نائن الیون کے 19 سال: القاعدہ اس وقت کہاں ہے اور کتنی طاقتور ہے؟

امریکہ میں 11 ستمبر 2001 کو ہونے والے حملوں کے آج 19 سال مکمل ہو چکے ہیں، اور ان حملوں میں جو تنظیم ملوث تھی وہ آج ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
ماضی میں افغانستان سے کام کرنے والی شدت پسند تنظیم القاعدہ کی شام میں کام کرنے والی شاخ کو اس سال جون میں اس کے حریف گروپ نے شکست دے دی تھی۔ اس کے بعد یمن میں اسے مقامی باغیوں کے ہاتھوں شکست اٹھانی پڑی جب اس کے ایک رہنما امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے۔ اس تنظیم کی شمالی افریقی برانچ کے رہنما کی موت بھی جون میں واقع ہوئی جب افریقی ملک مالی میں فرنچ حملوں میں انہیں نشانہ بنایا گیا، اور اس کے بعد سے تنظیم کا کوئی رہنما نامزد نہیں کیا گیا ہے۔ دوسری جانب القاعدہ کے مرکزی رہنما، ایمن الظواہری گزشتہ کافی عرصے سے خاموش ہیں جس کے باعث مختلف حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا وہ بیمار ہیں یا ان کی وفات ہو چکی ہے۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ ان تمام واقعات کے باوجود القاعدہ کی صومالیہ اور مالی میں کام کرنے والی شاخیں ابھی بھی بہت موثر ہیں۔ نظریاتی طور پر القاعدہ گومگو کی حالت میں ہے۔ آیا وہ خود کو تبدیل کریں اور اپنے طریقہ کار میں جدت پیدا کریں تاکہ وہ نئے سرے سے مسلمانوں کو اپنی تنظیم میں شامل کر سکیں یا وہ جہادی اصولوں پر کاربند رہیں اور غیر مقبول ہوتے چلے جائیں۔ اور دونوں ہی راستے بہت پرخطر ہیں۔
اگر وہ جدت پسندی کا راستہ اپناتے ہیں تو وہ اپنی تنظیم کو جہادی نہیں کہلا سکیں گے اور اس سے ممکن ہے کہ تنظیم کے قدامت پسند افرادی سپورٹ تقسیم ہو جائے اور انہیں چھوڑ دے۔ اور اگر وہ دوسرا راستہ اپناتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ ان کے کام کرنے کی صلاحیت انتہائی کم ہو جائے جو کہ ممکنہ طور پر تنظیم کے مکمل خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔
شام میں القاعدہ کی نمائندگی کرنے والے تنظیم کا نام حوراس الدین ہے جو اپنے آپریشنز کو وسعت دینے میں ناکام رہی ہے۔ اس کی ناکامی کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہاں مختلف جہادی تنظیمیں ایک ساتھ کام کر رہی ہیں، اور پھر دوسری جانب ان کو امریکیوں کی جانب سے سخت نگرانی کا سامنا ہے جو کہ ان کی کارروائیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس تنظیم کو ایک اور مشکل یہ ہے کہ شام میں انہیں زیادہ مقبولیت حاصل نہیں ہے اور وہاں کی عوام انہیں القاعدہ کے طور پر دیکھتے ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ اس کی وجہ سے شام کے خلاف بین الاقومی ایکشن لیا جائے گا۔ حوراس الدین گزشتہ دو ماہ سے غیر فعال ہے، اس وقت سے جب شام کی مقامی جہادی تنظیموں کی جانب سے ان کے خلاف ایکشن لیا گیا تھا اور تنظیم کے سینئر رہنماؤں کے خلاف امریکیوں نے فضائی حملے کیے تھے۔ القاعدہ کی یمن کی شاخ، جسے القاعدہ جزیرہ نما عرب بھی (اے کیو اے پی) کہا جاتا ہے، کبھی القاعدہ کی سب سے خطرناک شاخ ہوا کرتی تھی لیکن اس سال انہیں مسلسل نقصان پہنچا ہے اور وہ کافی عرصے سے غیر فعال ہیں۔
اس سال جنوری میں امریکی ڈرون حملے میں ان کے رہنما کو ہلاک کر دیا گیا اور حال میں یمن کے بیدا صوبے میں انہیں حوثی باغیوں کے ہاتھوں شکست ہو گئی۔ اس کے علاوہ برسوں سے مختلف جاسوس تنظیم میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ ان کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا سکے اور اس کے علاوہ تنظیم میں کافی پھوٹ بھی جاری ہے۔ لیکن رواں برس ایک واقعہ ایسا ہوا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اے کیو اے پی ابھی بھی اپنا وہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس سے مغربی ممالک سب سے زیادہ پریشان ہیں: لون وولف اٹیک یعنی اکیلے حملہ کر دینا، بالخصوص مغربی ممالک میں۔ فروری میں تنظیم نے اعتراف کیا کہ وہ گزشتہ سال دسمبر میں امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں کیے جانے والے حملے کے میں ان کا ہاتھ تھا۔ حملہ سعودی فوج سے تعلق رکھنے والے محمد ال شمرانی نے کیا تھا۔ دوسری طرف اگر القاعدہ اسلام مغرب (اے کیو آئی ایم) کی بات کریں تو وہ تنظیم کی سب سے غیر فعال شاخوں میں سے ایک ہے جن کے رہنما کو جون میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔
