میرا نواز شریف کو نااہل کروانے میں کوئی کردار نہیں


ماضی میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے جانثار ٹٹو کا کردار ادا کرنے والے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ان کا نواز شریف کی بطور وزیراعظم نااہلی کے معاملے میں کوئی ہاتھ نہیں اور یہ الزام بھی غلط ہے کہ انہوں نے احتساب کورٹ کے جج ارشد ملک پر نواز شریف کو 14 سال قید کی سزا سنانے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
روزنامہ جنگ کے ساتھ انٹرویو میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ان الزامات کو رد کیا کہ وہ وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کی گئی سازش کا حصہ تھے۔ سینئر صحافی انصار عباسی نے سابق چیف جسٹس سے رابطہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ آیا نواز شریف کے خلاف پانامہ کیس میں تحقیقات کرنے والی ٹیم کو تشکیل دینے یا نواز شریف کو سزا سنانے والے جج پر دبائو ڈالنے کیلیے چیف جسٹس عرف بابے رحمتے نے کوئی کردار ادا کیا تھا یا نہیں۔ یاد رہے کہ نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی تحقیقات کا آغاز ہونے کے بعد ایک نامعلوم کالر نے اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کے اعلیٰ ترین عہدیداروں سے واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کیا تاکہ کوئی اسکا پتہ نہ لگا سکے اور خود کو سپریم کورٹ کا رجسٹرار ظاہر کیا۔ اس کال کے دوران رجسٹرار نے جے آئی ٹی کی میں چند مخصوص نام شامل کرنے کا کہا جو کہ جے آئی ٹی کی صورت میں سپریم کورٹ میں پیش کیے جانے تھے۔ تاہم اب ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ پاناما جے آئی ٹی بنوانے میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا اور یہ کہ انہوں نے کبھی رجسٹرار سپریم کورٹ کوئی سے واٹس ایپ کال کرنے کو نہیں کہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ پاناما کیس میں عملدرآمد بینچ کے متعلق تھا۔ انہوں نے کہا ’’مجھے نہیں معلوم کہ رجسٹرار نے ایسا کیوں کیا۔‘‘
سابق چیف جسٹس پاکستان سے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کے حوالے سے بھی سوال کیا گیا۔ ارشد ملک پر الزام ہے کہ انہوں نے یک ویڈیو بیان میں جو کہ شریف فیملی کے پاس موجود ہے، الزام عائد کیا ہے کہ ان پر ثاقب نثار اور سپریم کورٹ کے ایک اور جج، جو کہ آصف کھوسہ ہو سکتے ہیں، نے دبائو ڈالا تھا کہ نواز شریف کو ہر صورت 14؍ سال قید کی سزا سنائی جائے۔
تاہم اس الزام کو رد کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ ثاقب نثار نے کہا کہ پوری زندگی میں ان کی ارشد ملک سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی ان سے ملاقات کی اور نہ ہی چیمبر میں بلا کر ان سے کہا کہ نواز شریف کو 14؍ سال کی سزا سنائو۔ تاہم سوال یہ یے کہ کیا کوئی چیف جسٹس ایسے حساس معاملے پر کسی جج کو اپنے پاس بلا کر اس طرح کا پیغام دینے کا رسک لے گا یا اپنے رجسٹرار کے ذریعے واٹس ایپ کال کروائے گا۔
یاد رہے کہ جج ارشد ملک کے حوالے سے تنازع گزشتہ سال اس وقت ایک پریس کانفرنس کے دوران سامنے آیا جب نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو جاری کی جس میں ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ناصر بٹ نامی شخص اور احتساب جج کے درمیان ہونے والی بات چیت ہے۔ ناصر بٹ دراصل نواز کے ساتھی ہیں۔ یہ گفتگو دسمبر 2018ء کی ہے جب نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ فلیگ شپ انوسٹمنٹ کیس میں انہیں بری کیا گیا تھا۔ مریم نے الزام عائد کیا تھا کہ جج نے ناصر بٹ سے رابطہ کیا تھا اور انہیں بتایا تھا کہ انہیں ندامت ہے اور رات کو ڈراونے خواب آتے ہیں کہ انہوں نے نواز شریف کے ساتھ سخت نا انصافی کی ہے، اسلئے انہوں نے ناصر بٹ کو اپنی رہائش گاہ پر بات چیت کیلئے بلایا جہاں یہ خفیہ ویڈیو ریکارڈ کی گئی تھی۔
میڈیا کے سامنے جاری کی گئی ویڈیو میں جج کو اعتراف کرتے دیکھا جا سکتا ہے کہ انہیں خفیہ والوں نے ان کی ننگی فلمیں دکھا کر بلیک میل کیا اور دبائو ڈال کر نون لیگ کے قائد کیخلاف فیصلہ سنوایا۔
بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے حکم پر جسٹس جج ارشد ملک کو ان کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ تاہم ارشد ملک کی جانب سے نواز شریف کو سنائی گئی سزا ابھی تک برقرار ہے اور نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل پر فوجی اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کی وجہ سے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button