نئی حکومت کو کن معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا؟

نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج معاشی ہوگا، کیونکہ مارچ میں آئی ایم ایف کا پروگرام ختم ہو رہا ہے اور پاکستان کو فوری طور پر نئے آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ بننے پڑے گا۔بلال اسلم صنعت کار ہیں، وہ امپورٹ مینوفکچرنگ سے منسلک ہیں اور ملکی معیشت پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ شدت سے انتخابات ہونے کے منتظر تھے تاکہ عوامی مینڈیٹ رکھنے والی حکومت آئے اور عام آدمی سمیت کاروباری طبقے کے بھی مسائل حل ہو سکیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث امپورٹ کرنا آسان نہیں رہا، درآمدات میں رکاوٹوں کے باعث 20 ماہ کے دوران میرے بہت سے دوست نہ صرف دبئی کی رئیل سٹیٹ میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کرنے لگے ہیں بلکہ وہاں درآمد اور برآمد کے لیے ٹریڈ ہاؤسز بھی قائم کر رہے ہیں۔موجودہ حکومت نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے۔ نگران سرکار نے بھی جاتے ہوئے گیس 67 فیصد تک مہنگی کر دی ہے۔ ان حالات میں انڈسٹری چلانا ناممکن ہے۔’آج سے تین سال پہلے میری فیکٹری کے پاس آرڈرز لینے کا وقت نہیں تھا اور آج وہ روز مرہ کے اخراجات بھی نہیں نکال پا رہی، میں نئی حکومت کو کامیاب اس وقت مانوں گا جب وہ مجھے ان مسائل سے نکالے گی،’اگر ایسی پارٹی کی حکومت بنے گی جس کے پاس عوامی مینڈیٹ سب سے زیادہ ہے تو یقیناً تاجر برادری کی اُمنگوں کے مطابق پالیسیز بنائے گی۔ سابق حکومتی مشیر ڈاکٹر فرخ سلیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’نئی حکومت کے لیے سب سے پہلا امتحان آئی ایم ایف کا آئے گا، مارچ میں پروگرام ختم ہو رہا ہے اور فوراً نئے آئی ایم ایف پروگرام میں جانا ہوگا۔ اگلا پروگرام پہلے سے بڑا ہوگا کیونکہ 25 ارب ڈالرز کے قرض ادا کرنے ہیں اور آئی ایم ایف کی سپورٹ کے بغیر ان کی ادائیگی مشکل ہو سکتی ہے۔’مہنگائی کم کرنے کے لیے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی لانا ہوگی، بجلی گیس کی قیمتیں نیچے لانے کے لیے ضروری ہے کہ توانائی کے شعبے میں چوری کو روکا جائے، ’بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں تقریباً 580 ارب روپے کا سالانہ نقصان کر رہی ہیں، گیس فراہم کرنے والی دونوں کمپنیاں تکنیکی طور پر ڈیفالٹ ہیں۔ان کے مطابق: ’تقریباً 20 فیصد گیس چوری ہوتی ہے جس پر قابو نہیں پایا جا رہا۔ نئی حکومت کے لیے ان مسائل سے نکلنا مشکل ہے، بہترین حل پرائیوٹائزیشن ہے، اس سے بجلی گیس کے ریٹس بھی نیچے آ سکتے ہیں اور گردشی قرضوں کا بوجھ بھی کم ہو سکتا ہے، پی آئی اے کو پرائیوٹائز کرنے کا اس سے بہتر طریقہ موجود نہیں ہے، مجھے امید ہے کہ نئی حکومت اس معاملے کو بہتر انداز میں لے کر چلے گی کیونکہ یہ معاملہ آئی ایس ایف سی کے سامنے بھی ہے۔سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’نئی حکومت کی معاشی پالیسیز کے حوالے سے زیادہ فکر کی ضرورت نہیں کیونکہ ملک کو معاشی طور پر سنبھالنے کے لیے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) موجود ہے۔کرنسی ایکسچینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جزل سیکریٹری ظفر پراچہ نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پاکستان میں مخلوط حکومت بننے کے امکانات ہیں۔ ایسی حکومت سے متعلق عالمی مالیاتی اداروں کی رائے زیادہ اچھی نہیں ہوتی کیونکہ کب عدم اعتماد کی تحریک آ جائے اور حکومت گھر چلی جائے، پتہ نہیں چلتا۔ اس سے معاشی پالیسیز اور سٹرکچر بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’ایک صورت میں نئی حکومت کے لیے مشکلات کم ہو سکتی ہیں۔ اگر وہ ایس آئی ایف سی کو قانونی تحفظ دیں اور اس کی پالیسیز کو آگے لے کر چلیں۔ کیونکہ یہ ادارہ تقریباً دو سال سے کام کر رہا ہے اور معاشی میدان میں کافی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
