مونس الٰہی نے منی لانڈرنگ کیس میں جواب جمع کرا دیا

ق لیگ کے رہنما مونس الٰہی نے منی لانڈرنگ کیس میں جواب ایف آئی اے میں جمع کرا دیا، ایک صفحے پر مشتمل تحریری جواب میں انہوں نے خود پر عائد تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
اپنے جواب میں مونس الٰہی کا کہنا تھا کہ وہ نواز بھٹی اور مظہر عباس کو نہیں جانتے، حلفیہ کہتے ہیں کہ کسی مالی فراڈ میں ملوث نہیں، ایف آئی آر میں الزامات جھوٹے اور بےبنیاد ہیں، شوگر ملز میں قانون کے مطابق حصہ ڈالا اور ریٹرنز بھی جمع کرائے۔
ایف آئی اے نے مونس الٰہی کو 39 سوالات پر مشتمل سوالنامہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ شوگر ملز کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی، ملازمین کے ذریعے منی لانڈرنگ سے آپ اور خاندان کے افراد کو فائدہ پہنچایا گیا۔
مونس الٰہی سے پوچھا گیا کہ محمد خان بھٹی، نواز بھٹی اور مظہر عباس سے آپ کا کیا تعلق ہے، محمد خان بھٹی کے بھتیجے واجد بھٹی اور کزن نواز بھٹی سے کیا تعلق ہے، نواز بھٹی کی تاریخ پیدائش کو جعلسازی سے تبدیل کرکے سرکاری نوکری دی گئی، سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی کے ذریعے نواز اور مظہر عباس نے ملز میں 72 کروڑ روپے بڑھائے، نواز بھٹی اور مظہر عباس کے 35 اکاؤنٹس میں 24 ارب کا ٹرن اوور ہوا۔
سوالنامے میں کہا گیا ہے کہ شوگر ملز پر پابندی لگنے سے فوری پہلے شوگر ملز کو لائسنس ملا، کیا اس معاملے میں اُس وقت کے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے اثرورسوخ سے آگاہ ہیں؟ شوگر ملز میں اپنے 83 اعشاریہ 34 فیصد حصے میں پیسوں کے ذرائع سے بھی آگاہ کریں۔ ایف آئی اے نے مونس الٰہی کو 23 جون تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

Back to top button