نئے سوشل میڈیا قوانین بے روزگاری میں اضافہ کریں گے

تحریک انصاف حکومت کی جانب سے نئے ریاستی قوانین کے ذریعے سوشل میڈیا کی آواز بند کرنے کی تازہ کوشش کے بعد ٹیکنالوجی ماہرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس جابرانہ حکومتی فیصلے سے ملک میں آنے والا خطیر زرِمبادلہ بند ہوجائے گا اور بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پاکستان میں ڈیٹا پروٹیکشن سے متعلق قوانین نہ ہونے کی وجہ سے کسی صورت یہاں اپنے دفاتر قائم نہیں کریں گے۔ چنانچہ حکومت کے اس غلط فیصلے سے لاکھوں کی تعداد میں آئی ٹی کے شعبے سے منسلک نوجوان بیروزگار ہوجائیں گے اور ملک کروڑوں ڈالر کے زرمبادلہ سے محروم ہو جائے گا۔
حکومت پاکستان کی طرف سے ٹوئٹر، فیس بک، یوٹیوب، ٹِک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا سروسز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نئے قواعد کی منظوری کے حوالے سے حکومت کا موقف ہے کہ اس سے معاشی فائدہ ہو گا جبکہ آئی ٹی ماہرین کی رائے اسکے الٹ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر غیر ملکی کمپنیوں کی طرف سے انکار پر ان کی سروسز بند کی گئیں تو پاکستان کے سٹارٹ اپس یعنی چھوٹے کاروباروں، سیاحت کی صنعت اور طالب علموں کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے گذشتہ کابینہ اجلاس میں سوشل میڈیا سروسز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قواعد و ضوابط کی منظوری دی تھی جس کے تحت ان تمام کمپنیوں کو پاکستان میں رجسٹر ہو کر اپنے دفاتر قائم کرنا ہوں گے اور پاکستان کے سائبر قوانین کے مطابق عمل کرنا ہو گا، بصورت دیگر انہیں بلاک بھی کیا جا سکے گا۔ ذرائع کے مطابق یہ قوانین وزیراعظم عمران خان کی ذاتی خواہش پر نافذ کئے گئے ہیں جو کہ ماضی میں سوشل میڈیا کی طاقت کے ذریعے اقتدار میں آنے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں لیکن اب انہیں اسی سوشل میڈیا کی تنقید گوارا نہیں۔
تاہم اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ مستقبل قریب میں ڈیجیٹل میڈیا سے آنے والی آمدن روایتی میڈیا سے زیادہ ہو گی اس لیے ضروری تھا کہ اسے ریگولیٹ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی ملک اتنے پیسے کا بغیر کسی کنٹرول کے باہر جانا برداشت نہیں کر سکتا۔ فواد چوہدری کے بقول یہ ایک معاشی فیصلہ ہے سیاسی نہیں۔
تاہم عوام کے انٹرنیٹ حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم بائٹس فارآل کے ڈائریکٹر شہزاد احمد نے حکومتی منطق مسترد کر تے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک خالصتا سیاسی فیصلہ ہے جس کا مقصد حکومت مخالف آوازوں کو سوشل میڈیا پر خاموش کروانا ہے۔ انہوں نے حکومتی قوانین کو آمرانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی 2010 سے اب تک فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب سے رابطے میں ہیں اور ان کمپنیوں نے پاکستان آنے سے آج تک مسلسل انکار کیا ہے۔ اگر تو حکومت کا مقصد یہ تھا کہ فیس بک، ٹوئٹر، گوگل، یوٹیوب اورانسٹا گرام جیسی بڑی بڑی کمپنیوں کو کسی دائرہ کار میں لایا جائے تو یہ کمپنیاں تو بالکل بھی اس امر پر تیار نہیں کہ اپنے دفاتر پاکستان لائیں اور یہاں کے قوانین کی پابند ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بہت سارے سماجی اورمعاشی فوائد ہیں۔ جو لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں وہ صرف تصویریں ہی شیئر نہیں کرتے، بہت سارے چھوٹے کاروبار سوشل میڈیا کے مرہون منت ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کے یوٹیوبر ہیں، آپ کے انٹرنیٹ مواد بنانے والے ہیں، آرٹس اور فلم کی جو ساری انڈسٹری ہے وہ اس کی مرہون منت ہے۔ آپ بہت سی ایسی جگہوں پر تکلیف پہنچانے جا رہے ہیں جس کا نقصان شاید بڑی بڑی مشہور شخصیات کوتو نہ ہو مگر چھوٹے چھوٹے جو کاروبار ہیں ان کا آپ کیا کریں گے؟ انہوں نے سوال کیا کہ ’حکومتی اقدام کے جو بہت زیادہ معاشی نقصانات ہوں گے اس کا کون ذمہ دار ہو گا؟
انٹرنیٹ پر سنسرشپ کے خلاف کام کرنے والے ادارے ’بولو بھی‘ کی شریک بانی فریحہ عزیز کہتی ہیں کہ اگر پاکستانی حکومت چاہتی ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان میں آ کر کاروبار کریں اور معاشی سرگرمی میں حصہ لیں تو اس کا یہ طریقہ نہیں کہ انہیں قواعد کے ذریعے دھمکایا جائے۔ ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب کبھی نہیں مانیں گے کہ وہ اپنا ڈیٹا سرور پاکستان لائیں خاص طور پر جبکہ پاکستان میں ڈیٹا پروٹیکشن کا قانون بھی ابھی تک نہیں بنا۔
حکومت پاکستان کی جانب سے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے نام پر بنائے جانے والے قوانین کے نفاذ کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ حکومت کے اس جابرانہ اقدام سے ملک میں آنے والے ڈالرز کم ہوجائیں گے اور بہت سے وہ لوگ جو سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا کاروبار چلا رہے تھے انہیں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے نتیجے میں بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔
