میری گھڑی میری مرضی’ سے ‘میری بیٹی میری مرضی’ تک کا سفر

2018 کے عام انتخابات میں تاریخی دھاندلی کے ذریعے مسند اقتدار پر بٹھائے جانے والے عمران خان کی سیاست سے رخصتی کا سفر ‘میری گھڑی  میری مرضی’ سے شروع ہو کر اب میری بیٹی، میری مرضی’ پر اختتام پذیر ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے موصوف کی مبینہ بیٹی ٹیریان وائٹ کا کیس کھولے جانے کے بعد اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بیٹی کے حوالے سے ان کی مرضی کا موقف تسلیم کرنا کافی مشکل ہو گا جس کے نتیجے میں وہ سیاست سے مکمل آؤٹ بھی ہو سکتے ہیں۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ کچھ برس پہلے ایک کتاب بہت معروف ہوئی جس کا نام تھا ’وائے نیشنز فیل‘ Why Nations Fail یعنی قومیں کیوں زوال پذیر ہوتی ہیں؟ گو کہ پوری کتاب میں پاکستان کا نام یا حوالہ ایک بار بھی استعمال نہیں ہوا لیکن معجزہ یہ ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے ہر صفحہ پر پاکستان کا خیال آتا ہے، اشرافیہ کا مگر مچھ کیسے ملکی وسائل کو اپنے طاقت ور جبڑوں میں دبوچ لیتا ہے اور کروڑوں لوگ بھوک، بیماری اور جہالت کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں، اشرافیہ کے لئے ایک قانون اور عوام کے لئے دوسرا قانون ہوتا ہے، طاقت ور قتل کرے تو کہتا ہے ’میری بندوق میری مرضی‘ ، حکمراں اشرافیہ غریب شہریوں کے ٹیکس کا پیسہ اللّے تللّوں میں اڑا دے اور حساب مانگا جائے تو جواب آئے ’میری حکومت میری مرضی‘۔ یہ ہے خلاصہ اس کتاب کاجس میں بتایا گیاہے کی قومیں کیسے برباد ہوتی ہیں، اور ملک کیسے ناکام ہوتے ہیں۔

 

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ مجھے اس کتاب کا خیال سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے ایک بیان سے آیا جس میں انہوں نے توشہ خانے کی گھڑیاں بیچنے کے حوالے سے فرمایا کہ’’ گھڑی مجھے تحفے میں ملی تھی اور میں نے بیچ دی‘‘ یعنی ’میری گھڑی میری مرضی‘۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا مسٹر صادق اور امین درست فرما رہے ہیں؟ یہ واقعی اتنی سادہ سی بات ہے؟ یا یہ ’وائے نیشنز فیل‘ کی موزوں ترین تفسیر ہے؟سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ گھڑی ’جناب‘ کو تحفے میں نہیں ملی تھی، وہ وزیرِ اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بطور تحفہ ملی تھی۔  لہٰذا یہاں ’مجھے‘ کا استعمال ہی غلط ہے۔ عمران خان اگر واقعی توشہ خانے کے تحائف کی خرید وفروخت کو اتنا ہی معمولی عمل سمجھتے تھے تو پھر انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو کیوں کہا تھا کہ انہیں ملنے والے تحفے ایک ’قومی راز‘ ہیں اور اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی جائے گی، حضرت عمرؓ کی چادروں کی مثال خان صاحب سے ہم نے درجنوں بار سنی تھی مگر جب عمل کی باری آئی تو ریاستِ مدینہ کا ورد کرنے والے نے دوسری چادر کو ’قومی راز‘ قرار دے دیا۔

 

