موٹروے ریپ: ملزم کی بیوی اور بچی زیرحراست، قانون کیا کہتا ہے؟

سیالکوٹ لاہور موٹروے پر خاتون کے گینگ ریپ کا مرکزی ملزم عابد علی تو تاحال پولیس کے ہاتھ نہیں آیا لیکن اس کی بیوی اور بچی کو پولیس نے حراست میں لے رکھا ہے۔
ملزم عابد علی کی بچی کو پولیس نے گزشتہ دنوں چھاپے کے دوران اس وقت حراست میں لیا تھا جب ملزم عابد اپنی اہلیہ کے ہمراہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا تاہم اس کی اہلیہ کو گزشتہ روز حراست میں لیا گیا ہے۔ ملزم کی اہلیہ اور بچی کو حراست میں لینے پر خواتین کے حقوق کےلیے کام کرنے والی تنظیموں اور ماہرین قانون نے سوالات اٹھائے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’ایک خاتون کو انصاف دلانے کےلیے ملزم کی بیوی اور بچی کو بلاوجہ حراست میں رکھنا بھی خلاف قانون ہے۔‘ ان تنظیموں کے ارکان اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ واقعے میں ملوث ملزم کی گرفتاری کے خلاف ہیں بلکہ وہ اس آڑ میں کسی دوسری عورت کے خلاف کارروائی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اصل ملزمان کو پکڑے جب کہ خاتون اور اس کی بچی سے معلومات لے کر رہا کر دیا جائے۔ ’انہیں حراست میں نہیں رکھا جاسکتا وہ واقعے میں ملوث نہیں، نہ ان کی واردات میں کوئی معاونت ثابت ہوئی ہے۔‘
سی آئی اے پولیس افسر کے مطابق خاتون کا اب تک ملزم سے رابطہ ثابت نہیں ہو سکا ہے۔ ماہر قانون آفتاب باجوہ نے کہا کہ پاکستان کے آئین و قانون میں تمام شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ یہ پولیس کا روایتی طریقہ تفتیش ہے جس کی قانون میں اجازت نہیں ہے۔ ملزم کے جس رشتہ دار کو حراست میں لیا جاتا ہے اس پر واردات میں معاونت کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تفتیش یا ملزموں تک رسائی مشکل نہیں رہی اس کے باوجود اب تک پولیس اپنے روایتی حربوں پر قائم ہے۔ آفتاب باجوہ کے مطابق ملزم عابد علی کی بیوی اور بچی کو پولیس حراست میں قانونی طور پر لے ہی نہیں سکتی۔ قانون ان کو تحفظ فراہم کرتا ہے البتہ ان کے گھر جاکر ان سے پوچھ گچھ ضرور ہوسکتی ہے یرغمال نہیں بنایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر خاتون کے رشتہ دار پولیس کے خلاف اغواء یا حبس بے جا کا مقدمہ درج کرا دیں تو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک شہری کو انصاف دلوانے کے لیے دوسروں کے حقوق کو پامال کیاجائے؟۔
ہیومن رائٹس کنسلٹنٹ اسرا آحوجا سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بالکل معاشرے میں تمام خواتین کے حقوق برابر ہیں۔ کسی ایک کی حق تلفی کی سزا بلاوجہ کسی دوسری خاتون یا رشتہ دار کو نہیں دی جاسکتی۔ البتہ اگر پولیس کو تفتیش کےلیے ان کے بیانات کی ضرورت ہو تو وقتی طور پر انہیں طلب کرکے پوچھ گچھ ضرور ہوسکتی ہے لیکن جب تک کسی کے ملوث ہونے کا ثبوت نہ ہو انہیں تحویل میں نہیں رکھا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی خاتون کو حراست میں لے کر تھانے میں بند کر دیا جائے اور مرد اہلکار ان سے تفتیش کریں تو یہ ویسے ہی ہراساں کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ اسرا کے مطابق پولیس کو چاہیے کہ وہ اپنا روایتی رویہ تبدیل کرکے سائنسی اور تکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک ملزم تو پکڑا نہیں گیا۔ پولیس ٹیم کے چھاپے کے دوران فرار ہوگیا اس کی بچی اور بیوی کو حراست میں لے کر کارکردگی دکھانے کا کیا فائدہ؟۔ حالات بھی ویسے ہی ہیں جیسے پہلے تھے میں خود گاڑی چلا کر خیبر پختونخوا گئی اور لاہور واپس آئی۔ کئی جگہ گاڑی روک کر کچھ دیر دیکھا کہ آس پاس کوئی سکیورٹی موجود نہیں تھی۔
سی آئی اے پولیس کے متعلقہ افسر حسنین حیدر نے کہا کہ ملزم عابد علی کی بیوی کا اس کے فرار ہونے کے بعد کوئی رابطہ ثابت نہیں ہوا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ تاحال پولیس کو کوئی بڑی کامیابی تو نہیں ملی لیکن ایک دو روز تک امید ہے ملزم تک پہنچ جائیں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں پولیس کی جانب سے کسی بھی واردات میں ملزمان کو قابو کرنے کےلیے ان کے عزیز رشتہ داروں کو پکڑنا معمول کی بات ہے جب کہ قانون میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔ کئی مقدمات میں ملزم کے فرار ہونے پر اس کے والد بھائی حتی کہ خواتین کو اس لیے حراست میں لے لیا جاتا ہے تاکہ ملزم خود کو قانون کے حوالے کر دے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button