میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کالا قانون کیوں قرار پایا؟

پاکستان کی تمام بڑی صحافتی تنظیموں نے حکومت کے تجویز کردہ پاکستان میڈیا ڈویلپمینٹ اتھارٹی قانون کو پاکستان میڈیا ڈسٹرکشن اتھارٹی قانون قرار دیا ہے جس کا بنیادی مقصد غلام میڈیا کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنا ہے تاکہ اسکی تدفین کی جا سکے۔
اس قانون کے خلاف احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے صحافتی تنظیموں نے تقریباً تمام بڑے اخبارات میں کپتان حکومت کے مجوزہ میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی قانون کے خلاف اشتہارات شائع کرتے ہوئے اس اتھارٹی کو میڈیا کو دبانے کی بھونڈی سازش قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ یہ اشتہارات آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی، پاکستان براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن، کونسل آف پاکستان نیوزپیپرز ایڈیٹرز اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے چھپوائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز بھی ان اشتہارات کے تشیہر کندگان میں شامل ہے۔ ان اشتہارات کے مطابق ’پاکستان پہلے ہی رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کے مطابق دنیا بھر میں 145 درجے پر ہے اور یہ مجوزہ قانون عالمی برادری کی نظر میں پاکستان کی ساکھ کو خراب کرنے کی وجہ بنے گا۔ اشتہارات میں جن نکات کی نشاندہی کی گئی ہے ان کے مطابق ’پی ایم ڈی اے کا مجوزہ قانون سینسرشپ کے ذریعے ذرائع ابلاغ میں موجود تنقیدی آوازوں کو دبانے کے مقصد سے لایا جا رہا ہے۔‘
صحافتی تنظیموں کے اشتہار کے مطابق ’تحریک انصاف نے اپنے منشور میں آزادی اظہار اور ایک آزاد میڈیا کی ضمانت دی ہے، لہازا اس وعدے سے پھر جانا پاکستان کے ایک جمہوری معاشرے کے تشخص کو بری طرح متاثر کرے گا۔ مجوزہ اتھارٹی کے قانون کو ’کالا قانون‘ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’وہ وزارت اطلاعات کو خود کو گمراہ کرنے کی اجازت نہ دیں۔‘اس کے علاوہ وزیر اعطم عمران خان سے اس قانون کو نافذ نہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
صحافتی تنظیموں کی جانب سے اس اشتہار میں کہا گیا ہے کہ آئین میں دی جانے والی جمہوری آزادیوں کو سلب کرنے سے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ اس کے علاوہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی مجوزہ قانون کے حوالے سے اپنے موقف کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے بڑے میڈیا گروپ جنگ سے وابستہ جیو نیوز کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور سینیئر صحافی اظہر عباس نے اس اتھارٹی کو ڈریکونین قانون قرار دیا جو پاکستان کو سابق فوجی حکمران ضیا الحق کے دور میں واپس لے جائے گا۔ ان کے مطابق اس اتھارٹی کے قیام سے حکومت ذرائع ابلاغ پر اپنا مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔
تاہم صرف صحافتی حلقے ہی نہیں بلکہ سیاسی جماعتیں بھی پی ایم ڈی اے کے قیام کی مخالفت کر رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ اس قانون کے ذریعے ’حکومت اپنے جرائم پر پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا اس قانون سے فیک نیوز پر قابو پانے کا دعوی غلط ہے۔ پیپلز پارٹی کے علاوہ مسلم لیگ ن بھی اس مجوزہ قانون کی مخالفت کر چکی ہے۔ نون لیگ کی رہنما اور سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اس قانون کو نامنظور اور مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت یہ قانون اس لیے لا رہی ہے کہ کوئی اسے اگلا الیکشن چوری کرنے پر سلیکٹڈ، کرپٹ اور چور نہ کہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ آپ ملک میں بی جے پی اور نازی پارٹی کی فسطائیت پر مبنی سوچ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے تحت عمران خان سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بننا چاہتے ہیں۔
تاہم وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا ہے کہ ہمارے موجودہ میڈیا ماڈل میں عام آدمی، غریب میڈیا کارکن اور پبلک انٹرسٹ تینوں کا تحفظ نہیں ہے۔ انکا کہنا ہے کہ بلیک میلنگ کو اپنا حق قرار دینا اور اشتہار بھی لینا صرف پاکستان میں ہی ممکن ہے۔ یاد رہے فواد اس سے قبل بھی پاکستان میڈیا اتھارٹی کے ذریعے فیک نیوز پر قابو پانے اور صحافیوں کو تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری قرار دے چکے ہیں۔
پاکستان اس بات کی مثال کم ہی ملتی ہے کہ ذرائع ابلاغ کے مالکان، مدیران اور صحافتی تنظیمیں کسی معاملے پر یک زبان ہوں اور ایک ہی مطالبہ کر رہی ہوں۔ذرائع ابلاغ میں ہی چھپنے والے ان اشتہارات کے حوالے سے راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر عامر سجاد سید کا کہنا تھا کہ ’مجوزہ اتھارٹی قانون کے خلاف ان کی تنظیم نے احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آزادی صحافت کو کچلنے کے لیے صحافیوں پر قاتلانہ حملے، اغوا، گھر میں گھس کر تشدد اور ڈرانے دھمکانے کے واقعات میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لئے بطور ہتھیار ایف آئی اے کو استعمال کرنے کے خلاف آواز بلند کی جائے گی۔ پاکستان میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی جمہوریت اور جمہوری اداروں کے استحکام عدلیہ میڈیا اور شہری آزادی کی بات کرنے والے سینئر اینکرز کو ایک ایک کر کے ٹی وی اسکرین سے جبری ریٹائر کیا جا رہا ہے ایسے مسنگ اینکرز کی ٹی وی اسکرین پر بازیابی اور وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان میں سوشل میڈیا کی آزادی پر شب خون مارنے اور میڈیائی مارشل لاء کا مقابلہ کرنے کے لیے بھرپور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نیشنل پریس کلب اسلام آباد سے پارلیمنٹ ہاؤس تک ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان بھر کے جن میڈیا ورکرز اور صحافیوں کو معاشی بحران کے نام پر چینلز اور اخبارات سے جبری برطرف کیا گیا تھا ان کی بحالی اور میڈیا ہاؤسز پر آج کل اشتہارات کی بھرمار اور حکومت سے بقایاجات کی وصولی کے باوجود مختلف ٹی وی چینلز اور اخباری مالکان معاشی بحران کے نام پر ورکرز کی تنخواہوں سے ہزاروں روپے کاٹ رہے ہیں ایسے مالکان سے ورکرز کے خون پسینے کی کمائی سے کاٹی گئی تنخواہوں کی مد میں وصول، میڈیا میں 2017 والی مراعات کی بحالی اور آٹھویں ویج بورڈ ایوارڈ پر عملدرآمد کے لیے صحافتی برادری اپنی کوششیں تیز کرے گی۔
