افغانستان میں پاکستانی طالبان کی یکے بعد دیگرے اموات

پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد افغانستان جا کر چھپنے والے تحریک طالبان پاکستان کے کئی مرکزی رہنما پچھلے دو ہفتوں میں یکے بعد دیگرے پراسرار طور پر مارے گئے ہیں اور خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اموات طالبان کی باہمی جنگ کا نتیجہ ہیں۔
تازہ ترین واقعے میں تحریک طالبان پاکستان کے اپنے دھڑے کے سربراہ شہریار محسود افغانستان کے صوبہ کنڑ میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ افغانستان میں چند دنوں میں پاکستانی طالبان کے یہ تیسرے رہنما ہیں جنھیں ہلاک کیا گیا ہے۔ افغانستان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہریار محسود صوبہ کنڑ کے مرورہ ڈسٹرکٹ کے علاقے دڑاڑنگ میں سڑک کنارے ایک دھماکے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب شہر یار محسود وہاں سے پیدل گزر رہے تھے۔ تحریک طالبان پاکستان کے سجنا گروپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ضرور پیش آیا ہے اور اس میں شہر یار محسود مارے گئے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے پولی ٹیکنیکل کالج سے الیکٹریکل کا ڈپلومہ حاصل کرنے والے شہریار محسود کب طالبان کا حصہ بن گئے اس کی تفصیل ان کے قریبی ساتھی بھی نہیں جانتے۔ شہریار محسود کا تعلق جنوبی وزیرستان کی تحصیل لدھا کے گاؤں زنگڑ سے تھا۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی اور پھر ڈیرہ اسماعیل خان میں الیکٹریکل کا ڈپلومہ حاصل کرنے کے لیے گورنمنٹ پولی ٹیکنیکل کالج میں داخلہ لیا تھا۔ ان دنوں میں قبائلی علاقوں میں طالبان حاوی تھے اور ان کے پاس بہت وسائل تھے جس وجہ سے اکثر نوجوان ان کی طرف راغب ہوتے تھے۔ طالبان کے پیغامات سے متاثر ہو کر شہریار محسود بھی ان کا حصہ بن گئے تھے اور تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے قریبی ساتھیوں میں شامل ہو گئے تھے۔
حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کی سربراہی کے لیے اختلاف کھل کر سامنے آگئے تھے۔ ایک جانب خالد سجنا اور دوسری جانب شہریار محسود تھے۔ شہریار محسود نے خالد سجنا کو ٹی ٹی پی کا سربراہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد دونوں گروہوں میں جھڑپیں بھی ہوئی تھیں جس میں متعدد طالبان ہلاک ہو گئے تھے۔ بعد ازاں خالد سجنا کی ہلاکت کے بعد بھی دونوں جانب سے اختلافات ختم کرنے کے لیے کوششیں کی گئیں اور ایسی اطلاعات بھی آئیں کہ یہ اختلافات ختم ہو چکے ہیں۔ خالد سجنا گروپ کی قیادت اس وقت مولوی نور ولی کر رہے ہیں جبکہ شہر یار محسود اپنے دھڑے کے سربراہ تھے۔ قبائلی علاقوں میں آپریشن ضربِ عضب شروع ہونے کے بعد متعدد طالبان روپوش ہو گئے تھے اور اکثر کے بارے میں یہی اطلاع تھی کہ وہ افغانستان کے پہاڑی علاقوں جیسے کنڑ اور ننگرہار کے کچھ علاقوں میں موجود ہیں۔ شہر یار محسود بھی تین سال سے افغانستان کے ہی انھی علاقوں میں مقیم تھے۔
گذشتہ کچھ دنوں میں افغانستان میں یہ تیسرے پاکستانی طالبان رہنما ہیں جنھیں ہلاک کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے کابل میں دو افراد کی ہلاکت کی خبریں سامنے آئی تھیں لیکن ان کی شناخت کے بارے میں کچھ وضاحت نہیں کی گئی تھی۔ تاہم بعد میں ان دونوں افراد کی شناخت خالد حقانی اور قاری سیف یونس کے نام سے کی گئی تھی۔ شیخ خالد حقانی اور قاری سیف یونس پشاوری کی ہلاکت کی تصدیق تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی ترجمان محمد عمر خراسانی نے کی تھی اور کہا تھا کہ شیخ خالد حقانی اپنے ساتھی کے ہمراہ 31 جنوری سے چند روز پہلے ایک جھڑپ میں ہلاک ہو گئے تھے۔
افغانستان میں پاکستانی طالبان کے حوالے سے رائے منقسم ہے تاہم ایک رائے یہ بھی سامنے آ رہی ہے کہ شہریار محسود کے اختلافات چونکہ طالبان کے مخالف گروہ سے تھے تو ہو سکتا ہے کہ وہ انھی کا نشانہ بنے ہوں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ شہریار محسود نامعلوم افراد کے حملے کا نشانہ بنے ہوں تاہم اس بارے میں تفتیش کے بعد ہی تمام صورتحال سامنے آ سکے گی۔