تین ماہ بعد گزرنے کے بعد بھی شمالی افریقہ میں کام کرنے والی اس شاخ نے اپنے الجزائری رہنما کی موت کے بعد کسی جانشین کو نامزد نہیں کیا ہے۔ یہ البتہ واضح نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہے، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ کسی گروہ کےلیے قائد کا نہ ہونا اس گروہ کی ناکامی ظاہر کرتا ہے۔ شمالی افریقہ ایک ایسا خطہ رہا ہے جہاں القاعدہ کو اپنے پنجے گاڑنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مارچ 2017 میں قائم ہونے والی تنظیم جماعت نصرت الاسلام والمسلمین (جے این آئی ایم) مالی، برکینا فاسو اور نائیجر میں کام کرتی ہے اور صومالیہ میں کام کرنے والی القاعدہ کی ذیلی تنظیم الشباب کے بعد القاعدہ کی سب سے زیادہ فعال شاخ ہے۔ جے این آئی ایم کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کا مرکز مقامی اور غیر مقامی، بالخصوص فرانسیسی فوجیوں پر ہوتا ہے جو ساحل کے علاقے میں موجود ہیں۔ لیکن حال میں نظر یہ آیا ہے کہ انہیں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف مقابلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سال فروری میں جے این آئی ایم نے مالی کی حکومت کو اشارہ دیا تھا کہ وہ ان سے مذاکرات کےلیے تیار ہیں لیکن پھر وہاں اگست میں فوجی بغاوت کے بعد حکومت تبدیل ہوگئی اور ایک بار معاملات التواء کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس بارے میں قطعی طور پر کوئی شک نہیں ہے کہ الشباب القاعدہ کی ذیلی تنظیموں میں سب سے زیادہ طاقتور اور خطرناک تنظیم ہے۔ ان کے پاس صومالیہ کے وسطی اور جنوبی حصے میں مختلف علاقوں پر کنٹرول ہے۔ اس کے علاوہ وہ اکثر اوقات صومالیہ کے دیگر علاقوں اور حتی کہ پڑوسی ملک کینیا میں بھی انہوں نے حملے کیے ہیں۔ اس سال جنوری میں انہوں نے کینیا میں امریکی فوجی اڈے مانڈا بے پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں تین امریکی ہلاک اور کئی جہاز تباہ ہوگئے۔ اس کے علاوہ اگست میں الشباب نے موغادیشو میں ایک ہوٹل پر حملہ کیا جس میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے۔ الشباب اور جے این آئی ایم کے کامیاب حملوں نے القاعدہ کو حوصلہ دیا جس کے بعد انھوں نے 2019 میں پراپگینڈا مہم کا آغاز کیا جس کی توجہ یروشلم پر تھی، اور اسی مہم کو انہوں نے 2020 میں مزید پروان چڑھایا۔ اس مہم کا مقصد ‘فلسطین کی آزادی’ ہے اور وہ امریکہ کو اپنا سب سے بڑا حریف قرار دیتے ہیں۔
القاعدہ کے مرکزی لیڈر ایمن الظواہری نے اس سال صرف ایک ویڈیو جاری کی ہے جو کہ مئی میں سامنے آئی تھی۔ اس کے جاری ہونے سے ایک ماہ قبل یہ خبریں چل رہی تھی کہ ایمن الظواہری شاید بیمار ہوگئے ہیں یا ان کی موت واقع ہوگئی ہے۔ یہ اس لیے کہا جا رہا تھا کیوں کہ اہم واقعات پر ان کی جانب سے عمومی طور پر پیغام جاری کیا جاتا ہے لیکن ایسا نہیں ہو رہا تھا۔ اس کے علاوہ القاعدہ کی مرکزی قیادت کے کئی اہم رہنما گزشتہ برسوں میں افغانستان اور پاکستان میں ہلاک کر دیے گئے ہیں یا ان کو شام میں ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔ فروری میں امریکہ اور افغان طالبان کے مابین ہونے والے امن معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ طالبان کسی بین الاقوامی جہادی گروہ کو پناہ نہیں دے گا، اور یہ القاعدہ کےلیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ لیکن القاعدہ نے اپنے طور پر کوشش جاری رکھی ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیندا ہونے والے بحران اور امریکی میں نسلی مظاہروں کی آڑ میں امریکی حکومت کے خلاف مہم جاری رکھیں۔ القاعدہ کی جانب سے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں پیغامات دیے گئے کہ ان کی حکومت اس بحران میں ان کی مدد کرنے سے قاصر رہی اور افریقی امریکیوں کے ساتھ ‘متعصبانہ’ رویے ختم کرنے کےلیے ہتھیار اٹھانے کی ضرورت ہے۔ لیکن امید نہیں ہے کہ القاعدہ کی جانب سے امریکی عوام کو دیے جانے والے پیغام کا کوئی اثر ہوگا بھی یا نہیں، خاص طور پر پیغام دینے والی تنظیم سے خود امریکی سرزمین پر سب سے بڑا دہشت گردی کا واقعہ سرزد ہوا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button