سورج کی روشنی کو 95 فیصد تک لوٹا دینے والا سفید پینٹ

نیویارک میں پینٹ اور روغن ماحول کا حصہ بنتے جارہے ہیں اوردنیا کا سب سے سفید پینٹ بنایا ہے جو سورج کی روشنی کو 95 فیصد تک لوٹا کرعمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
ماہرین نے سے انتہائی سفید پینٹ کا نام دیا ہے جس کی بدولت عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنا آسان ہوگا اور ان کی ائیرکنڈیشننگ کا خرچ بھی کم ہوجائے گا۔ اس طرح ماحول دشمن اور توانائی کھانے والے ایئرکنڈیشننگ نظام پرانحصار کچھ کم ہوسکے گا۔ اس سے بھی قبل ایسے کئی طرح کے پینٹ بنائے جاتے رہے ہیں جن میں ٹیفلون وغیرہ کا استعمال کیا گیا تھا لیکن اس کے فوائد کم تھے اور بعض خامیاں بھی تھیں لیکن اب ماہرین نے ٹیٹانیئم ڈائی آکسائیڈ کی بجائے کیلشیئم کاربونیٹ جیسی کم خرچ اور وسیع مقدار میں دستیاب معدن کو استعمال کیا ہے. اس کے علاوہ کیلشیئم کاربونیٹ کی دوسری اہم صلاحیت یہ ہے کہ وہ بالائے بنفشی (الٹراوائلٹ) شعاعوں کو جذب کرتا ہے اور پینٹ میں ملانے سے اس کا بہت فائدہ ہوتا ہے اورہ پینٹ میں شامل ذرات مختلف جسامتوں کے ہیں جو بہت اچھی طرح سے دھوپ کو پلٹاتے ہیں۔جس سے پینٹ پر آنے والی روشنی کی 95 فیصد مقدار لوٹ جاتی ہے۔ جب اس پینٹ کو ایک گھر کے باہر آزمایا گیا تو روایتی پینٹ کے مقابلے اس نے دیوار یا چھت کو ڈیڑھ سے دو سینٹی گریڈ تک سرد رکھا۔ لیکن رات کو درجہ حرارت میں غیرمعمولی کمی نوٹ کی گئی۔
