گوروں کو تگنی کا ناچ نچانے والے گوگلی ماسٹر عبدالقادر
یہ زیادہ پرانی بات نہیں جب پاکستان آنے والے انگلینڈ ٹیم کے مایہ ناز بلے بازوں کو ایک پاکستانی سپن بائولر نے تگنی کا ناچ نچا دیا تھا، گورے اس بائولر کی کسی بھی بال کو سمجھنے میں ناکام ہو گے، باولنگ کے یہ جادوگر گوگلی ماسٹر عبدالقادر تھے جو کہ پچھلے برس انتقال کر گئے۔
گوروں نے عبدالقادر مرحوم کی عظمت کے اعتراف میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا، کرکٹرز ہوں، مصنف ہوں، صحافی ہوں یا کمنٹیٹرز سبھی نے انہیں جی کھول کر سراہا، عبدالقادر نے اپنے گھر کی پہلی منزل پر اپنا دفتر بنا رکھا تھا جہاں ان سے ملنے لوگ آتے، ایک الماری میں انہوں نے معروف برطانوی تاریخ دان ڈیوڈ فریتھ کی کتاب The slow men سجا رکھی تھی۔ 2010 میں انٹرویو کے دوران عبدالقادر نے بڑے فخر سے وہ کتاب دکھائی اور بتایا کہ یہ سپن باولرز کے بارے میں ایک رائٹر کی مستند کتاب ہے جس کے سرورق پر میری تصویر ہے، کیسے کیسے سپنر مجھ سے پہلے آئے لیکن میرے رب کا کرم ہے جو مجھے اتنی عزت دی، انہوں نے بتایا کہ جب یہ کتاب شائع ہوئی تو تب ٹیسٹ میں میری 100 وکٹیں بھی نہیں تھیں۔ ڈیوڈ فریتھ نے کتاب میں عبدالقادر کی بہت تعریف کی ہے اور انہیں لیگ سپن باولنگ کا مشعل بردار قرار دیا، انہوں نے لکھا کہ 1977 میں پاکستان کا دورہ کرنے والی ٹیم ’باؤ‘ کی پاور نہیں بھولی ہوگی جس نے حیدر آباد ٹیسٹ میں اپنی باولنگ سے اسے حیران و پریشان کر دیا، فریتھ کے بقول، 1982 میں عبدالقادر نے اپنی بائولنگ سے انگلینڈ کو مسحور کر دیا۔ انگلینڈ کی ٹیم 1984 میں باب ولس کی کپتانی میں پاکستان آئی۔ بعد میں باب نے اپنی کتاب میں لکھا کہ اس دورے میں انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے ذہنوں پر سب سے زیادہ عبدالقادر چھائے رہے، اس کتاب کے سرورق پر چار تصویروں میں سے ایک تصویر عبد القادر کی ہے۔
ممتاز کرکٹ امپائر ڈکی برڈ نے اپنی کتاب ’ایٹی ناٹ آؤٹ‘ میں عبدالقادر کو عظیم ترین لیگ سپنر قرار دیا، ان کے خیال میں جہاں تک بائولنگ میں ویری ایشن کا تعلق ہے قادر کے برابر کوئی نہیں، وہ نہایت عمدہ لائن و لینتھ اور ماہرانہ کنٹرول کے ساتھ لیگ سپن، گُگلی، ٹاپ سپن اور فلپر کر سکتا تھا۔ عبدالقادر نے 1977 میں حیدرآباد میں اپنے دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 44 رنز دے کر چھ کھلاڑی آؤٹ کیے، یہ ایک اننگز میں انگلینڈ کے خلاف بہترین بائولنگ کا نیا ریکارڈ تھا، حیدر آباد ٹیسٹ تو عبدالقادر کی ابتدا تھی، ان کی انتہا یہ تھی کہ 1987 میں قذافی سٹیڈیم میں پہلی اننگز میں 56 رنز کے عوض انگلینڈ کے 9 بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی، یہ ایک اننگز میں کسی بھی پاکستانی بائولر کی بہترین بائولنگ کا وہ ریکارڈ ہے جو آج 35 برس گزرنے پر بھی قائم ہے، اس ٹیسٹ میں مجموعی طور پر عبدالقادر نے 13 بلے باز آؤٹ کیے۔ انہوں نے فیصل آباد ٹیسٹ میں سات اور کراچی ٹیسٹ میں 10 کھلاڑی آؤٹ کیے، تین میچوں میں ان کی وکٹوں کا تعداد 30 رہی، 1984 میں پاکستان نے پہلی دفعہ انگلینڈ سے ٹیسٹ سیریز جیتی جس میں صرف کراچی ٹیسٹ ہی فیصلہ کن رہا، لاہور میں تیسرے ٹیسٹ میں عبدالقادر نے دونوں اننگز میں پانچ پانچ وکٹیں حاصل کیں۔
کہا جاتا یے کہ عمران خان کا کپتان بننا عبدالقادر کے کرکٹ کیریئر میں ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا، 1982 میں انہیں دورۂ انگلینڈ کیلئے عمران کے اصرار پر ہی منتخب کیا گیا، عمران خان کی کپتانی میں لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان نے 28 سال بعد میزبان ٹیم کو اس کی سرزمین پر زیر کیا۔
انگلنیڈ میں عبدالقادر نے 12 فرسٹ کلاس میچوں میں 20.82 کی اوسط سے پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ 57 وکٹیں حاصل کیں، انگلینڈ میں ذرائع ابلاغ عامہ کو قادر کی باولنگ نے اپنا گرویدہ کرلیا تھا اور انہوں نے اسے عظیم سپنر قرار دیا تھا۔
