بڑوں کے مستقبل کے فیصلے کرنے والے ’ سیاسی بچے‘ کون؟

پاکستان میں نئی حکومت سازی کے لیے بساط بچھ گئی ہے۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے نے حکومت بنانے کے لیے ہاتھ ملا لیے ہیں۔اس دوران پنجاب کے وزارت اعلیٰ کے لیے مسلم لیگ ن نے نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کو نامزد کیا جو پہلی خاتون وزیراعلیٰ ہوں گی۔ مریم نواز شریف اپنے والد نواز شریف کی غیر موجودگی میں ان کے لیے ملک میں آواز بلند کرتی رہیں۔ ان کی جانب سے تمام تر سیاسی سرگرمیوں کی ذمہ داری مریم نواز اپنے کندھوں پر لیے پارٹی پوزیشن بہتر کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔
اس دوران ان کی وجہ سے کئی تجربہ کار سیاست دان غیر واضح وجوہات کی بنا پر پارٹی سے الگ بھی ہوئے۔
پھر جب نواز شریف وطن واپس آئے تو مریم نواز کسی طرح پرسکون ہوئیں لیکن حالیہ انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مریم نواز اس دوران بھی پارٹی کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی رہی ہیں۔ پارٹی بیانیہ بنانے سے لے کر مخالفین کو جواب دینے اور پارٹی کا سیاسی رخ متعین کرنے تک مریم نواز ن لیگ کی جانب سے سیاسی داؤ پیچ طے کرتی رہیں۔
اپنی جماعت پر ان کے اثر و رسوخ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پہلی بار کسی اسمبلی میں قدم رکھنے جا رہی ہیں لیکن انہیں ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے نامزد کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے والد جو ’پاکستان کو نواز دو‘ کے نعرے کے ساتھ دوبارہ ملک میں آئے تھے، عملی طور پر اپنے اس بیانیے سے دستبردار ہو گئے ہیں،
اسی طرح انتخابی نتائج کے بعد چند سیاسی جماعتوں کی نظریں جہانگیر خان ترین کی طرف تھیں لیکن وہ عین وقت پر مستعفی ہو گئے۔ یوں جو قیاس آرائیاں آزاد امیدواروں اور جہانگیر ترین کے حوالے سے کی جا رہی تھیں، دم توڑ گئیں۔جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین یوں تو سیاسی حوالوں سے زیادہ زیر بحث نہیں آتے لیکن ان کے استعفے کے بعد جا بجا یہ بحث ہونے لگی کہ جہانگیر ترین کا استعفیٰ کہیں نہ کہیں ان کے بیٹے علی ترین کے دباؤ کی وجہ سے سامنے آیا ہے تاہم اس حوالے سے دونوں کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
علی ترین اِن دنوں پاکستان تحریک انصاف کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ حالیہ انتخابات میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر وہ پی ٹی آئی کے حق میں آواز بھی بلند کرتے رہے۔وہ پی ٹی آئی کے پولنگ کیمپ پر گئے اور وہاں پانی کی بوتلیں بھی تقسیم کیں۔ انہوں نے ایکس پر تصاویر اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا ’سیاسی حریفوں کو دشمن نہیں ہونا چاہیے۔‘جب وہ پانی کی بوتلیں تقسیم کر رہے تھے تو عمران خان زندہ باد اور جہانگیر ترین زندہ باد کے نعرے ایک ساتھ لگائے جا رہے تھے۔اسی طرح وہ کئی دیگر موقعوں پر بھی پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کے حق میں سامنے آئے۔ ان کے اِس رویے پر کئی حلقوں کی جانب سے شک ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ پی ٹی آئی میں شامل ہو سکتے ہیں اور ان کی وجہ سے جہانگیر ترین بھی دباؤ میں آگئے ہیں۔
اس طرح کی کئی دیگر مثالیں ہیں جہاں بچے اپنے والدین کے فیصلوں پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کا ذکر بھی آتا ہے جہاں پرویز الٰہی نے اپنا خاندان چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ ان سے متعلق بارہا کہا جاتا رہا کہ پرویز الٰہی مونس الٰہی کو دیکھتے ہوئے سیاسی فیصلے کرتے ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان بھی پارٹی سیاست میں مرکز نگاہ رہتے ہیں۔ پارٹی فیصلوں سے لے کر سیاسی نشیب و فراز کے حوالے سے لائحہ عمل وہی طے کرتے ہیں جبکہ ان کے والد اسفند یار ولی خان کم ہی مرکزی سیاسی منظرنامے پر نظر آتے ہیں۔ بلاول بھٹو، ایمل ولی خان اور مریم نواز اپنی جماعت تک ہی محدود رہتے ہیں تاہم مونس الٰہی اور علی ترین پی ٹی آئی کی طرف مائل رہے ہیں۔
تجزیہ کار رضوان رضی پاکستان کی خاندانی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ بچوں کی جانب سے بڑوں کی سیاست پر اثر انداز ہونے کو نئی نسل کی رجحانات سے جوڑتے ہیں۔انہوں نےبتایا کہ ’جتنے بھی نئی نسل کے سیاست دان ہیں اور وہ اپنے بڑوں کے سیاسی مستقبل کے فیصلے کرتے ہیں، ان میں مونس الٰہی کے علاوہ باقیوں کے بڑے آج کل کی سیاست میں اتنی نمایاں پوزیشن پر نہیں رہے جتنا ان کے بچوں کی انسپائریشن ہے۔‘’ان میں سے بیشتر بچوں کا پی ٹی آئی کی طرف رجحان اس لیے ہے کہ پی ٹی آئی باقی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں نئی جماعت ہے اور وہاں ان کو جگہ زیادہ معلوم ہوتی ہے۔‘
رضوان رضی کے مطابق ’اگر یہ بچے پرانی سیاسی جماعتوں میں جاتے ہیں تو یہ اُس پوزیشن سے مطمئن نہیں ہیں جو ان کے والدین کو دی گئی تھی۔ یہ بچے نئے اُفق کی طرف جانا چاہتے ہیں۔ اس طرح ان کو جہاں نئی بلندیاں دستیاب ہیں یہ اُس طرف جا رہے ہیں خواہ وہ علی ترین ہوں یا پھر مونس الٰہی۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’اگر مونس الٰہی پاکستان مسلم لیگ ق کی قیادت سنبھال لیتے ہیں تو یہ جماعت مشرف کے دور میں اپنا عروج دیکھ چکی ہے۔ اب یہ جماعت سکڑ تو سکتی ہے لیکن اس سے زیادہ پھیل نہیں سکتی۔ یوں جہاں ان کو اپنا مستقبل زیادہ روشن معلوم ہوتا ہے وہ وہاں جاتے ہیں۔ اس طرح ہمیں لگتا ہے کہ وہ اپنے بڑوںیعنی والدین کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔‘
