موٹروے زیادتی کیس: متاثرہ خاتون نے دونوں ملزمان کو شناخت کرلیا

موٹروے زیادتی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دونوں ملزمان کی شناخت پریڈ کی کارروائی مکمل کرلی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق موٹروے پر خاتون کے ساتھ زیادتی میں ملوث دونوں ملزمان کی شناخت پریڈ مکمل کرلی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون نے دونوں ملزمان کو شناخت کر لیا ہے۔ ملزم عابد ملہی اور ملزم شفقت علی کو خاتون کے سامنے لایا گیا تھا۔ ملزمان کی شناخت پریڈ کا عمل کیمپ جیل میں مکمل کیا گیا۔
واضح رہے کہ لاہور موٹر وے پر خاتون کے ساتھ زیادتی کے مرتکب مرکزی ملزم عابد ملہی کو واقعے کے 33 دن بعد دو روز قبل فیصل آباد کے علاقے مانگامنڈی سے گرفتار کیاگیا تھا۔ عابد کی گرفتاری سے متعلق مختلف قسم کے دعوے سامنے آئے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم کو ہم نے اپنی انتھک محنت سے گرفتار کیا ہے جب کہ ملزم کے والدین کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود بیٹے کو پولیس کے حوالے کیا۔ عابد ملہی کے والد کا بتانا تھا کہ بیٹے نے جب رابطہ کیا تو اسے گھر آنے کےلیے کہا۔ جب بیٹا گھر آیا تو وہاں موجود پولیس اہلکار بے خبر موبائل پر ویڈیو دیکھنے میں مصروف تھے۔ گھر آنے پر بیٹے کو تبدیل کرنے کےلیے کپڑے اور چادر دی اور اسے ایک طرف لے گیا۔ مجھے خدشہ تھا کہ اگر پکڑنے کی کوشش کی تو وہ بھاگ جائے گا۔ پھر بیٹے کے پیچھے سے جا کر اسے پکڑ لیا تو پولیس اہلکار بھی آگئے اور ایک اہلکار نے گولی چلا دی۔ گولی چلانے پر پولیس کو کہا کہ جب میں نے یقین دلایا تھا کہ عابد کو پکڑواوں گا تو پھر گولی کیوں چلائی۔ اس پر عابد نے کہا کہ ابا جی میں اس لیے گرفتاری نہیں دیتا تھا کیوں کہ یہ مجھے مار دیتے۔ صرف آپ کی یقین دہانی کروانے پر گرفتاری دینے کیلئے گھر آیا۔ اس موقع پر علاقے کا با اثر شخص خالد بٹ گھر آ گیا اور پھر کچھ دیر بعد اپنی گاڑی میں بٹھا کر عابد کو پولیس کے پاس لے گیا۔
موٹروے زیادتی کیس کے ملزم عابد ملہی کو کیمپ جیل لاہور کی چکی میں تنہا بند کر دیا گیا۔ ملزم کا کہنا تھا کہ وہ ایک ماہ تک ڈرا سہما رہا۔ لگتا تھا کہ ہر فرد پولیس والا ہے اور اسے پہنچانتے ہی گولی مار دے گا۔ ملزم نے مزید کہا کہ گرفتاری کے بعد پہلی بار اچھی طرح سویا ہوں اور ایک ماہ بعد پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہے اور سکھ کی نیند سویا ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button