میرا بیٹا، میری گاڑی اور میری مرضی، گنڈاپور کی منطق

اپنے کم عمر بچے سے گاڑی چلوانے پر ہونے والی تنقید کے بعد وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس عمل کا دفاع کر رہے ہیں جس پر انہیں مزید تنقید کا سامنا یے۔
اپنے رد عمل میں گنڈاپور نے کہا ہے کہ میری زمین، میری گاڑی، میرا بیٹا اور میری مرضی۔ تنقید کرنے والے بڑے ہوجائیں اور اپنے کام سے کام رکھیں۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں آج کے دور میں آپ کی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی کوئی بھی ویڈیو آپ کےلیے وبال جان بھی بن سکتی ہے۔ ایسا ہی کچھ ہوا وزیر امور کشمیر اور گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور کے ساتھ، جب ان کی ایک بنائی ہوئی ایک ویڈیو وائرل ہو گئی جس میں ان کا کم سن بیٹا گاڑی چلا رہا تھا اور وہ ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ڈھٹائی سے اسکی ویڈیو بنا رہے تھے۔ یاد رہے کہ قانون کی نظر میں 18 سال سے کم عمر کسی بھی شخص کا ڈرائیونگ کرنا جرم ہے۔ اس حوالے سے جب صحافی منصور علی خان نے بچے کی گاڑی چلانے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’علی امین گنڈاپور ایک بچے کو گاڑی چلوا رہے ہیں۔ پریشان نہ ہوں، ابھی ہمارے انصافی بھائی اس کی بھی کرامات بیان کریں گے۔‘
حسب توقع وفاقی وزیر اس ٹویٹ پر خفا ہو گئے اور منصور علی خان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’پہلی بات تو یہ کہ ٹریفک قوانین کا نفاذ سڑک، ہائی وے اور موٹروے پر ہوتا ہے لہٰذا کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی، میرا بیٹا اپنی زمین پر گاڑی چلا رہا تھا۔ آپ اپنی معلومات کو ٹھیک کریں۔‘ علی امین گنڈاپور نے منصور علی خان سمیت تنقید کرنے والے دیگر افراد کو اپنے کام سے کام رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’دوسری بات یہ کہ یہ میری اپنی زمین، میری اپنی گاڑی، میرا اپنا بیٹا اور۔میری اپنی مرضی ہے۔ لہٰذا منصور علی خان اور دوسرے منفی تبصرے کرنے والے لوگ بڑے ہو جائیں اور اپنے کام سے کام رکھیں۔‘
علی امین گنڈا پور کی اس منطق پر سابق آئی جی موٹروے ذوالفقار چیمہ بھی حیران ہوگئے۔ انہوں نے وفاقی وزیر کے انداز کو متکبرانہ قرار دیا اور کہا کہ علی امین گنڈا پور کے انداز سے تکبر جھلکتا ہے۔ سابق آئی جی موٹروے نے علی امین گنڈا پور کے بھونڈے موقف کے خلاف دلیل دیتے ہوئے کہا کہ گاڑی قانون کے مطابق صرف وہی چلاسکتا ہے جس کا لائسنس ہو۔
وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کے اس جواب کو جہاں کافی لوگوں نے تنقید کا نشانہ بنایا وہی کچھ صارفین نے اس کا دفاع بھی کیا۔ سلیکٹر نامی ایک صارف نے بونگی مارتے ہوئے کہا کہ ’اس حوالے سے بحث ہو سکتی ہے کہ ایسی ڈرائیونگ محفوظ ہے کہ نہیں لیکن قانونی طور پر گنڈاپور صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ ڈرائیونگ کے حوالے سے قوانین کا نجی زمین پر اطلاق نہیں ہوتا۔‘
دوسری جانب ٹوئٹر صارف جویریہ صدیق نے علی امین گںڈاپور کو بطور والد ان کی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ’کیا آپ کے بیٹے کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہے؟ وہ بچہ ہے اور اس کی حفاظت پہلے آتی ہے اور بطور والد یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔‘
تحریک انصاف کے حامیوں کو بھی علی امین گنڈاپور کا جواب پسند نہ آیا اور طارق الرحمان نے ٹویٹ کی کہ ’میں پی ٹی آئی کا حامی ہوں اور میں اپنے کم عمر بچے کو اپنی نجی زمین پر گاڑی چلانے کی اجازت نہیں دوں گا۔ اہلیت کا کچھ احساس کریں۔ بچہ بلند تر اور قانون سے بالاتر محسوس ہوتا ہے۔ جناب آپ وزیر ہیں۔ آپ اس کی کیسے اجازت دے سکتے ہیں؟‘ ایک صارف نے وفاقی وزیر کی اہلیت پر ہی سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ ’سر تصور کریں کہ گنڈاپور اپنی وزارت کیسے چلاتے ہوں گے۔ وزرا کی اکثریت کا یہ ہی حال ہے۔ یہ عمران خان کی مکمل ناکامی ہے۔‘ علی امین گنڈاپور کی منصور علی خان کے ساتھ اس نوک جھونک میں ایک اور صحافی احمد ولید بھی کود پڑے اور وفاقی وزیر کے جواب کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ’میرا بیٹا، میری گاڑی، میری زمین، میری سڑک اور میری مرضی۔‘ واہ جی واہ۔
