نئے قانون سے ٹی وی چینلز پر 25کروڑ روپے تک جرمانہ ہوگا

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ مجوزہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی(پی ایم ڈی اے) کے تحت ٹی وی چینلز پر 25کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا جہاں اس سے قبل موجودہ قوانین کے تحت چینلز پر 10لاکھ روپے تک جرمانہ ہوتا ہے۔پیر کو ڈیجیٹل براڈ کاسٹرز کے ساتھ ایک نشست میں وفاقی وزیر نے نشاندہی کی کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) ایک امیر ادارہ تھا لیکن بدقسمتی سے اس نے اپنے قیام سے اب تک صحافیوں کی تربیت، تحقیق اور ڈیجیٹل میڈیا پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں میڈیا کو کنٹرول کرنے والے سات قوانین موجود ہیں، سوشل میڈیا کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے، پریس کا انتظام پریس کونسل کے پاس ہے، الیکٹرانک میڈیا کو پیمرا دیکھتا ہے، لیبر ریگولیشنز پر عملدرآمد کو ٹربیونل برائے اخبارات ملازمین (آئی ٹی این ای) دیکھتا ہے جبکہ آڈٹ بیورو آف سرکولیشن(اے بی سی) اخبار کی رجسٹریشن کے امور پر نظر رکھتا ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام قوانین کو ختم کیا جا رہا ہے تاکہ ان کی جگہ ایک اتھارٹی یعنی پی ایم ڈی اے لے سکے۔فواد چوہدری نے مزید کہا کہ مجوزہ قانون میں مجرمانہ ذمہ داری کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن اس کے تحت 25کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال تنظیمیں پیمرا کی جانب سے عائد نوٹس اور جرمانوں پر عدالت سے حکم امتناع حاصل کر لیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سینسر بورڈ بھی تحلیل ہو جائے گا اور اس کی جگہ ایک نیا ادارہ بورڈ آف فلمز سینسر قائم کیا جائے گا۔

وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ ایک میڈیا کمیشن بھی بنایا گیا ہے جس میں حکومت اور میڈیا اداروں کے چار افراد ہوں گے اور اس کی سربراہی ایک چیئرمین کرے گا، کمیشن کو مجوزہ شکایت کمیٹی اور میڈیا ٹریبونل میں لوگوں کی تقرری کے اختیارات حاصل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا ٹربیونل میڈیا ورکرز کی شکایات پر غور کر سکے گا، انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے مالکان میڈیا ٹربیونل بنانے کی مخالفت کر رہے ہیں لیکن حکومت اپنے منصوبوں پر عملدرآمد کرے گی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پی ایم ڈی اے میں ترقی کا ایک نیا شعبہ تشکیل دیا گیا ہے جس کا مقصد صحافیوں کی استعداد بڑھانا ہے کیونکہ نیوز فراہم کرنے والوں کو مسلسل تربیت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا ٹریبونل کے فیصلے حتمی ہوں گے اور انہیں صرف سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا درحقیقت مستقبل میں پاکستان کے میڈیا منظر نامے کی وضاحت کرے گا تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رسمی میڈیا ختم ہو جائے گا لیکن مواصلات کے ذرائع بدل جائیں گے۔

حکومت کا مجوزہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی(پی ایم ڈی اے) ایک ریگولیٹری ادارہ ہے جو ہر قسم کے میڈیا اور ان کے صارفین کی پیشہ ورانہ اور کاروباری ضروریات کا احاطہ کرے گا اور اس کا مقصد ۔ متعدد اداروں کی طرف سے مرتب کردہ موجودہ ریگولیٹری ماحول اور میڈیا کو تبدیل کرنا ہے۔حکومتی تجویز کے مطابق پی ایم ڈی اے پاکستان میں پرنٹ، براڈ کاسٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے ریگولیشن کی ذمے دار ہو گی۔اتھارٹی کے قیام کے لیے تیار کردہ آرڈیننس کے تحت میڈیا ریگولیشن، کنٹرول یا بالواسطہ کنٹرول سے متعلق تمام سابقہ ​​قوانین کو ختم کر دیا جائے گا اور پی ایم ڈی اے اور اس کے کاموں کو قانونی تحفظ فراہم کرتے ہوئے نئی قانون سازی کی جائے گی۔

تجویز میں کہا گیا ہے کہ پی ایم ڈی اے آرڈیننس کے تحت کیے گئے کسی بھی فیصلے کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھانے کا اختیار کسی بھی ادارے کے پاس نہیں ہو گا۔اپنے ریگولیٹری کام کے علاوہ اتھارٹی میڈیا ملازمین کی تنخواہوں کا تعین کرے گی اور تنخواہوں کے تنازعات کو حل کرے گی۔حکومتی کی مجوزہ نئی میڈیا باڈی کے قیام پر میڈیا تنظیموں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔

12 اگست کو میڈیا انڈسٹری کی تمام نمائندہ تنظیموں اور انجمنوں آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس)، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)، پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے)، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اور نیوز ڈائریکٹرز نے مجوزہ اتھارٹی کو مسترد کرتے ہوئے اسے کالا قانون قرار دیا تھا۔

ایک مشترکہ بیان میں انہوں نے قانون کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اس اقدام کو میڈیا کے تمام طبقات پر ریاستی جبر مسلط کرنے کی طرف ایک قدم قرار دیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ پی ایم ڈی اے کا مقصد اظہار رائے اور پریس کی آزادی کو دبانا ہے۔

Back to top button