عمران ہاشمی رومانوی کرداروں کی قید سے کیسے آزاد ہوئے؟

معروف بالی ووڈ سٹار عمران ہاشمی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے لیے رومانوی کرداروں کی چھاپ بالکل قابل قبول نہیں تھی، اس قید سے آزادی حاصل کرنے میں 15 برس بیت گئے، عمران ہاشمی اپنے کرداروں سے بالی ووڈ میں آتے ہی چھا گئے تھے اور ان کو خاص جدوجہد نہیں کرنا پڑی تھی۔عمران ہاشمی سے ہمارا پہلا تعارف سپر ہٹ گانے ’وہ لمحے‘ سے ہوا۔ ’زہر‘ (2005) فلم کا یہ گیت اپنی کمپوزیشن اور عاطف اسلم کی آواز سے زیادہ اپنی عکس بندی سے مشہور ہوا، یہیں سے عمران ہاشمی ایک مخصوص رومانوی کردار میں بریکٹ ہو گیا جسے ’عاشق بنایا،‘ ’آوارہ پن‘ اور ’جنت‘ جیسی فلموں نے مزید پختہ کیا۔ ہمارے لیے یہ تفریح تھی لیکن عمران ہاشمی کیلئے ایک ایسی قید تھی جس سے انہیں نکلنے میں 15 برس لگ گئے، بالی وڈ میں کسی نووارد کی فلم کامیاب ہوگئی تو سمجھیں فارمولا تیار ہے۔ اسی طرح کی فلموں کا سیلاب آ جاتا ہے، خصوصاً اگر اداکار اچانک کلک کر گیا ہو۔عمران ہاشمی ایک انٹرویو میں وہ کہتے ہیں، ’بہت سارے لوگوں کے نزدیک بالی وڈ ایک بری یا غیر منصفانہ جگہ ہے، یہ محض ایک نقطہ نظر ہے۔ اگر آپ لڑ سکتے ہیں، آپ ضدی اور اَن تھک ہیں، سختیاں برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو یہ انڈسٹری آپ کے لیے گنجائش پیدا کرتی ہے۔ آج کل وہ ٹی وی سیریز ’شو ٹائم‘ کی پرموشن کر رہے ہیں جس میں بالی وڈ کی زندگی سکرین پر پیش کی جائے گی۔فلموں میں مختلف کردار نبھانے سے عمران ہاشمی کی سینما، بالی وڈ انڈسٹری اور زندگی کے بارے میں رائے بھی تبدیل ہوئی ہے، وہ کہتے ہیں، ’پہلے ولن کے بارے میں میرا خیال تھا کہ یہ انتہائی مکروہ شخص ہوتا ہے جس کی زندگی میں کچھ بھی قابل تحسین نہیں ہوتا لیکن ’ٹائیگر 3‘ کرنے کے بعد میں اب مختلف سوچتا ہوں۔ مجھے پتہ چلا کہ اینٹی ہیرو کا کردار کیا ہوتا ہے۔ ’ٹائیگر 3‘ میں میرا کردار محض برا نہیں ہے، وہ اپنی کہانی کا ہیرو ہے۔ میں کسی فلم میں ایک ہی طرح کے سطحی ولن کا کردار ادا نہیں کرنا چاہوں گا۔ میں فلم سازوں کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ولن کے کردار کو تہہ در تہہ تیار کیا۔عمران ہاشمی آج کل ساؤتھ انڈین فلم ’او جی‘ میں کام کر رہے ہیں جو رواں برس ستمبر میں سینیما گھروں کی زینت بنے گی۔ یہ ان کا ساؤتھ انڈین فلموں میں ڈیبیو ہے جسے وہ غیر معمولی کامیابی سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’بطور اداکار میں نے جتنے سنگ میل طے کیے ان میں یہ سب سے بڑا ہے۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایک ساؤتھ انڈین فلم میں کام کرنے کا موقع ملے گا لیکن یہ ایک لاجواب سکرپٹ اور ایک بہترین کردار تھا، سجیت ایک بہترین ہدایت کار ہیں جو اس فلم کو بہت بڑے کینوس پر بنا رہے ہیں۔