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ رانا ابرار نامی جس رپورٹر نے 2019 میں توشہ خانہ کے تحائف کی خبر بریک کی تھی، اس کا ناطقہ کیوں بند کیا گیا؟ اسے نوکری سے کیوں نکلوایا گیا؟ اس کو اور اس کے اہلِ خانہ کو دھمکیاں کیوں دی گئیں؟عمران خان کے فینز کہتے ہیں کہ گھڑی فروشی ایک غیر اخلاقی بات تو ہو سکتی ہے، لیکن غیر قانونی عمل تو نہیں۔ لہٰذا عرض یہ ہے کہ اس گھڑی کی خرید و فروخت کے باب میں کم از کم درجن بھر قوانین توڑے گئے ہیں، گھڑی ملی تو توشہ خانے میں جمع نہیں کروائی گئی، قیمت کے تعین کے لئے کمیٹی بنائی گئی تو اس میں متعلقہ ماہر جواہرات کو شامل نہیں کیا گیا، خود ہی تحفہ لینے کی رقم بیس فی صد سے بڑھا کر پچاس فی صد کی اور پھر خود ہی اس قانون کو پامال کیا، جس رقم سے گھڑی خریدی وہ کہاں سے آئی؟ یہ بھی نہیں بتایا، پھر خان نے دو سال تک اپنے گوشواروں میں تحفے بیچ کر حاصل ہونے والی رقم ظاہر نہیں کی، اس کے علاوہ اب ثابت ہو چکا ہے کہ گھڑی فروش نے گھڑی بیچنے کی جعلی رسید بنوائی، موصوف نے گھڑی دبئی اسمگل کی، دبئی سے پیسے پاکستان غیر قانونی طریقے سے لائے گئے اور پھر خان نے وزیرِ اعظم ہوتے ہوئے گھڑی فروشی کا کاروبار نفع کمانے کی غرض سے کیا جو کہ بذاتِ خود ایک غیر قانونی عمل ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ توشہ خانہ قانون کے تحت رقم جمع کروا کر تحفہ ’ری ٹین‘ کرنے کا ذکر ہے، نہ وہ تحفہ ’خریدا‘ جاتا ہے، نہ بیچا جا سکتا ہے۔ اس خرید و فروخت کا غالباً سب سے دلچسپ پہلو خان صاحب کی ’کیش‘ سے الفت ہے، یعنی خان صاحب نے توشہ خانے میں دو کروڑ روپے کیش جمع کروائے، ادھر فرح گوگی نے دبئی کے ایک تاجر کو دو ارب روپے کی گھڑی تقریباً پچاس کروڑ میں اس لئے بیچ دی کیوں کہ وہ رقم کیش میں لینا چاہتی تھیں۔

 

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ کروڑوں روپے کی خرید و فروخت کیش میں یا تو چوری کے مال کی ہوتی ہے یا منشیات کی، خان صاحب تو کوئی غیر قانونی کام نہیں کر رہے تھے، پھر کیش پر اصرار کیوں؟ یہ کوئی راز تو نہیں ہے کہ کروڑوں روپے کی ادائیگی کیش میں منی ٹریل چھپانے کے لئے کی جاتی ہے۔خان صاحب کو دوسروں سے منی ٹریل مانگنے کا بہت شوق تھا مگر اپنے لئے وہ مختلف قانون چاہتے ہیں، خان صاحب آپ ہر تقریر میں بتاتے ہیں کہ جس معاشرے میں طاقت ور اور کمزور کے لئےالگ الگ قانون ہو، وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں اور جب آپ سے سوال ہوتا ہے تو آپ فرماتے ہیں میری گھڑی میری مرضی۔ عمران کا یہ رویہ صرف گھڑی تک محدود نہیں ہے، ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے عوام کے ٹیکس کے پیسوں میں سے 250 ارب روپے عارف نقوی اور 50 ارب روپے ملک ریاض کو کیوں تحفہ دیے اور اس کے بدلے کیا وصول کیا؟ تو جواب آتا ہے کہ ’میری مرضی‘، ان سے فارن فنڈنگ کا حساب مانگا جائے تو کہتے ہیں’’ میرا فنڈ میری مرضی‘‘، ان سے فنانشل ٹائمز کی خبر کا جواب مانگا جائے تو ارشاد ہوتا ہے’’ میری خیرات میری مرضی‘‘، اور حد تو یہ ہے کہ جب ان سے ان کی بیٹی کے بارے میں پوچھا جائے تو فرماتے ہیں کہ ‘میری بیٹی، میری مرضی’۔ لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے خان صاحب کی مبینہ بیٹی ٹیریان وائٹ کا کیس کھولے جانے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بچوں کے حوالے سے ان کی مرضی کا موقف تسلیم کرنا مشکل ہوگا جس کے نتیجے میں ان کا سیاسی کیریئر مکمل طور پر گل ہو سکتا ہے۔

Back to top button