میری کردار کشی کیلئے مواد تیار کیا جا رہے

تحریک انصاف کے چیئرمین سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ شریف خاندان عید کے بعد ان کی کردارکشی کے لیے مہم چلانے کی تیاریاں کر چکا ہے، مخالفین نے ایسی کمپنیوں کی خدمات حاصل کی ہیں جو ان کی کردار کشی کے لیے ’مواد تیار‘ کر رہی ہیں،میں بہت سے مافیاز کا سامنا کر چکا ہوں، ان میں سب سے بڑا مافیا شریف مافیا ہے،وہ ہمیشہ ذاتی سطح پر حملہ کرتے ہیں کیونکہ وہ گزشتہ 35 سالوں سے کرپشن میں ملوث ہیں۔
ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انکا کہنا تھا جب کوئی ان کی بدعنوانیوں کی نشاندہی کرتا ہے تو یہ اس کی کردارکشی کرتے ہیں، شریفوں کی توجہ بس میری کردارکشی پر مرکوز ہے،شریفوں نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار اور مرحوم جج ارشد ملک کی طرح کی مزید ’ٹیپس‘ تیار کی ہیں۔ یہ مافیا کا انداز ہے، میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ قوم یہ سمجھے کہ اگر آپ کسی کا نام خراب کرنا چاہتے ہیں تو ایسی کمپنیاں ہیں جو آپ کی مدد کر سکتی ہیں۔
انہوں نےکہا اب عید ختم ہوگئی ہے، آپ دیکھیں گے کہ وہ میری کردارکشی کے لیے مکمل تیار ہیں، انہوں نے مواد تیار کرنے کے لیے کمپنیوں کی خدمات حاصل کی ہیں،ماضی میں ان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ گولڈ اسمتھ کو نشانہ بنایا گیا، ان کے خلاف مہم چلاتے ہوئے ان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ ’یہودی لابی‘ کا حصہ ہیں، جمائمہ کے خلاف ’بیش قیمتی ٹائلز‘ کی برآمدات کے جعلی کیسز بنائے گئے۔ جمائمہ کا جرم کیا تھا؟ وہ میری بیوی تھی، اب انہیں فرح خان مل گئی ہیں، فرح خان کا جرم یہ ہے کہ وہ بشریٰ بیگم کی قریبی ہیں۔
عمران خان نے کہا60 فیصد وفاقی کابینہ ضمانت پر ہے، وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز بھی ضمانت پر ہیں، مریم بھی ضمانت پر ہیں اور نواز شریف کے خلاف فیصلہ سنایا جاچکا ہے جبکہ نواز شریف کے صاحبزادے ملک سے باہر بھاگے ہوئے ہیں، اگر آپ ضمانت پر ہیں تو آپ کسی جمہوریت میں نہیں آسکتے اور آپ کوئی عہدہ نہیں لے سکتے۔
انہوں نے کہاپی ٹی آئی نے مئی کے آخر تک اسلام آباد تک اپنے لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے یہ عوام کی نظروں میں ان کی عزت کو کم کرنا اور ان کے کردار کو مجروح کرنا چاہتے ہیں، تاہم انکا کہنا تھا وہ پہلے بھی ایسا کرتے رہے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔
واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے اعلان کیا تھا کہ وہ 6 مئی سے میانوالی میں ایک ریلی نکال کر ’حقیقی آزادی‘ کے لیے اپنی مہم کا آغاز کریں گے۔ ایک ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ وہ مغرب سے قبل میانوالی آئیں گے اور اس مہم کا مقصد ملک کو ’امپورٹڈ حکومت‘ سے نجات دلانا ہے، میں ان لوگوں سے شروعات کر رہا ہوں جنہوں نے مجھے پہلی بار قومی اسمبلی کے لیے منتخب کرایا۔ انہوں نے شہریوں سے ریلی میں شرکت کرنے کی اپیل بھی کی۔
