گاڑی کی ٹکر نے شکتی کپور کے کیرئیر کو نیا موڑ کیسے دیا؟

بالی ووڈ فلموں میں ولن کے کردار سے شہرت حاصل کرنے والے شکتی کپور کی اپنی زندگی بھی کسی فلم سے کم نہیں ہے، فلمی دنیا میں آنے کیلئے اداکاری کی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ان کو فلموں میں کام لینے کیلئے دن رات پاپڑ بیلنے پڑے لیکن ایک دن ان کی گاڑی کو ایسی ٹکر لگی کہ اس کی بگڑی ہوئی سمت درست ہوگئی جس کے شکتی کپور نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔اگر فیروز خان اوور ٹیکنگ کرتے ہوئے شکتی کپور کی گاڑی سے اپنی گاڑی نہ ٹکراتے تو ان کا فلم کیریئر بھی بس مختلف سٹوڈیوز کے دروازوں پر ٹکر ہی مار رہا ہوتا، شکتی کپور نے جیسے ہی ایک موڑ کاٹا تو اچانک انہیں ایک زور دار جھٹکا ایسا لگا کہ یکدم ان کی پرانی گاڑی ہچکولے کھا کر رک گئی۔گاڑی میں دراصل کوئی خرابی نہیں ہوئی تھی بلکہ عقب سے آنے والی ایک عالی شان مرسیڈیز نے ان کی گاڑی کو ٹکر ماری تھی، عقبی گاڑی کی ٹکر نے جیسے ان کے دل و دماغ میں آندھیاں چلا دیں۔ غربت، مایوسی اور ناکامی کے اس دور میں گاڑی پر لگنے والی یہ ضرب انہیں اپنے دل پر لگتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اسی لیے وہ غصے سے لال ہوگئے۔لمبے چوڑھے اور سرخ و سفید شکتی کپور نے انتہائی غصے کے عالم میں گاڑی کا دروازہ کھولا اور سوچ لیا کہ اس گاڑی ڈرائیور کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑیں گے۔شکتی کپور بجلی کی تیزی کے ساتھ گاڑی سے اترے اور غضب ناک انداز سے عقب سے آنے والی اس گاڑی کی طرف بڑھے۔ اس سے پہلے کہ وہ گاڑی تک پہنچتے۔ اچانک ہی اس گاڑی کا بھی دروازہ کھلا۔ شکتی کپور جہاں تک جیسے ان کے قدم زمین پر چپک ہی گئے۔شکتی کپور کا سانس اوپر کا اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا۔ ڈرائیور کوئی اور نہیں دراز قد فیروز خان تھے جو ایک اداکار، پروڈیوسر اور ہدایتکار کی وجہ سے غیر معمولی شہرت رکھتے تھے۔ شکتی کپور نے اچانک پینترا بدلا اور فوراً التجائی انداز سے مخاطب ہوئے ’سر میں شکتی کپور، میں اداکار ہوں، مجھے ایک چانس بس ایک موقع دلا دیں۔ فیروز خان نے بھیڑ سے بچنے کے لیے دوبارہ گاڑی کا رخ کیا اور پھر اپنی گاڑی کو ریورس کرتے ہوئے جائے وقوعہ سے کم و بیش فرار ہی ہوگئے۔ادھر بے چارے شکتی کپور نے گاڑی کو مکینک تک مرمت کے لیے پہنچایا اور خود فلم اور سکرین پلے رائٹر کے کے شکلا کے گھر پیدل مار چ کرتے ہوئے گھنٹوں بعد تھکے تھکے قدموں کے ساتھ پہنچے۔شکتی کپور کو کے کے شکلا نے بتایا کہ وہ ان دنوں ایک بڑے بجٹ کی بڑی سٹار کاسٹ والی فلم ’قربانی‘ کی کہانی لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے ہدایتکارکو کسی طرح راضی کرلیا تھا لیکن آج ہی اس نے منع کردیا۔شکتی کپور نے وجہ دریافت کی تو بتایا گیا کہ ہدایتکار کو کوئی بلی آنکھوں والا وہ لمبا لڑکا چاہیے جس نے اس کی گاڑی کو ٹکر ماری ہے۔شکتی کپور نے کم و بیش چلا کر کہا کہ وہی ہیں وہ جن کی گاڑی سے فیروز خان کی گاڑی کی ٹکر ہوئی تھی۔ شکتی کپور نے اب سارا واقعہ کے کے شکلا کے گوش گزار کیا۔اب طے شدہ وقت کے مطابق کے کے شکلا، شکتی کپور کو فیروز خان کے سامنے لے کر پہنچ گئے۔ فیروز خان کہہ رہے تھے کہ وہ کسی بھی کردار کے لیے تن تنہا کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔ ان کی پوری ٹیم ہے۔ اب شکتی کپور کے حتمی فیصلے کے لیے ان کی معاونت لینی ہوگی۔ ہفتے کو وہ گھر پر ایک پارٹی رکھ رہے ہیں جس میں شکتی کپور کو بھی مدعو کیا گیا۔ اس پارٹی کے بعد ہی کاسٹ کا حتمی اعلان کیا جائے گا۔ان گنت خدشات کے ساتھ پارٹی والے دن جب وہ مقررہ مقام پر پہنچے تو ایک خلقت تھی۔ ایسے میں چند گھنٹوں بعد شکتی کپور کو یہ خوش خبری سنائی گئی کہ انہیں فیروز خان نے فلم ’قربانی‘ کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے، ونود کھنہ، فیروز خان، زینت امان اور امجد خان کی یہ فلم ’قربانی‘ چار جولائی 1980کو نمائش پذیر ہوئی تو اس نے ریکارڈ کامیابی حاصل کی۔شکتی کپور کی اداکاری کا معیار واقعی اپنے عروج پر رہا۔ وہ جب جب سکرین پر آئے دیکھنے والوں پر کپکپی طاری ہو جاتی۔ فلم میں وکرم سنگھ کا کردار نبھانے والے شکتی کپور نے اپنی اداکاری کے ذریعے ’قربانی‘ میں شامل امریش پوری تک کو پس پردہ کر دیا۔ہدایتکاروں اور پروڈیوسرز کو ایک نیا ولن شکتی کپور کی صورت میں مل گیا تھا۔ بس پھر کیا تھا ’قربانی‘ کے بعد تو جیسے شکتی کپور راتوں رات اسٹار بن چکے تھے۔ اب ولن کے لیے ہر کسی کے ذہن میں صرف شکتی کپور کا نام ہی آتا، شکتی کپور اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ جو آپ کی قسمت میں لکھا ہوتا وہ آپ کوملتا تو ضرور ہے لیکن کچھ ڈرامائی موڑ کھاتے ہوئے۔
