوان’ کے سیاسی مدیر ہرتوش سنگھ بل کا کہنا تھا کہ ’دونوں ممالک میں چند ایسے میڈیا ادارے ہیں جو صحافت نہیں مذاق کر رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ کوئی کھیل کھیل رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا ‘ان اداروں کا صحافت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ جب ان کی اپنے خود کے ملک میں صحافت غیر جانبدار نہیں ہوتی اور وہ اس ایجنڈے پر چلتے ہیں جو حکومتی ہو، تو آپ ان سے کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ وہ دوسرے ملکوں کے بارے میں غیر جانبدارانہ صحافت کریں گے۔’
اس معاملے پر کئی صارفین نے ٹوئٹر کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ ‘ٹوئٹر کب جاگے گا؟’ تاہم ابھی تک اس حوالے سے ٹوئٹر کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔
