مولانا طارق جمیل کو FBR نے ٹیکس چور فنکار کیوں قرار دیا؟

ایف بی آر کی چیف کمشنر لاہور امینہ حسن نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی انتہائی مہنگی شادی پر ہونے والے اخراجات میں ٹیکس چوری پر تحقیقات کرکے اپنی ابتدائی رپورٹ ممبر آپریشنز فیڈرل بورڈ آف ریونیو اسلام آباد کو جمع کروا دی ہے۔ رپورٹ میں بڑے بڑے ٹیکس چوروں اور فنکاروں سمیت مولانا طارق جمیل کے نام سامنے آئے ہیں کہ کیسے ان سب نے پیسوں کی بہتی گنگا میں صرف ہاتھ نہیں دھوئے بلکہ نہائے بھی ہیں۔
چیف کمشنر امینہ حسین نے ماسٹر ٹائلز والوں کی انتہائی لگثری شادی کی تقریب میں سہولیات مہیا کرنے والوں،شادی ہال،کیٹرنگ سروس،فوٹوگرافرز،میک اپ آرٹسٹوں اور فنکاروں کی شادی سے حاصل کردہ آمدنی کا معلوم کرکے مزید تحقیقات کے لیے ہر شخص یہ کمپنی کے آر ٹی او کو بھجوا دی ہے وہ جان سکے کہ ان کا سابقہ ٹیکس ریکارڈ اس آمدن سے میچ کرتا ہے اور کیا وہ ٹیکس ادا کر رہے ہیں؟
ایف بی آر کی تحقیقات سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سارے مبینہ ٹیکس چوراس شادی سے مستفید ہوئے اور رو روکر دعائیں کروانے کے لیے مشہور مولانا طارق جمیل کی بھی اس ٹیکس چوروں کی تقریب میں 10 لاکھ کی چاندی ہو گی اور شاید رقت آمیز دعا کروا کر دس لاکھ کمانے والے مولانا طارق جمیل کو اس شہرت کی وجہ سے ایف بی آر نے آرٹسٹ یعنی فنکاروں کی فہرست میں رکھا۔
حال ہی میں پاکستان میں ہونے والی مہنگی ترین شادی کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ماسٹر ٹائلز کے مالکان سے شادی کی تقریبات میں کیے جانے والے اخراجات کی وضاحت طلب کرلی ہے خصوصا ان اطلاعات کے بعد کے اس شادی پر ایک سے دو ارب روپے کے اخراجات ہوئے۔ یاد رہے کہ ماسٹر ٹائلز پاکستان کی سب سے بڑی بڑی ٹائل بنانے والی کمپنی ہے جس کا ہیڈ آفس گوجرانوالہ میں واقع ہے۔
گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ماسٹر ٹائلز والوں کی بیٹی کی جلال دین اینڈ سنز کے بیٹے سے شادی کی ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ اس تقریب پر پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا۔ ان ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد اب گوجرانوالہ کے چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو کی جانب سے ماسٹر ٹائلز کے ڈائریکٹر شیخ محمد اقبال کو نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں ان سے بیٹی کی شادی کی تقریبات میں کیے گئے بھاری اخراجات کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔ نوٹس کے مطابق شادی کی تقریبات 5 سے 7 نومبر تک جاری رہی تھیں جس میں روزا بلانکا کلب لاہور نے کیٹرنگ، کے ایس سی کانسیپٹ نے ایونٹ پلاننگ، عرفان احسن نے فوٹوگرافی کی خدمات سرانجام دی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی گلوکار راحت فتح علی خان اور عاطف اسلم نے اپنی پرفارمنس سے تقریب میں شریک افراد کو محظوظ کیا تھا اور اس کے عوض بھاری معاوضہ حاصل کیا تھا۔
ایف بی آر کے نوٹس میں کہا گیا کہ مذکورہ افراد سے خدمات وصول کرتے ہوئے ود ہولڈنگ سے متعلق حقائق جاننے کےلیے ماسٹر ٹائلز کے ڈائریکٹر کو بلوا لیا گیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جواب نہ دینے کی صورت میں آپکے خلاف ایف بی آر کی جانب سے قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ماسٹر ٹائلز کے ڈائریکٹر کی بیٹی اور جلال سنز کے بیٹے کی شادی کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والوں نے اسے پاکستان کی سب سے پر تعیش اور مہنگی ترین شادی قرار دیا تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر اور ویڈیوز پر نظر ڈالی جائی تو ایسی شادیاں عموماً فلموں میں ہی دکھائی دیتی ہیں لیکن پاکستان میں ہونے والی اس شادی نے صارفین کو حیرت میں مبتلا کر دیا تھا۔ انٹرنیٹ پر زیرِ گردش رپورٹس کے مطابق ماسٹر ٹائلز اور جلال سنز دونوں کی جانب سے تین روز تک بڑے پیمانے پر تقریبات کا انعقاد کیا گیا تھا جن میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے اور دو وقت کا پر تکلف کھانا بھی کھایا۔
شادی کے فنکشن میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی دو شخصیات فردوس عاشق اعوان اور ابرار الحق نے مہمانان خصوصی کے طور پر شرکت کی چونکہ دونوں کا تعلق ڈسکہ اور سیالکوٹ سے ہے جبکہ ماسٹر ٹائلز والا خاندان گوجرانوالہ سے تعلق رکھتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شادی کی تین روزہ تقریبات میں ایک سے 2 ارب روپے تک کے اخراجات آئے تھے۔
ولیمے کی تقریب میں ترکی سے بلائے گے جمناسٹس نے اپنے کرتب دکھائے جنہیں خاص طور پر اس شادی کےلیے ہی بلایا گیا تھا۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق شادی پر مدعو ایک مہمان نے بتایا کہ یہ ملک کے 2 بڑے بزنس گروپس کے بچوں کی شادی تھی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ’کھانے میں درجنوں ڈشز اور طرح طرح کے میٹھے پکوان تھے‘ اور دلہا دلہن کا نکاح مولانا طارق جمیل نے پڑھایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب راحت فتح علی نے پر فارم کیا تو مہمانوں نے ان پر نوٹوں کی بارش کر دی اور راحت فتح علی خان پر نچھاور کیے جانے والا کوئی بھی نوٹ ہزار یا 5 ہزار سے کم کا نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ ان کے ہاں ایسی شادی ہوئی ہو، مہمان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سوشل میڈیا اور بڑے بڑے جریدوں میں شادی کی تشہیر کے لیے خصوصی طور پر ایسی شخصیات کو بھی دعوت دی گئی تھی جو کہ فنکشنل کی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرتے۔
تاہم دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاکستان کی مہنگی ترین شادی کی انکوائری شروع کرتے ہوئے سراغ لگایا ہے کہ تقریب کے لیے نجی کنٹری کلب کو 15 کروڑ روپے ادائی کی گئی تھی جسے 120 روز کے لیے بک کیا گیا تھا۔ شادی کے انتظامات کرنے والی ایونٹ مینجمنٹ کمپنی کو بھی ڈیڑھ سے 2 کروڑ روپے کی ادائی کی گئی جب کہ بارات ڈیکوریشن کےلیے ڈیڑھ سے 2 کروڑ روپے دیے گئے۔ ذرائع کے مطابق آتش بازی کے لیے ایک کروڑ روپے کی ادائی کی گئی جب کہ فوٹو گرافی اور اسٹوڈیو کےلیے 95 لاکھ روپے تک دیے گئے۔ شادی میں پرفارم کرنے والے گلوکار راحت فتح علی خان کو 55 لاکھ روپے اورعاطف اسلم کو 50 لاکھ روپےدینے کی بھی تحقیقات کی جار ہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریب میں نکاح کےلیے مولانا طارق جمیل کو مبینہ طور پر 10 لاکھ روپے دیے گئے۔ یوں اس شادی پر لگنے والے اخراجات تقریبا ایک سے دو ارب روپے کے بتائے جا رہے ہیں۔
